<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 15 Apr 2026 12:24:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 15 Apr 2026 12:24:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹک ٹاک پر پابندی میں چوتھی بار توسیع کا عندیہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1268030/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک پر پابندی میں چوتھی بار توسیع دینے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ٹک ٹاک کی ڈیڈ لائن کو مزید بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nytimes.com/2025/08/22/business/trump-tiktok-ban-deadline.html"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس ہسٹوریکل ایسوسی ایشن کے میوزیم میں بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ابھی تک چین کے صدر شی جن پنگ سے اس بارے میں بات نہیں کی لیکن مناسب وقت پر بات کروں گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال جب تک معاملات طے نہیں ہوتے، وہ ڈیڈ لائن کو تھوڑا اور بڑھائیں گے، ٹک ٹاک کے خریدار موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاک کو امریکی قانون کے تحت ستمبر کے وسط تک اپنی ملکیت تبدیل کرنا ہوگی، دوسری صورت میں اسے پابندی کا سامنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262165"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل جنوری، اپریل اور جون 2025 میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹک ٹاک کو توسیع دی تھی اور اب 17 ستمبر تک ٹک ٹاک کی فروخت کا معاملہ طے نہ ہونے کی صورت میں ڈیڈ لائن کو چوتھی بار بڑھائے جانے کی امید ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی خریدار تیار ہیں لیکن معاہدے کے لیے چین کی منظوری درکار ہے، جو ابھی تک نہیں ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاک پر پابندی کا قانون گزشتہ سال امریکی کانگریس نے بھاری اکثریت سے پاس کیا تھا، جس کے تحت ٹک ٹاک کو جنوری 2025 تک اپنی ملکیت امریکی ہاتھوں میں منتقل کرنا تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون کے مطابق ٹک ٹاک اپنی چینی ملکیت سے الگ ہو کیونکہ قانون سازوں اور انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ چینی حکومت اس ایپ کے ذریعے امریکی صارفین کا حساس ڈیٹا حاصل کر سکتی ہے یا پروپیگنڈا پھیلا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاک نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس نے ڈیٹا کی حفاظت کے اقدامات کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ میں ٹک ٹاک کے 17 کروڑ صارفین ہیں، جو اسے ایک بڑا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بناتے ہیں اور ایپ وہاں کے نوجوانوں میں بہت مقبول بھی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک پر پابندی میں چوتھی بار توسیع دینے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ٹک ٹاک کی ڈیڈ لائن کو مزید بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔</p>
<p>امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nytimes.com/2025/08/22/business/trump-tiktok-ban-deadline.html"><strong>مطابق</strong></a> ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس ہسٹوریکل ایسوسی ایشن کے میوزیم میں بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ابھی تک چین کے صدر شی جن پنگ سے اس بارے میں بات نہیں کی لیکن مناسب وقت پر بات کروں گا۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال جب تک معاملات طے نہیں ہوتے، وہ ڈیڈ لائن کو تھوڑا اور بڑھائیں گے، ٹک ٹاک کے خریدار موجود ہیں۔</p>
<p>ٹک ٹاک کو امریکی قانون کے تحت ستمبر کے وسط تک اپنی ملکیت تبدیل کرنا ہوگی، دوسری صورت میں اسے پابندی کا سامنا ہوگا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262165"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس سے قبل جنوری، اپریل اور جون 2025 میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹک ٹاک کو توسیع دی تھی اور اب 17 ستمبر تک ٹک ٹاک کی فروخت کا معاملہ طے نہ ہونے کی صورت میں ڈیڈ لائن کو چوتھی بار بڑھائے جانے کی امید ہے۔</p>
<p>ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی خریدار تیار ہیں لیکن معاہدے کے لیے چین کی منظوری درکار ہے، جو ابھی تک نہیں ملی۔</p>
<p>ٹک ٹاک پر پابندی کا قانون گزشتہ سال امریکی کانگریس نے بھاری اکثریت سے پاس کیا تھا، جس کے تحت ٹک ٹاک کو جنوری 2025 تک اپنی ملکیت امریکی ہاتھوں میں منتقل کرنا تھی۔</p>
<p>قانون کے مطابق ٹک ٹاک اپنی چینی ملکیت سے الگ ہو کیونکہ قانون سازوں اور انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ چینی حکومت اس ایپ کے ذریعے امریکی صارفین کا حساس ڈیٹا حاصل کر سکتی ہے یا پروپیگنڈا پھیلا سکتی ہے۔</p>
<p>ٹک ٹاک نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس نے ڈیٹا کی حفاظت کے اقدامات کیے ہیں۔</p>
<p>امریکہ میں ٹک ٹاک کے 17 کروڑ صارفین ہیں، جو اسے ایک بڑا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بناتے ہیں اور ایپ وہاں کے نوجوانوں میں بہت مقبول بھی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1268030</guid>
      <pubDate>Sat, 30 Aug 2025 20:28:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/08/30181748d506d94.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/08/30181748d506d94.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
