<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 11 Jun 2026 14:06:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 11 Jun 2026 14:06:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یورپی یونین کا ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود گوگل پر 2.95 ارب یورو کا جرمانہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1268578/</link>
      <description>&lt;p&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو نشانہ نہ بنانے کے انتباہات کے باوجود یورپی یونین نے گوگل کو اپنی اشتہاری خدمات کی حمایت کرنے پر 2.95 ارب یورو (3.47 ارب ڈالر) کا جرمانہ عائد  کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق گوگل نے یورپی کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا عزم ظاہر کیا، جس نے امریکی فرم پر 27 ممالک کے بلاک میں مسابقت کو ختم کرنے کا الزام لگایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین کی اینٹی ٹرسٹ کمشنر ٹریسا ریبیرا نے کہا کہ ’گوگل نے ایڈٹیک میں اپنی غالب پوزیشن کا غلط استعمال کیا، پبلشرز، مشتہرین اور صارفین کو نقصان پہنچایا، یہ رویہ یورپی یونین اینٹی ٹرسٹ قوانین کے تحت غیر قانونی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے دھمکی دے رکھی ہے کہ وہ ڈیجیٹل مارکیٹ اور پولیسی کے حوالے سے مواد پر اپنے قوانین کے لیے یورپ کے پیچھے جائیں گے، جس سے امریکا میں مقیم ٹیک کمپنیاں متاثر ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1257773"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ہفتے کے اوائل میں اینٹی ٹرسٹ کمشنر ٹریسا ریبیرا نے جرمانے پر توقف کیا تھا، جو بظاہر امریکی جوابی کارروائی کے خوف سے کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین اب بھی انتظار کر رہی ہے کہ امریکا جولائی میں طے پانے والے تجارتی معاہدے کے تحت کاروں پر ٹیرف کم کرنے کے وعدے کو پورا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسلز نے گوگل کو حکم دیا کہ وہ اپنے ’خود پسندی کے طرز عمل‘ کو ختم کرے اور اپنے مفادات کے موروثی تنازعات کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریسا ریبیرا نے  کہا کہ ’گوگل کے پاس کمیشن کو مطلع کرنے کے لیے 60 دن ہیں کہ وہ ایسا کرنے کا کیسے ارادہ رکھتا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر ایسا لگتا ہے کہ گوگل کے لیے اپنے مفادات کے ٹکراؤ کو مؤثر طریقے سے ختم کرنے کا واحد طریقہ ساختی ہے، جیسا کہ اپنے ایڈ ٹیک کے کاروبار کا کچھ حصہ بیچنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل نے کہا کہ کمیشن کا فیصلہ ’غلط‘ ہے  اور وہ اپیل کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرم کے عالمی سربراہ برائے ریگولیٹری امور لی-این ملہولینڈ نے کہا کہ ’یہ ایک بلاجواز جرمانہ ہے اور ایسی تبدیلیاں ہزاروں یورپی کاروباروں کو نقصان پہنچائیں گے اور ان کے لیے پیسہ کمانا مشکل ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہنا تھا کہ ’اشتہاری سروسز کے خریداروں اور فروخت کنندگان کے لیے خدمات فراہم کرنے میں کوئی چیز غیر مسابقتی نہیں ہے، اور ہماری خدمات کے لیے پہلے سے زیادہ متبادل موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو نشانہ نہ بنانے کے انتباہات کے باوجود یورپی یونین نے گوگل کو اپنی اشتہاری خدمات کی حمایت کرنے پر 2.95 ارب یورو (3.47 ارب ڈالر) کا جرمانہ عائد  کردیا۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق گوگل نے یورپی کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا عزم ظاہر کیا، جس نے امریکی فرم پر 27 ممالک کے بلاک میں مسابقت کو ختم کرنے کا الزام لگایا ہے۔</p>
<p>یورپی یونین کی اینٹی ٹرسٹ کمشنر ٹریسا ریبیرا نے کہا کہ ’گوگل نے ایڈٹیک میں اپنی غالب پوزیشن کا غلط استعمال کیا، پبلشرز، مشتہرین اور صارفین کو نقصان پہنچایا، یہ رویہ یورپی یونین اینٹی ٹرسٹ قوانین کے تحت غیر قانونی ہے‘۔</p>
<p>ٹرمپ نے دھمکی دے رکھی ہے کہ وہ ڈیجیٹل مارکیٹ اور پولیسی کے حوالے سے مواد پر اپنے قوانین کے لیے یورپ کے پیچھے جائیں گے، جس سے امریکا میں مقیم ٹیک کمپنیاں متاثر ہوتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1257773"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رواں ہفتے کے اوائل میں اینٹی ٹرسٹ کمشنر ٹریسا ریبیرا نے جرمانے پر توقف کیا تھا، جو بظاہر امریکی جوابی کارروائی کے خوف سے کیا گیا تھا۔</p>
<p>یورپی یونین اب بھی انتظار کر رہی ہے کہ امریکا جولائی میں طے پانے والے تجارتی معاہدے کے تحت کاروں پر ٹیرف کم کرنے کے وعدے کو پورا کرے گا۔</p>
<p>برسلز نے گوگل کو حکم دیا کہ وہ اپنے ’خود پسندی کے طرز عمل‘ کو ختم کرے اور اپنے مفادات کے موروثی تنازعات کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔</p>
<p>ٹریسا ریبیرا نے  کہا کہ ’گوگل کے پاس کمیشن کو مطلع کرنے کے لیے 60 دن ہیں کہ وہ ایسا کرنے کا کیسے ارادہ رکھتا ہے۔‘</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر ایسا لگتا ہے کہ گوگل کے لیے اپنے مفادات کے ٹکراؤ کو مؤثر طریقے سے ختم کرنے کا واحد طریقہ ساختی ہے، جیسا کہ اپنے ایڈ ٹیک کے کاروبار کا کچھ حصہ بیچنا۔</p>
<p>گوگل نے کہا کہ کمیشن کا فیصلہ ’غلط‘ ہے  اور وہ اپیل کریں گے۔</p>
<p>فرم کے عالمی سربراہ برائے ریگولیٹری امور لی-این ملہولینڈ نے کہا کہ ’یہ ایک بلاجواز جرمانہ ہے اور ایسی تبدیلیاں ہزاروں یورپی کاروباروں کو نقصان پہنچائیں گے اور ان کے لیے پیسہ کمانا مشکل ہو جائے گا۔</p>
<p>مزید کہنا تھا کہ ’اشتہاری سروسز کے خریداروں اور فروخت کنندگان کے لیے خدمات فراہم کرنے میں کوئی چیز غیر مسابقتی نہیں ہے، اور ہماری خدمات کے لیے پہلے سے زیادہ متبادل موجود ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1268578</guid>
      <pubDate>Sat, 06 Sep 2025 00:13:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/060011529a9158b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/060011529a9158b.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
