<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 17:34:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 17:34:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیل کا قطر میں فضائی حملہ، حماس کے رہنما خلیل الحیہ محفوظ رہے، انکے بیٹے اور معاون شہید</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1268832/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسرائیل نے قطر میں فضائی حملہ کر کے حماس کے سینئر رہنماؤں کو نشانے بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم خلیل الحیہ محفوظ رہے لیکن ان کے بیٹے اور معاون سمیت 6 افراد شہید ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘  کے مطابق اسرائیلی میڈیا نے اعلیٰ اسرائیلی حکام کے حوالے سے بتایا کہ قطر میں حماس کی قیادت پر حملہ کیا گیا، جن میں خلیل الحیہ اور جابرین شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی چینل 12 نے ایک اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر میں حماس کی قیادت پر حملے کی اجازت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس کے ایک ذرائع نے قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کو بتایا کہ حملے کا نشانہ حماس کی مذاکراتی ٹیم تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حملہ اُس وقت ہوا جب حماس کے مذاکرات کار امریکا کی جانب سے پیش کی گئی تازہ ترین جنگ بندی کی تجویز پر غور کرنے کے لیے ملاقات کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268803"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حماس کے سیاسی بیورو کے رکن سہیل الہندی نے بتایا کہ سینئر رہنما خلیل الحیہ اور دیگر حماس رہنماؤں کو شہید کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ لیکن اس اسرائیلی حملے میں خلیل الحیہ کے صاحبزادے ہمام اور ان کے اعلیٰ معاونین میں سے ایک شہید ہو گئے جبکہ تین دیگر باڈی گارڈز سے رابطہ بھی منقطع ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی نے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/live/c78m71vl91vt?post=asset%3Aab7f9622-799e-404b-831d-6745e3374ab5#post"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کیا کہ سہیل الہندی کے مطابق خلیل الحیہ کے بیٹے ہمام الحیہ ، الحیہ کے دفتر کے ڈائریکٹر جہاد لبد، عبداللہ عبد الواحد (ابو خلیل)، معمن حسونہ (ابو عمر)، احمد المملوک (ابو مالک) شہید ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید بتایا کہ اس کے علاوہ قطر کی اندرونی سیکیورٹی فورسز کے رکن کارپورل بدر سعد محمد الحمایدی بھی حملے میں شہید ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس رہنما سہیل الہندی نے قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دوحہ میں ہونے والا حملہ بنیادی طور پر حماس اور قطر کو نشانہ بنانے کے لیے تھا، لیکن یہ دراصل تمام عربوں، مسلمانوں اور دنیا بھر کے آزاد لوگوں پر جارحیت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آزاد دنیا کو اس سنگین جرم، یعنی غزہ پر جنگ ختم کرنے پر بات کرنے والوں کو قتل کرنے کی کوشش کو مسترد کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سہیل  الہندی نے اسرائیل کے فلسطینیوں پر حملوں کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا، انہوں نے مزید کہا کہ محض مذمتیں اور بیانات کافی نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ مجرمانہ حملہ تمام بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے اور قطری شہریوں اور قطر میں مقیم افراد کی سلامتی و تحفظ کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268846"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر ماجد الانصاری نے کہا کہ یہ حملہ ایک رہائشی عمارت پر کیا گیا، جہاں حماس کے سیاسی بیورو کے متعدد ارکان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مقیم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں، ’رائٹرز‘ نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ منگل (9 ستمبر) کو  دوحہ میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کے رپورٹر باراک راوِد نے اسرائیلی حکام کے حوالے سے بتایا کہ دوحہ میں ہونے والا دھماکہ حماس کے عہدیداران پر کیا گیا، ایک عینی شاہد کے مطابق دارالحکومت کے کتارا ڈسٹرکٹ پر دھواں اٹھتے دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی آرمی ریڈیو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے قطر میں حماس کے عہدیداران کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="امریکا-کا-دوحہ-حملے-پر-تبصرہ-سے-انکار" href="#امریکا-کا-دوحہ-حملے-پر-تبصرہ-سے-انکار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;امریکا کا دوحہ حملے پر تبصرہ سے انکار&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کی ڈپٹی پریس سیکریٹری اینا کیلی نے الجزیرہ کو بتایا کہ دوحہ میں اسرائیلی حملوں پر امریکی انتظامیہ کی جانب سے کوئی تبصرہ نہیں کیا جا رہا، وہ واضح طور پر اس صورتحال کو دیکھ رہے ہیں کہ یہ کیسے آگے بڑھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینا کیلی کے مطابق امریکی صدر غالبا سب سے پہلے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر اس پر تبصرہ کریں گے، اس کے علاوہ، ساڑھے 3 گھنٹے بعد ہماری ایک پریس بریفنگ ہے، جہاں وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کو  کئی سوالوں کے جوابات دینے کا موقع ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈپٹی پریس سیکریٹری نے مزید کہا کہ یہ بات کہ آیا امریکی کمانڈر اِن چیف نے قطر پر اس حملے کی منظوری دی تھی، جہاں امریکا کا فوجی اڈہ بھی موجود ہے، فی الحال قیاس آرائیوں پر مبنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ایران-کا-ردِ-عمل" href="#ایران-کا-ردِ-عمل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ایران کا ردِ عمل&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ترجمان ایرانی وزیرِ خارجہ اسمٰعیل بقائی نے قطر پر اسرائیلی حملےکو  مجرمانہ، نہایت خطرناک، بین الاقوامی قانون، قطر کی خودمختاری اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PressTV/status/1965412450095997231"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ فلسطین اور مغربی ایشیا میں صہیونی حکومت کے جرائم پر عالمی برادری کی خاموشی سب کے لیے خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر کے سفارتی مشیر نے کہا کہ ہم قطر کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس ’غدارانہ‘ اسرائیلی حملے کی پُر زور مذمت کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ایک-ماہ-کے-دوران-اسرائیل-کے-6-عرب-ممالک-پر-حملے" href="#ایک-ماہ-کے-دوران-اسرائیل-کے-6-عرب-ممالک-پر-حملے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ایک ماہ کے دوران اسرائیل کے 6 عرب ممالک پر حملے&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق دوحہ کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فوجی حملے اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ خطے میں اسرائیل کی فوجی مہم کس قدر پھیل چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتوں کے دوران اسرائیل غزہ پر تو مسلسل بمباری کر ہی رہا ہے، ساتھ ہی باقاعدگی سے لبنان، شام اور یمن میں بھی حملے کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;8 ستمبر کو ایک مشتبہ اسرائیلی ڈرون نے تیونس میں لنگر انداز غزہ جانے والے امدادی جہاز کو بھی نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسرائیل نے قطر میں فضائی حملہ کر کے حماس کے سینئر رہنماؤں کو نشانے بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم خلیل الحیہ محفوظ رہے لیکن ان کے بیٹے اور معاون سمیت 6 افراد شہید ہو گئے۔</p>
<p>خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘  کے مطابق اسرائیلی میڈیا نے اعلیٰ اسرائیلی حکام کے حوالے سے بتایا کہ قطر میں حماس کی قیادت پر حملہ کیا گیا، جن میں خلیل الحیہ اور جابرین شامل ہیں۔</p>
<p>اسرائیلی چینل 12 نے ایک اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر میں حماس کی قیادت پر حملے کی اجازت دی۔</p>
<p>حماس کے ایک ذرائع نے قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کو بتایا کہ حملے کا نشانہ حماس کی مذاکراتی ٹیم تھی۔</p>
<p>یہ حملہ اُس وقت ہوا جب حماس کے مذاکرات کار امریکا کی جانب سے پیش کی گئی تازہ ترین جنگ بندی کی تجویز پر غور کرنے کے لیے ملاقات کر رہے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268803"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دریں اثنا، الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حماس کے سیاسی بیورو کے رکن سہیل الہندی نے بتایا کہ سینئر رہنما خلیل الحیہ اور دیگر حماس رہنماؤں کو شہید کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ لیکن اس اسرائیلی حملے میں خلیل الحیہ کے صاحبزادے ہمام اور ان کے اعلیٰ معاونین میں سے ایک شہید ہو گئے جبکہ تین دیگر باڈی گارڈز سے رابطہ بھی منقطع ہو گیا۔</p>
<p>بی بی سی نے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/live/c78m71vl91vt?post=asset%3Aab7f9622-799e-404b-831d-6745e3374ab5#post"><strong>رپورٹ</strong></a> کیا کہ سہیل الہندی کے مطابق خلیل الحیہ کے بیٹے ہمام الحیہ ، الحیہ کے دفتر کے ڈائریکٹر جہاد لبد، عبداللہ عبد الواحد (ابو خلیل)، معمن حسونہ (ابو عمر)، احمد المملوک (ابو مالک) شہید ہوگئے۔</p>
<p>مزید بتایا کہ اس کے علاوہ قطر کی اندرونی سیکیورٹی فورسز کے رکن کارپورل بدر سعد محمد الحمایدی بھی حملے میں شہید ہوئے۔</p>
<p>حماس رہنما سہیل الہندی نے قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دوحہ میں ہونے والا حملہ بنیادی طور پر حماس اور قطر کو نشانہ بنانے کے لیے تھا، لیکن یہ دراصل تمام عربوں، مسلمانوں اور دنیا بھر کے آزاد لوگوں پر جارحیت ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آزاد دنیا کو اس سنگین جرم، یعنی غزہ پر جنگ ختم کرنے پر بات کرنے والوں کو قتل کرنے کی کوشش کو مسترد کرنا چاہیے۔</p>
<p>سہیل  الہندی نے اسرائیل کے فلسطینیوں پر حملوں کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا، انہوں نے مزید کہا کہ محض مذمتیں اور بیانات کافی نہیں ہیں۔</p>
<p>قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ مجرمانہ حملہ تمام بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے اور قطری شہریوں اور قطر میں مقیم افراد کی سلامتی و تحفظ کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268846"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ڈاکٹر ماجد الانصاری نے کہا کہ یہ حملہ ایک رہائشی عمارت پر کیا گیا، جہاں حماس کے سیاسی بیورو کے متعدد ارکان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مقیم ہیں۔</p>
<p>قبل ازیں، ’رائٹرز‘ نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ منگل (9 ستمبر) کو  دوحہ میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔</p>
<p>امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کے رپورٹر باراک راوِد نے اسرائیلی حکام کے حوالے سے بتایا کہ دوحہ میں ہونے والا دھماکہ حماس کے عہدیداران پر کیا گیا، ایک عینی شاہد کے مطابق دارالحکومت کے کتارا ڈسٹرکٹ پر دھواں اٹھتے دیکھا گیا۔</p>
<p>اسرائیلی آرمی ریڈیو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے قطر میں حماس کے عہدیداران کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔</p>
<h1><a id="امریکا-کا-دوحہ-حملے-پر-تبصرہ-سے-انکار" href="#امریکا-کا-دوحہ-حملے-پر-تبصرہ-سے-انکار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>امریکا کا دوحہ حملے پر تبصرہ سے انکار</h1>
<p>وائٹ ہاؤس کی ڈپٹی پریس سیکریٹری اینا کیلی نے الجزیرہ کو بتایا کہ دوحہ میں اسرائیلی حملوں پر امریکی انتظامیہ کی جانب سے کوئی تبصرہ نہیں کیا جا رہا، وہ واضح طور پر اس صورتحال کو دیکھ رہے ہیں کہ یہ کیسے آگے بڑھتی ہے۔</p>
<p>اینا کیلی کے مطابق امریکی صدر غالبا سب سے پہلے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر اس پر تبصرہ کریں گے، اس کے علاوہ، ساڑھے 3 گھنٹے بعد ہماری ایک پریس بریفنگ ہے، جہاں وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کو  کئی سوالوں کے جوابات دینے کا موقع ملے گا۔</p>
<p>ڈپٹی پریس سیکریٹری نے مزید کہا کہ یہ بات کہ آیا امریکی کمانڈر اِن چیف نے قطر پر اس حملے کی منظوری دی تھی، جہاں امریکا کا فوجی اڈہ بھی موجود ہے، فی الحال قیاس آرائیوں پر مبنی ہے۔</p>
<h1><a id="ایران-کا-ردِ-عمل" href="#ایران-کا-ردِ-عمل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ایران کا ردِ عمل</h1>
<p>ترجمان ایرانی وزیرِ خارجہ اسمٰعیل بقائی نے قطر پر اسرائیلی حملےکو  مجرمانہ، نہایت خطرناک، بین الاقوامی قانون، قطر کی خودمختاری اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PressTV/status/1965412450095997231"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ فلسطین اور مغربی ایشیا میں صہیونی حکومت کے جرائم پر عالمی برادری کی خاموشی سب کے لیے خطرہ ہے۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر کے سفارتی مشیر نے کہا کہ ہم قطر کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس ’غدارانہ‘ اسرائیلی حملے کی پُر زور مذمت کرتے ہیں۔</p>
<h1><a id="ایک-ماہ-کے-دوران-اسرائیل-کے-6-عرب-ممالک-پر-حملے" href="#ایک-ماہ-کے-دوران-اسرائیل-کے-6-عرب-ممالک-پر-حملے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ایک ماہ کے دوران اسرائیل کے 6 عرب ممالک پر حملے</h1>
<p>خبر رساں ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق دوحہ کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فوجی حملے اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ خطے میں اسرائیل کی فوجی مہم کس قدر پھیل چکی ہے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتوں کے دوران اسرائیل غزہ پر تو مسلسل بمباری کر ہی رہا ہے، ساتھ ہی باقاعدگی سے لبنان، شام اور یمن میں بھی حملے کیے گئے۔</p>
<p>8 ستمبر کو ایک مشتبہ اسرائیلی ڈرون نے تیونس میں لنگر انداز غزہ جانے والے امدادی جہاز کو بھی نشانہ بنایا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1268832</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Sep 2025 23:17:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/091848052c3070a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/091848052c3070a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/09224950faec8c5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/09224950faec8c5.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/09182128cb5fb71.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/09182128cb5fb71.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
