<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Amazing</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 31 May 2026 10:56:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 31 May 2026 10:56:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اڑنے والی کاریں آزمائشی پرواز کے دوران ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1269508/</link>
      <description>&lt;p&gt;چینی کمپنی کی جانب سے جلد ہی فروخت کے لیے پیش کی جانے والی ہیلی کاپٹر کی طرح اڑنے والی کاریں آزمائشی پروازوں کے دوران ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق چینی کمپنی کی جانب سے جلد ہی فروخت کے لیے پیش کی جانے والی اڑنے والی کاروں کے آپس میں ٹکرانے سے کمپنی کے معیار پر بھی لوگ سوال اٹھانے لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اڑنے والی کاروں کی آزمائشی پروازوں کا فیسٹیول جاری تھا، جہاں دو کاریں نچلی اونچائی پر دوران پرواز آپس میں ٹکرا گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروں کے ایک دوسرے سے ٹکرانے کے بعد دونوں کاروں کے ڈرائیورز نے انہیں ہنگامی بنیادوں پر اتارا لیکن کاروں کے زمین کے اترنے تک ایک کار میں آگ لگ گئی اور ایک ڈرائیور زخمی ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کی جس کمپنی کی فضائی کاریں آپس میں ٹکرائیں، ان کی قیمت 3 لاکھ امریکی ڈالر تک ہے، یعنی ان کی قیمت پاکستانی ساڑھے 8 کروڑ روپے تک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آڑان بھرنے والی کاریں نچلی سطح پر پرواز کرتی ہیں، ایسی کاریں زیادہ سے زیادہ 3 ہزار میٹر کی بلندی پر پرواز کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین پرواز کرنے والی کاریں بنانے والا سب سے بڑا ملک ہے جب کہ چین بھر میں متعدد کاموں اور سفری سہولیات کے لیے نچلی سطح پر پرواز کرنے والی ہزاروں ڈرونز بھی اُپریشنل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کی درجنوں کمپنیاں نہ صرف الیکٹرک گاڑیاں بلکہ پرواز کرنے والی کاریں اور ٹیکسیاں بنانے میں بھی مصروف ہیں اور ان کے کاروبار میں آئے دن اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/lRYRL5kC1sM?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چینی کمپنی کی جانب سے جلد ہی فروخت کے لیے پیش کی جانے والی ہیلی کاپٹر کی طرح اڑنے والی کاریں آزمائشی پروازوں کے دوران ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں۔</p>
<p>امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق چینی کمپنی کی جانب سے جلد ہی فروخت کے لیے پیش کی جانے والی اڑنے والی کاروں کے آپس میں ٹکرانے سے کمپنی کے معیار پر بھی لوگ سوال اٹھانے لگے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اڑنے والی کاروں کی آزمائشی پروازوں کا فیسٹیول جاری تھا، جہاں دو کاریں نچلی اونچائی پر دوران پرواز آپس میں ٹکرا گئیں۔</p>
<p>کاروں کے ایک دوسرے سے ٹکرانے کے بعد دونوں کاروں کے ڈرائیورز نے انہیں ہنگامی بنیادوں پر اتارا لیکن کاروں کے زمین کے اترنے تک ایک کار میں آگ لگ گئی اور ایک ڈرائیور زخمی ہوگیا۔</p>
<p>چین کی جس کمپنی کی فضائی کاریں آپس میں ٹکرائیں، ان کی قیمت 3 لاکھ امریکی ڈالر تک ہے، یعنی ان کی قیمت پاکستانی ساڑھے 8 کروڑ روپے تک ہے۔</p>
<p>آڑان بھرنے والی کاریں نچلی سطح پر پرواز کرتی ہیں، ایسی کاریں زیادہ سے زیادہ 3 ہزار میٹر کی بلندی پر پرواز کرتی ہیں۔</p>
<p>چین پرواز کرنے والی کاریں بنانے والا سب سے بڑا ملک ہے جب کہ چین بھر میں متعدد کاموں اور سفری سہولیات کے لیے نچلی سطح پر پرواز کرنے والی ہزاروں ڈرونز بھی اُپریشنل ہیں۔</p>
<p>چین کی درجنوں کمپنیاں نہ صرف الیکٹرک گاڑیاں بلکہ پرواز کرنے والی کاریں اور ٹیکسیاں بنانے میں بھی مصروف ہیں اور ان کے کاروبار میں آئے دن اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/lRYRL5kC1sM?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1269508</guid>
      <pubDate>Wed, 17 Sep 2025 23:47:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/17224221e26ddbc.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/17224221e26ddbc.webp"/>
        <media:title>—اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
