<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 19 Jun 2026 13:20:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 19 Jun 2026 13:20:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پارلیمنٹ میں اکثریت کھونے کے بعد جاپان کے وزیرِاعظم کا استعفیٰ دینے کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1268648/</link>
      <description>&lt;p&gt;جاپان کے وزیرِاعظم  شیگرو اشیبا نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے، مقامی میڈیا نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ ان کی حکمران جماعت کے اراکین ایوانِ بالا کے بدترین انتخابات کے بعد نئی قیادت کے انتخاب کے خواہاں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ 68 سالہ  شیگرو اشیبا کے اقتدار سنبھالنے کے ایک سال سے بھی کم عرصے بعد سامنے آیا ہے، وہ طویل عرصے سے غالب رہنے والی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) کے سربراہ ہیں، لیکن اب وہ پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت کھو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264727"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
سرکاری نشریاتی ادارے ’این ایچ کے‘ نے کہا کہ اِشیبا نے پارٹی میں تقسیم سے بچنے کے لیے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا، جب کہ اخبار اساہی شِمبُن نے رپورٹ کیا کہ وہ اپنے استعفے کے بڑھتے مطالبات برداشت نہیں کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی امور کے وزیر اور ایک سابق وزیرِاعظم نے مبینہ طور پر ہفتے کی رات اِشیبا سے ملاقات کی تھی، اور ان پر رضاکارانہ طور پر مستعفی ہونے پر زور دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے ایل ڈی پی کے 4 سینیئر عہدیداروں (جن میں پارٹی کے نمبر دو ہیروشی موریاما بھی شامل تھے) نے استعفیٰ دینے کی پیشکش کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی میں ایوانِ بالا کی ووٹنگ کے بعد اِشیبا کے مخالفین انتخابات کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان بھر میں نئی قیادت کے انتخاب کے خواہاں ایل ڈی پی کے قانون ساز اور علاقائی عہدیدار پیر کو باضابطہ درخواست جمع کروائیں گے، اگر مطلوبہ اکثریت حاصل ہو گئی تو قیادت کے لیے نیا انتخاب کرایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جاپان کے وزیرِاعظم  شیگرو اشیبا نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے، مقامی میڈیا نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ ان کی حکمران جماعت کے اراکین ایوانِ بالا کے بدترین انتخابات کے بعد نئی قیادت کے انتخاب کے خواہاں ہیں۔</p>
<p>فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ 68 سالہ  شیگرو اشیبا کے اقتدار سنبھالنے کے ایک سال سے بھی کم عرصے بعد سامنے آیا ہے، وہ طویل عرصے سے غالب رہنے والی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) کے سربراہ ہیں، لیکن اب وہ پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت کھو چکے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264727"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
سرکاری نشریاتی ادارے ’این ایچ کے‘ نے کہا کہ اِشیبا نے پارٹی میں تقسیم سے بچنے کے لیے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا، جب کہ اخبار اساہی شِمبُن نے رپورٹ کیا کہ وہ اپنے استعفے کے بڑھتے مطالبات برداشت نہیں کر سکے۔</p>
<p>زرعی امور کے وزیر اور ایک سابق وزیرِاعظم نے مبینہ طور پر ہفتے کی رات اِشیبا سے ملاقات کی تھی، اور ان پر رضاکارانہ طور پر مستعفی ہونے پر زور دیا تھا۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے ایل ڈی پی کے 4 سینیئر عہدیداروں (جن میں پارٹی کے نمبر دو ہیروشی موریاما بھی شامل تھے) نے استعفیٰ دینے کی پیشکش کی تھی۔</p>
<p>جولائی میں ایوانِ بالا کی ووٹنگ کے بعد اِشیبا کے مخالفین انتخابات کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔</p>
<p>جاپان بھر میں نئی قیادت کے انتخاب کے خواہاں ایل ڈی پی کے قانون ساز اور علاقائی عہدیدار پیر کو باضابطہ درخواست جمع کروائیں گے، اگر مطلوبہ اکثریت حاصل ہو گئی تو قیادت کے لیے نیا انتخاب کرایا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1268648</guid>
      <pubDate>Sun, 07 Sep 2025 13:03:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/07124949bbd2b53.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/07124949bbd2b53.webp"/>
        <media:title>لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے قانون ساز اور عہدیدار کل نئے الیکشن کیلئے باضابطہ درخواست جمع کروائیں گے۔
—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
