<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style - Celebrity</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 14 May 2026 14:36:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 14 May 2026 14:36:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کہانیاں نہ ہونے اور فضول کی لڑائیاں دکھانے پر فلم انڈسٹری تباہ ہوئی، سعود</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1267964/</link>
      <description>&lt;p&gt;ماضی کے مقبول فلمی ہیرو سعود نے کہا ہے کہ لاہور فلم انڈسٹری جسے لولی وڈ میں کہا جاتا تھا، وہ کمزور فلمی کہانیاں دکھانے اور فلموں میں فضول کی لڑائیاں دکھانے کی وجہ سے بھی تباہ ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعود قاسمی نے حال ہی میں ’مذاق رات‘ میں &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=6X_AjFqvWWg"&gt;&lt;strong&gt;شرکت&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کی، جہاں انہوں نے مختلف معاملات پر کھل کر بات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اداکار کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلی بار اپنی اہلیہ کو کراچی میں ایک شادی کی تقریب میں دیکھا، جس کے بعد انہوں نے ان کے گھر رشتہ بھیجا اور ان کے رشتے کی بات کرنے متعدد اداکار ان کے ساتھ گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اسی طرح کراچی میں ہی شادی کی ایک تقریب میں فلم ساز پرویز ملک کے بھائی نے انہیں دیکھ کر کہا کہ ان کے بھائی فلم بنا رہے ہیں اور وہ انہیں کاسٹ کرنا چاہتے ہیں، اسی طرح انہیں پہلی فلم کی پیش کش ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1250062"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اداکار کے مطابق انہوں نے پرویز کلیم کی فلم ’گناہ‘ سے کیریئر کا آغاز کیا اور خوش قسمتی سے ان کی پہلی ہی فلم کامیاب گئی، جس کے بعد وہ اداکاری ہی کرتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ انہیں اداکاری کرنے کا کوئی شوق نہیں تھا، انہوں نے مذاق مذاق میں فلم کی اور سوچا کہ مستقبل میں جب ان کے بچے ہوں گے تو وہ انہیں اپنی فلم دکھا کر کہیں گے کہ وہ بھی کبھی اداکار ہوا کرتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں سعود نے بتایا کہ ماضی کی پاکستانی فلموں میں ہیرو اور غنڈے کی لڑائی کسی لڑکی پر نہیں بلکہ ذاتی دشمنی پر ہوتی تھی اور فضول میں ہیرو 250 اور ولن 200 بندے مار دیتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی کی فلم انڈسٹری کی تباہی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ لولی وڈ تباہ ہونے اور لاہور میں بنے ہوئے فلم اسٹوڈیوز کی بندش سے اداکاروں کے علاوہ تمام تکنیکی افراد بے روزگار ہوگئے، وہ آج بھی شدید مالی مشکلات میں زندگی گزار رہے ہیں جب کہ متعدد افراد کسم پرسی کی زندگی گزار کر چل بسے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی فلم انڈسٹری تباہ ہونے کی متعدد وجوہات ہیں اور تمام افراد نے مل کر انڈسٹری کو تباہ کیا، وہ بھی اس کے ذمہ دار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعود کے مطابق ماضی میں ہدایت کاروں کے ساتھ ساتھ اداکاروں کے پاس بھی وقت نہیں ہوتا تھا، فلموں میں کوئی کہانی نہیں ہوتی تھی، ہر وقت مار دھاڑ دکھائی جاتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ فلموں میں اگر ہیرو 200 بندے مارتا تھا تو ولن بھی اتنے ہی 200 بندے مار دیتا تھا، ہیرو اور غنڈے کا کوئی فرق نہیں تھا، جس وجہ سے بلآخر فلم انڈسٹری تباہ ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اداکار نے کہا کہ فلمی حالات خراب ہونے سے قبل ہی 2005 میں لاہور چھوڑ کر کراچی منتقل ہوگئے تھے اور بعد میں باقی اداکار اور ہدایت کار بھی کراچی آگئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ماضی کے مقبول فلمی ہیرو سعود نے کہا ہے کہ لاہور فلم انڈسٹری جسے لولی وڈ میں کہا جاتا تھا، وہ کمزور فلمی کہانیاں دکھانے اور فلموں میں فضول کی لڑائیاں دکھانے کی وجہ سے بھی تباہ ہوئی۔</p>
<p>سعود قاسمی نے حال ہی میں ’مذاق رات‘ میں <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=6X_AjFqvWWg"><strong>شرکت</strong></a> کی، جہاں انہوں نے مختلف معاملات پر کھل کر بات کی۔</p>
<p>اداکار کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلی بار اپنی اہلیہ کو کراچی میں ایک شادی کی تقریب میں دیکھا، جس کے بعد انہوں نے ان کے گھر رشتہ بھیجا اور ان کے رشتے کی بات کرنے متعدد اداکار ان کے ساتھ گئے تھے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ اسی طرح کراچی میں ہی شادی کی ایک تقریب میں فلم ساز پرویز ملک کے بھائی نے انہیں دیکھ کر کہا کہ ان کے بھائی فلم بنا رہے ہیں اور وہ انہیں کاسٹ کرنا چاہتے ہیں، اسی طرح انہیں پہلی فلم کی پیش کش ہوئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1250062"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اداکار کے مطابق انہوں نے پرویز کلیم کی فلم ’گناہ‘ سے کیریئر کا آغاز کیا اور خوش قسمتی سے ان کی پہلی ہی فلم کامیاب گئی، جس کے بعد وہ اداکاری ہی کرتے رہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ انہیں اداکاری کرنے کا کوئی شوق نہیں تھا، انہوں نے مذاق مذاق میں فلم کی اور سوچا کہ مستقبل میں جب ان کے بچے ہوں گے تو وہ انہیں اپنی فلم دکھا کر کہیں گے کہ وہ بھی کبھی اداکار ہوا کرتے تھے۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں سعود نے بتایا کہ ماضی کی پاکستانی فلموں میں ہیرو اور غنڈے کی لڑائی کسی لڑکی پر نہیں بلکہ ذاتی دشمنی پر ہوتی تھی اور فضول میں ہیرو 250 اور ولن 200 بندے مار دیتا تھا۔</p>
<p>ماضی کی فلم انڈسٹری کی تباہی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ لولی وڈ تباہ ہونے اور لاہور میں بنے ہوئے فلم اسٹوڈیوز کی بندش سے اداکاروں کے علاوہ تمام تکنیکی افراد بے روزگار ہوگئے، وہ آج بھی شدید مالی مشکلات میں زندگی گزار رہے ہیں جب کہ متعدد افراد کسم پرسی کی زندگی گزار کر چل بسے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی فلم انڈسٹری تباہ ہونے کی متعدد وجوہات ہیں اور تمام افراد نے مل کر انڈسٹری کو تباہ کیا، وہ بھی اس کے ذمہ دار ہیں۔</p>
<p>سعود کے مطابق ماضی میں ہدایت کاروں کے ساتھ ساتھ اداکاروں کے پاس بھی وقت نہیں ہوتا تھا، فلموں میں کوئی کہانی نہیں ہوتی تھی، ہر وقت مار دھاڑ دکھائی جاتی تھی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ فلموں میں اگر ہیرو 200 بندے مارتا تھا تو ولن بھی اتنے ہی 200 بندے مار دیتا تھا، ہیرو اور غنڈے کا کوئی فرق نہیں تھا، جس وجہ سے بلآخر فلم انڈسٹری تباہ ہوئی۔</p>
<p>اداکار نے کہا کہ فلمی حالات خراب ہونے سے قبل ہی 2005 میں لاہور چھوڑ کر کراچی منتقل ہوگئے تھے اور بعد میں باقی اداکار اور ہدایت کار بھی کراچی آگئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1267964</guid>
      <pubDate>Fri, 29 Aug 2025 22:06:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/08/292032584578ee8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/08/292032584578ee8.webp"/>
        <media:title>—اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
