<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 20:32:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 20:32:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یوکرین کے اپنے یوم آزادی پر روس پر ڈرون حملے، ایٹمی بجلی گھر میں آگ لگ گئی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1267483/</link>
      <description>&lt;p&gt;یوکرین نے اپنا یوم آزادی منانے کے دوران اتوار کو روس پر ڈرون حملوں کی ایک نئی لہر شروع کر دی، جس کے نتیجے ایک ایٹمی بجلی گھر میں آگ بھڑک اٹھی، یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے، جب امن کی کوششوں کی امیدیں مدھم پڑتی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روسی اور یوکرینی صدور کے درمیان ملاقات کرانے کی کوششوں کے بعد بھی امن کے امکانات جمعہ کو اس وقت ختم ہوتے دکھائی دیے، جب روس نے ولادیمیر پیوٹن اور ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان فوری ملاقات کو خارج از امکان قرار دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساڑھے تین سال سے جاری جنگ میں کئی ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تنازع جمود کا شکار ہے، تاہم روس نے حالیہ دنوں میں کچھ پیش رفت کی ہے اور ہفتے کے روز مشرقی ڈونیٹسک خطے میں دو دیہات پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرین نے اتوار کو جوابی کارروائی کرتے ہوئے روسی علاقے پر ڈرون حملے کیے، جن میں سے ایک کو مغربی روس میں واقع کورسک نیوکلیئر پاور پلانٹ کے اوپر مار گرایا گیا، یہ ڈرون ٹکرانے کے بعد پھٹ گیا اور آگ لگ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1267299"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
بجلی گھر کے حکام کے مطابق آگ پر قابو پا لیا گیا اور کوئی جانی نقصان یا تابکاری میں اضافہ نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی بارہا خبردار کر چکی ہے کہ یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد سے ایٹمی تنصیبات کے آس پاس لڑائی کے سنگین خطرات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روسی حکام نے کہا کہ یوکرینی ڈرونز کو محاذِ جنگ سے دور علاقوں میں بھی مار گرایا گیا، جن میں شمال مغربی شہر سینٹ پیٹرزبرگ بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقائی گورنر الیگزاندر دروزدنکو نے ’ٹیلی گرام‘ پر بتایا کہ خلیجِ فن لینڈ پر واقع اُست-لوگا بندرگاہ کے اوپر 10 ڈرون مار گرائے گئے، جس سے روسی توانائی کمپنی نوواتیک کے فیول ٹرمینل میں آگ بھڑک اٹھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرین کی نسبتاً چھوٹی اور کم اسلحے سے لیس فوج نے روس کے حملے کا جواب دینے کے لیے خاص طور پر تیل کے ڈھانچوں کو نشانہ بنانے کے لیے بڑی حد تک ڈرونز پر انحصار کیا ہے، تاکہ ماسکو کے آمدنی کے اس بڑے ذریعے کو متاثر کیا جا سکے، جو جنگ کو مالی مدد فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان حملوں کے بعد روس کو ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنا پڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر یوکرین نے کہا کہ روس نے رات کے وقت اس پر ایک بیلسٹک میزائل اور 72 ایرانی ساختہ ڈرونز سے حملہ کیا، جن میں سے 48 کو فضائیہ نے مار گرایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر نے بتایا کہ روسی ڈرون حملے میں مشرقی علاقے دنیپروپیٹروسک میں ایک 47 سالہ خاتون ہلاک ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="یوکرین-مظلوم-نہیں-لڑاکا-ہے" href="#یوکرین-مظلوم-نہیں-لڑاکا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;‘یوکرین مظلوم نہیں لڑاکا ہے’&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;یہ تازہ جھڑپیں ایسے وقت میں ہوئیں جب یوکرین نے 1991 میں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد حاصل کی گئی آزادی کی سالگرہ منائی, زیلنسکی نے یومِ آزادی کے خطاب میں کہا کہ
یہ ہے یوکرین کی جنگ، جب اس کی امن کی اپیلوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1267050"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
انہوں نے مزید کہا کہ آج امریکا اور یورپ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ: یوکرین نے ابھی مکمل فتح حاصل نہیں کی، لیکن یہ یقینی طور پر ہارے گا بھی نہیں، یوکرین نے اپنی آزادی محفوظ کر لی ہے، یوکرین کوئی مظلوم نہیں، یہ لڑاکا ملک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی تقریبات میں شرکت کے لیے کیف پہنچے اور یوکرین کے لیے منصفانہ اور پائیدار امن کی اپیل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیلنسکی نے دیگر عالمی رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا، جن میں ٹرمپ، چینی صدر شی جن پنگ، برطانوی بادشاہ چارلس اور پوپ شامل ہیں، جنہوں نے اس موقع پر پیغامات بھیجے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال روس یوکرین کے لگ بھگ پانچویں حصے پر قابض ہے، جن میں 2014 میں ضم کیا گیا کریمیا بھی شامل ہے، اس جنگ نے لاکھوں افراد کو اپنے گھروں سے بے دخل کر دیا ہے اور یوکرین کے مشرقی اور جنوبی حصوں میں شہروں اور دیہات کو تباہ کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیوٹن بارہا یوکرین اور مغرب کی طرف سے فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کی اپیلوں کو مسترد کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا کہ پیوٹن اور زیلنسکی کے درمیان کسی ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، کیوں کہ ٹرمپ کی ثالثی کی کوششیں رُک گئی ہیں، جب کہ زیلنسکی نے روس پر جنگ کو طول دینے کا الزام لگایا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یوکرین نے اپنا یوم آزادی منانے کے دوران اتوار کو روس پر ڈرون حملوں کی ایک نئی لہر شروع کر دی، جس کے نتیجے ایک ایٹمی بجلی گھر میں آگ بھڑک اٹھی، یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے، جب امن کی کوششوں کی امیدیں مدھم پڑتی جا رہی ہیں۔</p>
<p>فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روسی اور یوکرینی صدور کے درمیان ملاقات کرانے کی کوششوں کے بعد بھی امن کے امکانات جمعہ کو اس وقت ختم ہوتے دکھائی دیے، جب روس نے ولادیمیر پیوٹن اور ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان فوری ملاقات کو خارج از امکان قرار دیا گیا تھا۔</p>
<p>ساڑھے تین سال سے جاری جنگ میں کئی ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تنازع جمود کا شکار ہے، تاہم روس نے حالیہ دنوں میں کچھ پیش رفت کی ہے اور ہفتے کے روز مشرقی ڈونیٹسک خطے میں دو دیہات پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔</p>
<p>یوکرین نے اتوار کو جوابی کارروائی کرتے ہوئے روسی علاقے پر ڈرون حملے کیے، جن میں سے ایک کو مغربی روس میں واقع کورسک نیوکلیئر پاور پلانٹ کے اوپر مار گرایا گیا، یہ ڈرون ٹکرانے کے بعد پھٹ گیا اور آگ لگ گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1267299"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
بجلی گھر کے حکام کے مطابق آگ پر قابو پا لیا گیا اور کوئی جانی نقصان یا تابکاری میں اضافہ نہیں ہوا۔</p>
<p>بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی بارہا خبردار کر چکی ہے کہ یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد سے ایٹمی تنصیبات کے آس پاس لڑائی کے سنگین خطرات موجود ہیں۔</p>
<p>روسی حکام نے کہا کہ یوکرینی ڈرونز کو محاذِ جنگ سے دور علاقوں میں بھی مار گرایا گیا، جن میں شمال مغربی شہر سینٹ پیٹرزبرگ بھی شامل ہے۔</p>
<p>علاقائی گورنر الیگزاندر دروزدنکو نے ’ٹیلی گرام‘ پر بتایا کہ خلیجِ فن لینڈ پر واقع اُست-لوگا بندرگاہ کے اوپر 10 ڈرون مار گرائے گئے، جس سے روسی توانائی کمپنی نوواتیک کے فیول ٹرمینل میں آگ بھڑک اٹھی۔</p>
<p>یوکرین کی نسبتاً چھوٹی اور کم اسلحے سے لیس فوج نے روس کے حملے کا جواب دینے کے لیے خاص طور پر تیل کے ڈھانچوں کو نشانہ بنانے کے لیے بڑی حد تک ڈرونز پر انحصار کیا ہے، تاکہ ماسکو کے آمدنی کے اس بڑے ذریعے کو متاثر کیا جا سکے، جو جنگ کو مالی مدد فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>ان حملوں کے بعد روس کو ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنا پڑا ہے۔</p>
<p>ادھر یوکرین نے کہا کہ روس نے رات کے وقت اس پر ایک بیلسٹک میزائل اور 72 ایرانی ساختہ ڈرونز سے حملہ کیا، جن میں سے 48 کو فضائیہ نے مار گرایا تھا۔</p>
<p>گورنر نے بتایا کہ روسی ڈرون حملے میں مشرقی علاقے دنیپروپیٹروسک میں ایک 47 سالہ خاتون ہلاک ہو گئی۔</p>
<h1><a id="یوکرین-مظلوم-نہیں-لڑاکا-ہے" href="#یوکرین-مظلوم-نہیں-لڑاکا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>‘یوکرین مظلوم نہیں لڑاکا ہے’</h1>
<p>یہ تازہ جھڑپیں ایسے وقت میں ہوئیں جب یوکرین نے 1991 میں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد حاصل کی گئی آزادی کی سالگرہ منائی, زیلنسکی نے یومِ آزادی کے خطاب میں کہا کہ
یہ ہے یوکرین کی جنگ، جب اس کی امن کی اپیلوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1267050"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
انہوں نے مزید کہا کہ آج امریکا اور یورپ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ: یوکرین نے ابھی مکمل فتح حاصل نہیں کی، لیکن یہ یقینی طور پر ہارے گا بھی نہیں، یوکرین نے اپنی آزادی محفوظ کر لی ہے، یوکرین کوئی مظلوم نہیں، یہ لڑاکا ملک ہے۔</p>
<p>کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی تقریبات میں شرکت کے لیے کیف پہنچے اور یوکرین کے لیے منصفانہ اور پائیدار امن کی اپیل کی۔</p>
<p>زیلنسکی نے دیگر عالمی رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا، جن میں ٹرمپ، چینی صدر شی جن پنگ، برطانوی بادشاہ چارلس اور پوپ شامل ہیں، جنہوں نے اس موقع پر پیغامات بھیجے۔</p>
<p>فی الحال روس یوکرین کے لگ بھگ پانچویں حصے پر قابض ہے، جن میں 2014 میں ضم کیا گیا کریمیا بھی شامل ہے، اس جنگ نے لاکھوں افراد کو اپنے گھروں سے بے دخل کر دیا ہے اور یوکرین کے مشرقی اور جنوبی حصوں میں شہروں اور دیہات کو تباہ کر دیا ہے۔</p>
<p>پیوٹن بارہا یوکرین اور مغرب کی طرف سے فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کی اپیلوں کو مسترد کر چکے ہیں۔</p>
<p>جمعہ کو روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا کہ پیوٹن اور زیلنسکی کے درمیان کسی ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، کیوں کہ ٹرمپ کی ثالثی کی کوششیں رُک گئی ہیں، جب کہ زیلنسکی نے روس پر جنگ کو طول دینے کا الزام لگایا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1267483</guid>
      <pubDate>Sun, 24 Aug 2025 15:31:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/08/241521436229445.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/08/241521436229445.jpg"/>
        <media:title>روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ پیوٹن اور زیلنسکی کے درمیان کسی ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
—فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
