<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 11 Jun 2026 03:09:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 11 Jun 2026 03:09:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سینما کی جدت سے لولی وڈ تباہ ہوا، سید نور</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1268542/</link>
      <description>&lt;p&gt;ماضی کے مقبول فلم ساز سید نور نے کہا ہے کہ پاکستان میں سینماؤں کی جدت اور ملٹی پلیکس اسٹائل کی وجہ سے لولی وڈ تباہ ہوا، فلم انڈسٹری سے وابستہ شخصیات کی کوئی غلطی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سید نور نے حال ہی میں احمد علی بٹ کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=J4MjbOpMxYo&amp;amp;t=1975s"&gt;&lt;strong&gt;پوڈکاسٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں شرکت کی، جہاں انہوں نے متعدد معاملات پر کھل کر بات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرویو میں انہوں نے پاکستانی فلم انڈسٹری کے زوال اور سینما انڈسٹری کی جدت پر بھی بات کی اور بتایا کہ فلم ٹیکنالوجی کو ڈیجیٹل کرنے سے بھی مسائل شروع ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلم ساز کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل فلم سازی شروع ہونے سے ڈراموں کو فلموں کے طور پر دکھانے کا آغاز ہوا، ڈراما ہدایت کار فلمیں بنانا شروع ہوئے، جس سے فلموں کا زوال شروع ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ان سمیت بہت سارے افراد کا خیال تھا کہ ملٹی پلیکس اور سینماؤں کے ڈیجیٹل ہونے سے فلم انڈسٹری میں بہتری آئے گی لیکن ایسا نہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268365"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سید نور کے مطابق ملٹی اسکرین سینما اسٹائل میں ایک ہی جگہ پر متعدد اقسام کی فلمیں لگائی جانے لگی، پاکستانی فلموں کے ساتھ بھارتی اور ہولی وڈ فلمیں دکھائی جانے لگیں، جس سے پاکستانی عوام بھی مقامی فلموں سے دور ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سینما کی جدت اور مہنگے ٹکٹس کو پاکستانی فلم انڈسٹری کی تباہ کاری کا سبب قرار دیا اور کہا کہ ماضی میں فلم کا ٹکٹ 35 روپے ہوا کرتا تھا اور فلمیں 40 کروڑ روپے کماتی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلم ساز نے بتایا کہ ملٹی اسکرین سینما اسٹائل شروع ہونے سے فلموں کے ٹکٹس مہنگے کردیے گئے، تین ہزار ٹکٹس ہونے کے باوجود فلموں کی کمائی ماضی کے مقابلے انتہائی کم ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق ٹکٹس مہنگے ہونے کی وجہ سے عام عوام فلموں سے دور ہوا، انہوں نے فلمیں دیکھنا بند کردیں جب کہ عام افراد کو ڈیجیٹل سینما اسٹائل میں آنے تک نہیں دیا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈیجیٹل فلموگرافی شروع ہونے سے بھی پاکستانی فلم انڈسٹری تباہ ہوئی، ایسا نہیں ہے کہ فلم کی ٹیکنالوجی کو اپگریڈ نہیں کیا جا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سید نور کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل فلموگرافی سے فلموں کا معیار گرا، ڈراموں کے لکھاری فلمیں لکھنے لگے، ڈراما ہدایت کار فلمیں بنانے لگے اور ٹی وی کے اداکار بڑے پردے پر آگئے جب کہ سیریلز کو بھی فلموں کے طور پر چلایا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ماضی کے مقبول فلم ساز سید نور نے کہا ہے کہ پاکستان میں سینماؤں کی جدت اور ملٹی پلیکس اسٹائل کی وجہ سے لولی وڈ تباہ ہوا، فلم انڈسٹری سے وابستہ شخصیات کی کوئی غلطی نہیں۔</p>
<p>سید نور نے حال ہی میں احمد علی بٹ کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=J4MjbOpMxYo&amp;t=1975s"><strong>پوڈکاسٹ</strong></a> میں شرکت کی، جہاں انہوں نے متعدد معاملات پر کھل کر بات کی۔</p>
<p>انٹرویو میں انہوں نے پاکستانی فلم انڈسٹری کے زوال اور سینما انڈسٹری کی جدت پر بھی بات کی اور بتایا کہ فلم ٹیکنالوجی کو ڈیجیٹل کرنے سے بھی مسائل شروع ہوئے۔</p>
<p>فلم ساز کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل فلم سازی شروع ہونے سے ڈراموں کو فلموں کے طور پر دکھانے کا آغاز ہوا، ڈراما ہدایت کار فلمیں بنانا شروع ہوئے، جس سے فلموں کا زوال شروع ہوا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ان سمیت بہت سارے افراد کا خیال تھا کہ ملٹی پلیکس اور سینماؤں کے ڈیجیٹل ہونے سے فلم انڈسٹری میں بہتری آئے گی لیکن ایسا نہ ہوا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268365"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سید نور کے مطابق ملٹی اسکرین سینما اسٹائل میں ایک ہی جگہ پر متعدد اقسام کی فلمیں لگائی جانے لگی، پاکستانی فلموں کے ساتھ بھارتی اور ہولی وڈ فلمیں دکھائی جانے لگیں، جس سے پاکستانی عوام بھی مقامی فلموں سے دور ہوا۔</p>
<p>انہوں نے سینما کی جدت اور مہنگے ٹکٹس کو پاکستانی فلم انڈسٹری کی تباہ کاری کا سبب قرار دیا اور کہا کہ ماضی میں فلم کا ٹکٹ 35 روپے ہوا کرتا تھا اور فلمیں 40 کروڑ روپے کماتی تھیں۔</p>
<p>فلم ساز نے بتایا کہ ملٹی اسکرین سینما اسٹائل شروع ہونے سے فلموں کے ٹکٹس مہنگے کردیے گئے، تین ہزار ٹکٹس ہونے کے باوجود فلموں کی کمائی ماضی کے مقابلے انتہائی کم ہوگئی۔</p>
<p>ان کے مطابق ٹکٹس مہنگے ہونے کی وجہ سے عام عوام فلموں سے دور ہوا، انہوں نے فلمیں دیکھنا بند کردیں جب کہ عام افراد کو ڈیجیٹل سینما اسٹائل میں آنے تک نہیں دیا جاتا تھا۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈیجیٹل فلموگرافی شروع ہونے سے بھی پاکستانی فلم انڈسٹری تباہ ہوئی، ایسا نہیں ہے کہ فلم کی ٹیکنالوجی کو اپگریڈ نہیں کیا جا رہا تھا۔</p>
<p>سید نور کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل فلموگرافی سے فلموں کا معیار گرا، ڈراموں کے لکھاری فلمیں لکھنے لگے، ڈراما ہدایت کار فلمیں بنانے لگے اور ٹی وی کے اداکار بڑے پردے پر آگئے جب کہ سیریلز کو بھی فلموں کے طور پر چلایا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1268542</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Sep 2025 20:19:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/05183354a35395e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/05183354a35395e.webp"/>
        <media:title>—اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
