<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Africa</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 22:10:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 22:10:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فرانس میں 128 سال پہلے قتل ہونیوالے بادشاہ اور 2 سپاہیوں کی کھوپڑیاں مڈغاسکر منتقل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1268325/</link>
      <description>&lt;p&gt;افریقی ملک مڈغاسکر کو 128 سال قبل فرانسیسی فوجیوں کے ہاتھوں مبینہ طور پر قتل ہونے والے بادشاہ سمیت 3 افراد کی کھوپڑیاں منتقل کر دی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1939318/madagascar-receives-skull-of-king-beheaded-by-france"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt; کے مطابق فرانس نے 27 اگست کو پیرس میں یہ کھوپڑیاں واپس کی تھیں، یہ 2023 میں منظور ہونے والے قانون کے بعد پہلی واپسی ہے، قانون کے تحت نوآبادیاتی دور میں قبضہ کی گئی انسانی باقیات کی واپسی کو آسان بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کھوپڑیاں ساکالاوا قوم کے بادشاہ تویرا اور اُن کے 2 جنگجو ساتھیوں کی سمجھی جاتی ہیں، جنہیں 1897 میں فرانسیسی فوجیوں نے سر قلم کرکے قتل کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1160872"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ باقیات پیر کے روز مڈغاسکر پہنچیں اور ہوائی اڈے پر ساکالاوا گروہ کے افراد نے ان کا استقبال کیا، جو روایتی لباس پہنے ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ باقیات تین بکسوں میں رکھی گئی تھیں، جو بحرِ ہند کی اس قوم کے پرچم میں لپٹے ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان باقیات کو دارالحکومت انتاناناریوو کی سڑکوں سے گزار کر شہر کے مقبرے تک لے جایا گیا، جہاں صدر اینڈری راجولینا اور حکومت و ساکالاوا کے معززین نے ان کا استقبال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راجولینا نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے ماضی اور اپنی تاریخ کو جاننا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہمارے پاس ایک بادشاہ اور اُس کے سپاہی تھے، جنہوں نے قوم کا دفاع کیا، انہوں نے ان لوگوں کی تعریف کی، جنہوں نے فرانسیسی نوآبادیاتی فوجیوں کے خلاف ’حوصلے اور جرات‘ کے ساتھ مزاحمت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بادشاہ تویرا کے پڑپوتے اور نئے تخت نشین ساکالاوا بادشاہ، جارج ہاریا کامامی نے اپنے آبا و اجداد کی باقیات کو خوش آمدید کہنے کے لیے مقدس دریا ’تسیریبیہینا‘ کا پانی چھڑکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جارج ہاریا کامامی نے کہا کہ ہم ساکالاوا مطمئن ہیں، آج خوشی کا دن ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>افریقی ملک مڈغاسکر کو 128 سال قبل فرانسیسی فوجیوں کے ہاتھوں مبینہ طور پر قتل ہونے والے بادشاہ سمیت 3 افراد کی کھوپڑیاں منتقل کر دی گئیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1939318/madagascar-receives-skull-of-king-beheaded-by-france">رپورٹ</a> کے مطابق فرانس نے 27 اگست کو پیرس میں یہ کھوپڑیاں واپس کی تھیں، یہ 2023 میں منظور ہونے والے قانون کے بعد پہلی واپسی ہے، قانون کے تحت نوآبادیاتی دور میں قبضہ کی گئی انسانی باقیات کی واپسی کو آسان بنایا گیا ہے۔</p>
<p>یہ کھوپڑیاں ساکالاوا قوم کے بادشاہ تویرا اور اُن کے 2 جنگجو ساتھیوں کی سمجھی جاتی ہیں، جنہیں 1897 میں فرانسیسی فوجیوں نے سر قلم کرکے قتل کیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1160872"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ باقیات پیر کے روز مڈغاسکر پہنچیں اور ہوائی اڈے پر ساکالاوا گروہ کے افراد نے ان کا استقبال کیا، جو روایتی لباس پہنے ہوئے تھے۔</p>
<p>یہ باقیات تین بکسوں میں رکھی گئی تھیں، جو بحرِ ہند کی اس قوم کے پرچم میں لپٹے ہوئے تھے۔</p>
<p>ان باقیات کو دارالحکومت انتاناناریوو کی سڑکوں سے گزار کر شہر کے مقبرے تک لے جایا گیا، جہاں صدر اینڈری راجولینا اور حکومت و ساکالاوا کے معززین نے ان کا استقبال کیا۔</p>
<p>راجولینا نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے ماضی اور اپنی تاریخ کو جاننا ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہمارے پاس ایک بادشاہ اور اُس کے سپاہی تھے، جنہوں نے قوم کا دفاع کیا، انہوں نے ان لوگوں کی تعریف کی، جنہوں نے فرانسیسی نوآبادیاتی فوجیوں کے خلاف ’حوصلے اور جرات‘ کے ساتھ مزاحمت کی ہے۔</p>
<p>بادشاہ تویرا کے پڑپوتے اور نئے تخت نشین ساکالاوا بادشاہ، جارج ہاریا کامامی نے اپنے آبا و اجداد کی باقیات کو خوش آمدید کہنے کے لیے مقدس دریا ’تسیریبیہینا‘ کا پانی چھڑکا۔</p>
<p>جارج ہاریا کامامی نے کہا کہ ہم ساکالاوا مطمئن ہیں، آج خوشی کا دن ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1268325</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Sep 2025 17:15:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/031106117daaee1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/031106117daaee1.webp"/>
        <media:title>فرانس میں 2023 کے قانون کے تحت نوآبادیاتی دور میں قبضہ کی گئی باقیات کی واپسی کو آسان بنایا گیا ہے — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
