<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 21 May 2026 16:37:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 21 May 2026 16:37:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گلگت بلتستان میں پولیس اہلکاروں کے ٹک ٹاک استعمال کرنے پر پابندی عائد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1268738/</link>
      <description>&lt;p&gt;انسپکٹر جنرل  (آئی جی) پولیس گلگت بلتستان نے پولیس اہلکاروں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک کے استعمال پر پابندی عائد کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی جی پولیس  گلگت بلتستان کے دفتر سے آج جاری ہونے والے ایک نوٹیفکیشن میں  کہا گیا کہ ’ ڈسپلن، یکسانیت اور فورس کے وقار کو قائم رکھنے کے لیے یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ کوئی بھی پولیس افسر/اہلکار سوشل میڈیا پلیٹ فارم (ٹک ٹاک) استعمال نہیں کرے گا۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفکیشن میں تمام ضلعی پولیس افسران اور یونٹ ہیڈز کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنے ماتحت تمام اہلکاروں کو اس ہدایت سے آگاہ کریں، اور خبردار کیا گیا کہ کسی بھی خلاف ورزی کو ’ سنگین طور پر لیا جائے گا اور اس پر محکمانہ کارروائی ہوگی۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ جولائی میں اسلام آباد سیکیورٹی ڈویژن کے دو کانسٹیبلز کو مبینہ طور پر پولیس کی سوشل میڈیا پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یونیفارم میں ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے اور اپ لوڈ کرنے پر معطل کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا تھا کہ درجنوں دیگر نچلے درجے کے اہلکاروں کو بھی وارننگ دی گئی تھی اور مزید کارروائی سے بچنے کے لیے اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹس ختم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268667"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل مارچ میں پنجاب پولیس نے بھی اپنے اہلکاروں کو ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے ریاست کے خلاف ’ توہین آمیز خیالات’  ظاہر کرنے سے خبردار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر 2024 میں، اسلام آباد اور پنجاب پولیس نے اہلکاروں اور افسران کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال سے متعلق پالیسیاں وضع کی تھیں، ان پالیسیوں میں پولیس افسران اور اہلکاروں کو تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کسی بھی قسم کی رائے یا بیان دینے سے روک دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی طے کیا گیا تھا کہ ہر ڈویژن، زون اور یونٹ میں تعینات افسران اور اہلکاروں کی سرگرمیوں کی ذاتی طور پر نگرانی اور مانیٹرنگ کی ذمہ داری متعلقہ سربراہان پر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی ماہ، حکومت نے اپنے ملازمین کو ایک بار پھر ہدایت دی تھی کہ وہ سیاسی یا مذہبی خیالات کے اظہار سے گریز کریں اور کسی غیر مجاز سرکاری افسر یا میڈیا کے ساتھ معلومات شیئر کرنے سے بھی باز رہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انسپکٹر جنرل  (آئی جی) پولیس گلگت بلتستان نے پولیس اہلکاروں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک کے استعمال پر پابندی عائد کر دی۔</p>
<p>آئی جی پولیس  گلگت بلتستان کے دفتر سے آج جاری ہونے والے ایک نوٹیفکیشن میں  کہا گیا کہ ’ ڈسپلن، یکسانیت اور فورس کے وقار کو قائم رکھنے کے لیے یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ کوئی بھی پولیس افسر/اہلکار سوشل میڈیا پلیٹ فارم (ٹک ٹاک) استعمال نہیں کرے گا۔’</p>
<p>نوٹیفکیشن میں تمام ضلعی پولیس افسران اور یونٹ ہیڈز کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنے ماتحت تمام اہلکاروں کو اس ہدایت سے آگاہ کریں، اور خبردار کیا گیا کہ کسی بھی خلاف ورزی کو ’ سنگین طور پر لیا جائے گا اور اس پر محکمانہ کارروائی ہوگی۔’</p>
<p>واضح رہے کہ جولائی میں اسلام آباد سیکیورٹی ڈویژن کے دو کانسٹیبلز کو مبینہ طور پر پولیس کی سوشل میڈیا پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یونیفارم میں ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے اور اپ لوڈ کرنے پر معطل کیا گیا تھا۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا تھا کہ درجنوں دیگر نچلے درجے کے اہلکاروں کو بھی وارننگ دی گئی تھی اور مزید کارروائی سے بچنے کے لیے اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹس ختم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268667"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس سے قبل مارچ میں پنجاب پولیس نے بھی اپنے اہلکاروں کو ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے ریاست کے خلاف ’ توہین آمیز خیالات’  ظاہر کرنے سے خبردار کیا تھا۔</p>
<p>ستمبر 2024 میں، اسلام آباد اور پنجاب پولیس نے اہلکاروں اور افسران کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال سے متعلق پالیسیاں وضع کی تھیں، ان پالیسیوں میں پولیس افسران اور اہلکاروں کو تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کسی بھی قسم کی رائے یا بیان دینے سے روک دیا گیا تھا۔</p>
<p>یہ بھی طے کیا گیا تھا کہ ہر ڈویژن، زون اور یونٹ میں تعینات افسران اور اہلکاروں کی سرگرمیوں کی ذاتی طور پر نگرانی اور مانیٹرنگ کی ذمہ داری متعلقہ سربراہان پر ہوگی۔</p>
<p>اسی ماہ، حکومت نے اپنے ملازمین کو ایک بار پھر ہدایت دی تھی کہ وہ سیاسی یا مذہبی خیالات کے اظہار سے گریز کریں اور کسی غیر مجاز سرکاری افسر یا میڈیا کے ساتھ معلومات شیئر کرنے سے بھی باز رہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1268738</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Sep 2025 17:44:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امتیاز تاج)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/08171156604c6f1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/08171156604c6f1.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
