<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 18:57:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 18:57:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صدر مملکت نے دستخط کردیے، انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2025 قانون بن گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1268084/</link>
      <description>&lt;p&gt;صدر آصف علی زرداری نے اتوار کو انسدادِ دہشت گردی (ترمیمی) بل 2025 پر دستخط کر دیے، جس کا مقصد انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو مؤثر بنانا اور ساتھ ہی قانونی نگرانی اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ترامیم انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 میں کی گئی ہیں، جنہیں رواں ماہ قومی اسمبلی اور سینیٹ نے منظوری دی، ان میں وہ اختیارات دوبارہ شامل کیے گئے ہیں جو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مسلح افواج کو کسی بھی شخص کو تین ماہ تک حراست میں رکھنے کی اجازت دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوانِ صدر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ قانون سیکیورٹی اداروں کی انسداد دہشت گردی اور قومی سلامتی کے تحفظ کی صلاحیت کو مضبوط بناتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ اس قانون میں عدالتی نگرانی اور حفاظتی اقدامات شامل ہیں تاکہ  اختیارات کے غلط استعمال سے بچا جا سکے، جیسا کہ ماضی میں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1267082"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل کی کاپی کے مطابق حکومت یا مسلح افواج اور سول آرمڈ فورسز کو اختیار ہوگا کہ وہ قومی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں یا ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری یا اغوا برائے تاوان جیسے جرائم میں ملوث ہونے کے شبہے پر کسی بھی شخص کو 3 ماہ تک حراست میں رکھ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حراست آئین کے آرٹیکل 10 کے تحت گرفتاری اور نظربندی سے متعلق ضمانتوں کے تابع ہوگی، اگر حراست کا حکم فوج یا سول آرمڈ فورسز جاری کریں تو تحقیقات مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کرے گی جس میں پولیس، انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل کے مقاصد میں کہا گیا کہ ملک کی موجودہ سکیورٹی صورتحال ایک ’مضبوط اور مؤثر ردعمل‘ کی متقاضی ہے جو موجودہ قانونی فریم ورک سے آگے ہو، اس ترمیم کے تحت حکومت، مسلح افواج اور سول آرمڈ فورسز کو مشتبہ افراد کی پیشگی حراست کا قانونی اختیار حاصل ہوگا تاکہ دہشت گردانہ منصوبوں کو عملی شکل دینے سے پہلے ہی ناکام بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں کے ذریعے مختلف اداروں کے درمیان مربوط کارروائی اور مؤثر انٹیلی جنس شیئرنگ ممکن ہو گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>صدر آصف علی زرداری نے اتوار کو انسدادِ دہشت گردی (ترمیمی) بل 2025 پر دستخط کر دیے، جس کا مقصد انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو مؤثر بنانا اور ساتھ ہی قانونی نگرانی اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p>یہ ترامیم انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 میں کی گئی ہیں، جنہیں رواں ماہ قومی اسمبلی اور سینیٹ نے منظوری دی، ان میں وہ اختیارات دوبارہ شامل کیے گئے ہیں جو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مسلح افواج کو کسی بھی شخص کو تین ماہ تک حراست میں رکھنے کی اجازت دیتے ہیں۔</p>
<p>ایوانِ صدر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ قانون سیکیورٹی اداروں کی انسداد دہشت گردی اور قومی سلامتی کے تحفظ کی صلاحیت کو مضبوط بناتا ہے‘۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ اس قانون میں عدالتی نگرانی اور حفاظتی اقدامات شامل ہیں تاکہ  اختیارات کے غلط استعمال سے بچا جا سکے، جیسا کہ ماضی میں ہوا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1267082"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بل کی کاپی کے مطابق حکومت یا مسلح افواج اور سول آرمڈ فورسز کو اختیار ہوگا کہ وہ قومی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں یا ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری یا اغوا برائے تاوان جیسے جرائم میں ملوث ہونے کے شبہے پر کسی بھی شخص کو 3 ماہ تک حراست میں رکھ سکیں۔</p>
<p>یہ حراست آئین کے آرٹیکل 10 کے تحت گرفتاری اور نظربندی سے متعلق ضمانتوں کے تابع ہوگی، اگر حراست کا حکم فوج یا سول آرمڈ فورسز جاری کریں تو تحقیقات مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کرے گی جس میں پولیس، انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے شامل ہوں گے۔</p>
<p>بل کے مقاصد میں کہا گیا کہ ملک کی موجودہ سکیورٹی صورتحال ایک ’مضبوط اور مؤثر ردعمل‘ کی متقاضی ہے جو موجودہ قانونی فریم ورک سے آگے ہو، اس ترمیم کے تحت حکومت، مسلح افواج اور سول آرمڈ فورسز کو مشتبہ افراد کی پیشگی حراست کا قانونی اختیار حاصل ہوگا تاکہ دہشت گردانہ منصوبوں کو عملی شکل دینے سے پہلے ہی ناکام بنایا جا سکے۔</p>
<p>مزید یہ کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں کے ذریعے مختلف اداروں کے درمیان مربوط کارروائی اور مؤثر انٹیلی جنس شیئرنگ ممکن ہو گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1268084</guid>
      <pubDate>Sun, 31 Aug 2025 13:43:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نادر گُرامانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/08/31133744d672d9b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/08/31133744d672d9b.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
