<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 27 May 2026 07:51:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 27 May 2026 07:51:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دنیا کی بدلتی صورتحال، امریکی محکمہ دفاع کا نام ’محکمہ جنگ‘ رکھنے کی منظوری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1268598/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرکے پینٹاگون (امریکی محکمہ دفاع) کا نیا نام ڈپارٹمنٹ آف وار (محکمہ جنگ) رکھنے کی منظوری دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2025/09/04/politics/department-of-war-trump-executive-order"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر یہ زیادہ ’مناسب‘ نام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’میرا خیال ہے یہ ایک زیادہ مناسب نام ہے، خاص طور پر اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ دنیا اس وقت کہاں کھڑی ہے، ہمارے پاس دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق وزیر دفاع، محکمہ دفاع اور اس کے ماتحت حکام اب ثانوی القابات مثلاً وزیر جنگ، محکمہ جنگ اور نائب وزیر جنگ کو سرکاری خط و کتابت، عوامی پیغامات، تقریبات اور غیر قانونی دستاویزات میں استعمال کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262020"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے پر فوراً عملدرآمد بھی شروع ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینٹاگون حکام نے وزیر دفاع  پیٹ ہیگستھ کے دفتر کے باہر لگے بورڈ کو بدل دیا اور محکمے کی ویب سائٹ کو بھی نیا &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.war.gov/"&gt;&lt;strong&gt;نام&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; دے دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرانی ویب سائٹ defense.gov اب war.gov پر ری ڈائریکٹ ہو رہی ہے، جہاں سب سے اوپر امریکی محکمہ جنگ درج ہے، اسی طرح محکمہ دفاع کی جگہ اب محکمہ جنگ مختلف سرخیوں میں استعمال ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر کے ساتھ اوول آفس میں موجود پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ یہ صرف نام بدلنے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ’بحالی‘ ہے، ان کے مطابق فوج اب صرف دفاع نہیں بلکہ حملہ بھی کرے گی، اور نئے نام کی عکاسی سے یہ ظاہر ہوگا کہ ملک دفاعی اہلکار نہیں بلکہ جنگجوؤں کو تیار کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایگزیکٹو آرڈر میں دیگر وفاقی اداروں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اندرونی و بیرونی رابطوں میں ان نئے القابات کو تسلیم کریں اور پیٹ ہیگستھ صدر کو سفارش کریں کہ مستقل طور پر محکمہ دفاع کا نام محکمہ جنگ میں تبدیل کرنے کے لیے مزید انتظامی یا قانون سازی کے اقدامات کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/DeptofWar/status/1964145360370057585"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ایکس پر بھی امریکی محکمہ دفاع کا نام تبدیل کرکے محکمہ جنگ کر دیا گیا۔فوٹو: ایکس&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ دستاویز میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ اس تبدیلی کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہوگی، لیکن صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس بارے میں پُر یقین نہیں ہیں، ان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں معلوم، لیکن ہم پتا کر لیں گے اور مجھے یقین نہیں کہ یہ لازمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خبر سب سے پہلے ’فاکس نیوز‘ نے رپورٹ کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="1949-کے-بعد-پہلی-بار-نام-کی-تبدیلی" href="#1949-کے-بعد-پہلی-بار-نام-کی-تبدیلی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;1949 کے بعد پہلی بار نام کی تبدیلی&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;امریکا کے محکمہ دفاع کا نام آخری بار 1949 میں بدلا گیا تھا جب صدر ہیری ٹرومین نے نیشنل سیکیورٹی ایکٹ پر دستخط کیے تھے، اس سے قبل محکمہ جنگ کو محکمہ بحریہ اور نئے قائم ہونے والے محکمہ فضائیہ کے ساتھ ضم کر کے نیشنل ملٹری اسٹیبلشمنٹ بنایا گیا تھا، جسے بعد میں ڈپارٹمنٹ آف ڈیفنس کا نام دے دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ جنگ کو سب سے پہلے صدر جارج واشنگٹن نے فوج کی بنیاد رکھتے وقت قائم کیا تھا، لیکن 1949 میں اس کا نام باضابطہ طور پر بدل دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹ ہیگستھ اس سے قبل بھی کئی اقدامات کر چکے ہیں، جن میں فوجی اڈوں اور جہازوں کے نام دوبارہ رکھنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بائیڈن دور میں بدلے گئے کنفیڈریٹ دور کے فوجی اڈوں (جیسے فورٹ بریگ اور فورٹ ہوڈ) کے نام بحال کیے، اگرچہ اب ان کے لیے وہی نام رکھنے والے مختلف افراد کو منتخب کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون میں پیٹ ہیگستھ نے ایک آئلر جہاز کا نام بھی بدلنے کا حکم دیا جو اصل میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے کارکن اور بحریہ کے سابق فوجی ہاروی مِلک کے نام پر رکھا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرکے پینٹاگون (امریکی محکمہ دفاع) کا نیا نام ڈپارٹمنٹ آف وار (محکمہ جنگ) رکھنے کی منظوری دے دی۔</p>
<p>امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2025/09/04/politics/department-of-war-trump-executive-order"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر یہ زیادہ ’مناسب‘ نام ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’میرا خیال ہے یہ ایک زیادہ مناسب نام ہے، خاص طور پر اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ دنیا اس وقت کہاں کھڑی ہے، ہمارے پاس دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے‘۔</p>
<p>ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق وزیر دفاع، محکمہ دفاع اور اس کے ماتحت حکام اب ثانوی القابات مثلاً وزیر جنگ، محکمہ جنگ اور نائب وزیر جنگ کو سرکاری خط و کتابت، عوامی پیغامات، تقریبات اور غیر قانونی دستاویزات میں استعمال کر سکیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262020"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس فیصلے پر فوراً عملدرآمد بھی شروع ہوگیا ہے۔</p>
<p>پینٹاگون حکام نے وزیر دفاع  پیٹ ہیگستھ کے دفتر کے باہر لگے بورڈ کو بدل دیا اور محکمے کی ویب سائٹ کو بھی نیا <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.war.gov/"><strong>نام</strong></a> دے دیا گیا ہے۔</p>
<p>پرانی ویب سائٹ defense.gov اب war.gov پر ری ڈائریکٹ ہو رہی ہے، جہاں سب سے اوپر امریکی محکمہ جنگ درج ہے، اسی طرح محکمہ دفاع کی جگہ اب محکمہ جنگ مختلف سرخیوں میں استعمال ہو رہا ہے۔</p>
<p>صدر کے ساتھ اوول آفس میں موجود پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ یہ صرف نام بدلنے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ’بحالی‘ ہے، ان کے مطابق فوج اب صرف دفاع نہیں بلکہ حملہ بھی کرے گی، اور نئے نام کی عکاسی سے یہ ظاہر ہوگا کہ ملک دفاعی اہلکار نہیں بلکہ جنگجوؤں کو تیار کرے گا۔</p>
<p>ایگزیکٹو آرڈر میں دیگر وفاقی اداروں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اندرونی و بیرونی رابطوں میں ان نئے القابات کو تسلیم کریں اور پیٹ ہیگستھ صدر کو سفارش کریں کہ مستقل طور پر محکمہ دفاع کا نام محکمہ جنگ میں تبدیل کرنے کے لیے مزید انتظامی یا قانون سازی کے اقدامات کیے جائیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/DeptofWar/status/1964145360370057585"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ایکس پر بھی امریکی محکمہ دفاع کا نام تبدیل کرکے محکمہ جنگ کر دیا گیا۔فوٹو: ایکس</figcaption>
    </figure></p>
<p>اگرچہ دستاویز میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ اس تبدیلی کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہوگی، لیکن صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس بارے میں پُر یقین نہیں ہیں، ان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں معلوم، لیکن ہم پتا کر لیں گے اور مجھے یقین نہیں کہ یہ لازمی ہے۔</p>
<p>یہ خبر سب سے پہلے ’فاکس نیوز‘ نے رپورٹ کی تھی۔</p>
<h1><a id="1949-کے-بعد-پہلی-بار-نام-کی-تبدیلی" href="#1949-کے-بعد-پہلی-بار-نام-کی-تبدیلی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>1949 کے بعد پہلی بار نام کی تبدیلی</h1>
<p>امریکا کے محکمہ دفاع کا نام آخری بار 1949 میں بدلا گیا تھا جب صدر ہیری ٹرومین نے نیشنل سیکیورٹی ایکٹ پر دستخط کیے تھے، اس سے قبل محکمہ جنگ کو محکمہ بحریہ اور نئے قائم ہونے والے محکمہ فضائیہ کے ساتھ ضم کر کے نیشنل ملٹری اسٹیبلشمنٹ بنایا گیا تھا، جسے بعد میں ڈپارٹمنٹ آف ڈیفنس کا نام دے دیا گیا تھا۔</p>
<p>محکمہ جنگ کو سب سے پہلے صدر جارج واشنگٹن نے فوج کی بنیاد رکھتے وقت قائم کیا تھا، لیکن 1949 میں اس کا نام باضابطہ طور پر بدل دیا گیا تھا۔</p>
<p>پیٹ ہیگستھ اس سے قبل بھی کئی اقدامات کر چکے ہیں، جن میں فوجی اڈوں اور جہازوں کے نام دوبارہ رکھنا شامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے بائیڈن دور میں بدلے گئے کنفیڈریٹ دور کے فوجی اڈوں (جیسے فورٹ بریگ اور فورٹ ہوڈ) کے نام بحال کیے، اگرچہ اب ان کے لیے وہی نام رکھنے والے مختلف افراد کو منتخب کیا گیا۔</p>
<p>جون میں پیٹ ہیگستھ نے ایک آئلر جہاز کا نام بھی بدلنے کا حکم دیا جو اصل میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے کارکن اور بحریہ کے سابق فوجی ہاروی مِلک کے نام پر رکھا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1268598</guid>
      <pubDate>Sat, 06 Sep 2025 15:39:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/061445216f4e49c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/061445216f4e49c.webp"/>
        <media:title>محکمہ جنگ کو سب سے پہلے صدر جارج واشنگٹن نے فوج کی بنیاد رکھتے وقت قائم کیا تھا — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
