<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 29 May 2026 00:15:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 29 May 2026 00:15:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد ہائیکورٹ نے 18 افغان شہریوں کو واپس بھیجنے کی کارروائی معطل کر دی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1267545/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ نے 18 افغان شہریوں کو واپس بھجوانے کی کارروائی کو آگے بڑھانے سے روک دیا، عدالت عالیہ نے وزارت داخلہ، نادرا، ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) امیگریشن، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے افغان شہریوں کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔ عدالتی حکم نامے کے مطابق حکومت نے 4 اگست کو درخواست گزاروں کے پروف آف ریذیڈنس (پی او آر) کارڈز منسوخ کر کے واپسی کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ درخواست گزاروں کے وکیل کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار فضل الرحمٰن نامی شخص کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، فضل الرحمٰن مرحوم نے سال 2008 میں تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد شہریت کے لیے درخواست دی تھی، تاہم شہریت کی درخواست پر تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1265456"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی حکم نامے کے مطابق درخواست گزاروں کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی بھی روکی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے فریقین کو حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر پیراوائز کمنٹس جمع کرائیں، کیس کی آئندہ سماعت 18 ستمبر کو مقرر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ  رواں ماہ وفاقی حکومت نے &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1266006"&gt;&lt;strong&gt;صوبوں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو مطلع کیا تھا کہ پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈ رکھنے والے 13 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی باقاعدہ وطن واپسی اور ملک بدری کا عمل یکم ستمبر سے شروع کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ یہ فیصلہ وزارت داخلہ کے 31 جولائی کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ پی او آر کارڈ ہولڈرز، جو کہ پاکستان میں بغیر ویزا قانونی طور پر مقیم آخری افغان باشندے تھے، 30 جون کو کارڈز کی مدت ختم ہونے کے بعد غیر قانونی رہائشی تصور کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت داخلہ کی جانب سے 4 اگست کو چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹریز اور آئی جی صاحبان کو ایک خط بھیجا گیا جس میں غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے موجودہ منصوبے (آئی ایف آر پی) پر عملدرآمد کی تفصیلات فراہم کی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد ہائی کورٹ نے 18 افغان شہریوں کو واپس بھجوانے کی کارروائی کو آگے بڑھانے سے روک دیا، عدالت عالیہ نے وزارت داخلہ، نادرا، ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) امیگریشن، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے افغان شہریوں کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔ عدالتی حکم نامے کے مطابق حکومت نے 4 اگست کو درخواست گزاروں کے پروف آف ریذیڈنس (پی او آر) کارڈز منسوخ کر کے واپسی کا حکم دیا تھا۔</p>
<p>حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ درخواست گزاروں کے وکیل کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار فضل الرحمٰن نامی شخص کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، فضل الرحمٰن مرحوم نے سال 2008 میں تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد شہریت کے لیے درخواست دی تھی، تاہم شہریت کی درخواست پر تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1265456"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>عدالتی حکم نامے کے مطابق درخواست گزاروں کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی بھی روکی جاتی ہے۔</p>
<p>عدالت نے فریقین کو حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر پیراوائز کمنٹس جمع کرائیں، کیس کی آئندہ سماعت 18 ستمبر کو مقرر کی گئی ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ  رواں ماہ وفاقی حکومت نے <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1266006"><strong>صوبوں</strong></a> کو مطلع کیا تھا کہ پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈ رکھنے والے 13 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی باقاعدہ وطن واپسی اور ملک بدری کا عمل یکم ستمبر سے شروع کیا جائے گا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ یہ فیصلہ وزارت داخلہ کے 31 جولائی کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ پی او آر کارڈ ہولڈرز، جو کہ پاکستان میں بغیر ویزا قانونی طور پر مقیم آخری افغان باشندے تھے، 30 جون کو کارڈز کی مدت ختم ہونے کے بعد غیر قانونی رہائشی تصور کیے جائیں گے۔</p>
<p>وزارت داخلہ کی جانب سے 4 اگست کو چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹریز اور آئی جی صاحبان کو ایک خط بھیجا گیا جس میں غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے موجودہ منصوبے (آئی ایف آر پی) پر عملدرآمد کی تفصیلات فراہم کی گئی تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1267545</guid>
      <pubDate>Mon, 25 Aug 2025 15:33:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/08/2512412646b470b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/08/2512412646b470b.webp"/>
        <media:title>عدالت نے فریقین کو حکم دیا کہ پیراوائز کمنٹس جمع کرائیں، آئندہ سماعت 18 ستمبر کو مقرر کی گئی ہے — فائل فوٹو: اےایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
