<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 15 Apr 2026 03:11:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 15 Apr 2026 03:11:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک-سعودیہ دفاعی معاہدہ: سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ، 100 انڈیکس تاریخی سطح پر پہنچ گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1269571/</link>
      <description>&lt;p&gt;سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو 1700 پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور یہ تقریباً  ایک لاکھ 58 ہزار کی تاریخی بلند ترین سطح کے قریب بند  ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 1775 پوائنٹس (1.14 فیصد) بڑھ کر  ایک لاکھ 57 ہزار 953  پوائنٹس پر بند ہوا، جو تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان اور سعودی عرب نے ایک تاریخی باہمی دفاعی معاہدہ کیا ہے جس کے تحت کسی بھی ریاست کے خلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، اس ’ اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ’  پر سعودی دارالحکومت ریاض کے الیمامہ پیلس میں وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دستخط کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے کے ڈی سیکیورٹیز کے ریسرچ ڈائریکٹر اویس اشرف نے ڈان نیوز  سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے نے ’  سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دی ہے’  جس کی وجہ سے کے ایس ای-100 انڈیکس بلند ترین سطح کے قریب بند ہوا اور آج کے سیشن میں دوسرے سب سے زیادہ کاروباری حجم ریکارڈ ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269566"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’ یہ معاہدہ سعودی عرب کے ساتھ مزید تعاون کی راہیں کھولنے کی توقع ہے، جس میں ہنر مند افرادی قوت کی زیادہ برآمد اور پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھنے کے امکانات شامل ہیں۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ ریاض کے اختتام پر اسلام آباد اور ریاض کی جانب سے بیک وقت جاری کیے گئے مشترکہ بیان کے متن کے مطابق یہ معاہدہ ’ دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اپنی سیکیورٹی کو بہتر بنائیں اور خطے اور دنیا میں امن و سلامتی حاصل کریں۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ ’  اس ( معاہدے) کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے پہلوؤں کو ترقی دینے اور کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم بات یہ ہے کہ متن میں واضح کیا گیا کہ ’ کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت سمجھا جائے گا۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایک عرب سربراہی اجلاس کے فوراً بعد اجتماعی سلامتی کی طرف تبدیلی کا اشارہ ملا،  خاص طور پر قطر پر اسرائیلی حملے کے تناظر میں ، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اقدام اس صورتحال سے جڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269558"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات میں دہائیوں کے سب سے بڑے پیش رفت کی علامت ہے،  دونوں ممالک کا تعاون 1967 سے ہے اور 1979 میں مسجدِ حرام کے واقعے کے بعد مزید گہرا ہوا  جب پاکستانی اسپیشل فورسز نے سعودی افواج کی مدد سے مسجدِ حرام کا کنٹرول دوبارہ حاصل کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1982 میں دونوں ممالک نے ایک دوطرفہ سیکیورٹی تعاون کے معاہدے کے ذریعے تعلقات کو باضابطہ شکل دی تھی، جس کے تحت پاکستان نے سعودی سرزمین پر تربیت، مشاورتی معاونت اور تعیناتی فراہم کی، بعض اوقات 20 ہزار تک پاکستانی فوجی سعودی عرب میں تعینات رہے اور سعودی عرب پاکستانی ساختہ ہتھیاروں کا اہم خریدار بن گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ برسوں میں خطے میں عدم استحکام کے باعث یہ شراکت داری زیادہ اہم ہو گئی، فروری میں ریاض میں ہونے والی جوائنٹ ملٹری کوآپریشن کمیٹی کی میٹنگ میں تربیت اور تبادلوں کو بڑھانے کا عزم ظاہر کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیا معاہدہ ان وعدوں کو باضابطہ شکل دیتا ہے جو طویل عرصے سے عملی طور پر موجود تھے، اور بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ایک مؤثر مشترکہ دفاعی ڈھانچے کی صورت میں سامنے آیا ہے، اگرچہ اس کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے یہ معاہدہ اسٹریٹجک اور معاشی دونوں طرح کے فوائد رکھتا ہے، یہ اہم سعودی سرمایہ کاری اور فنڈنگ کو محفوظ بناتا ہے جبکہ اسلام آباد کے ’ پین اسلامک’ سیکیورٹی فراہم کنندہ کے کردار کو بھی مستحکم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269539"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب کے لیے یہ ایران، حوثی ملیشیاؤں اور اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کے باعث پیدا ہونے والے خطرات کے مقابلے میں دفاع کو مضبوط بناتا ہے۔ دوحہ میں حماس کے وفد کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی حملے نے اس معاہدے کی فوری ضرورت کو مزید بڑھا دیا، جس پر کچھ عرصے سے بات ہو رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے پرانے دفاعی اتحاد، جیسے سرد جنگ کے دور میں امریکا کے ساتھ معاہدے یا سیٹو اور سینٹو کے تحت، اب قصۂ پارینہ ہو چکے ہیں۔ چین، ترکیہ اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ اسلام آباد کی شراکت داری اب بھی اہم ہے مگر ان میں باہمی دفاعی شقیں شامل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پس منظر میں بدھ کو ہونے والے دستخط پاکستان کی دہائیوں میں سب سے اہم باضابطہ دفاعی وابستگی ہیں، جو خلیج کے ابھرتے ہوئے اسٹریٹجک ڈھانچے میں پاکستان کے سیکیورٹی کردار کو مضبوطی سے جوڑتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو 1700 پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور یہ تقریباً  ایک لاکھ 58 ہزار کی تاریخی بلند ترین سطح کے قریب بند  ہوا۔</p>
<p>بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 1775 پوائنٹس (1.14 فیصد) بڑھ کر  ایک لاکھ 57 ہزار 953  پوائنٹس پر بند ہوا، جو تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان اور سعودی عرب نے ایک تاریخی باہمی دفاعی معاہدہ کیا ہے جس کے تحت کسی بھی ریاست کے خلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، اس ’ اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ’  پر سعودی دارالحکومت ریاض کے الیمامہ پیلس میں وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دستخط کیے تھے۔</p>
<p>اے کے ڈی سیکیورٹیز کے ریسرچ ڈائریکٹر اویس اشرف نے ڈان نیوز  سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے نے ’  سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دی ہے’  جس کی وجہ سے کے ایس ای-100 انڈیکس بلند ترین سطح کے قریب بند ہوا اور آج کے سیشن میں دوسرے سب سے زیادہ کاروباری حجم ریکارڈ ہوئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269566"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’ یہ معاہدہ سعودی عرب کے ساتھ مزید تعاون کی راہیں کھولنے کی توقع ہے، جس میں ہنر مند افرادی قوت کی زیادہ برآمد اور پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھنے کے امکانات شامل ہیں۔’</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ ریاض کے اختتام پر اسلام آباد اور ریاض کی جانب سے بیک وقت جاری کیے گئے مشترکہ بیان کے متن کے مطابق یہ معاہدہ ’ دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اپنی سیکیورٹی کو بہتر بنائیں اور خطے اور دنیا میں امن و سلامتی حاصل کریں۔’</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ ’  اس ( معاہدے) کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے پہلوؤں کو ترقی دینے اور کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔’</p>
<p>اہم بات یہ ہے کہ متن میں واضح کیا گیا کہ ’ کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت سمجھا جائے گا۔’</p>
<p>یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایک عرب سربراہی اجلاس کے فوراً بعد اجتماعی سلامتی کی طرف تبدیلی کا اشارہ ملا،  خاص طور پر قطر پر اسرائیلی حملے کے تناظر میں ، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اقدام اس صورتحال سے جڑا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269558"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات میں دہائیوں کے سب سے بڑے پیش رفت کی علامت ہے،  دونوں ممالک کا تعاون 1967 سے ہے اور 1979 میں مسجدِ حرام کے واقعے کے بعد مزید گہرا ہوا  جب پاکستانی اسپیشل فورسز نے سعودی افواج کی مدد سے مسجدِ حرام کا کنٹرول دوبارہ حاصل کیا تھا۔</p>
<p>1982 میں دونوں ممالک نے ایک دوطرفہ سیکیورٹی تعاون کے معاہدے کے ذریعے تعلقات کو باضابطہ شکل دی تھی، جس کے تحت پاکستان نے سعودی سرزمین پر تربیت، مشاورتی معاونت اور تعیناتی فراہم کی، بعض اوقات 20 ہزار تک پاکستانی فوجی سعودی عرب میں تعینات رہے اور سعودی عرب پاکستانی ساختہ ہتھیاروں کا اہم خریدار بن گیا۔</p>
<p>حالیہ برسوں میں خطے میں عدم استحکام کے باعث یہ شراکت داری زیادہ اہم ہو گئی، فروری میں ریاض میں ہونے والی جوائنٹ ملٹری کوآپریشن کمیٹی کی میٹنگ میں تربیت اور تبادلوں کو بڑھانے کا عزم ظاہر کیا گیا۔</p>
<p>نیا معاہدہ ان وعدوں کو باضابطہ شکل دیتا ہے جو طویل عرصے سے عملی طور پر موجود تھے، اور بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ایک مؤثر مشترکہ دفاعی ڈھانچے کی صورت میں سامنے آیا ہے، اگرچہ اس کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں۔</p>
<p>پاکستان کے لیے یہ معاہدہ اسٹریٹجک اور معاشی دونوں طرح کے فوائد رکھتا ہے، یہ اہم سعودی سرمایہ کاری اور فنڈنگ کو محفوظ بناتا ہے جبکہ اسلام آباد کے ’ پین اسلامک’ سیکیورٹی فراہم کنندہ کے کردار کو بھی مستحکم کرتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269539"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سعودی عرب کے لیے یہ ایران، حوثی ملیشیاؤں اور اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کے باعث پیدا ہونے والے خطرات کے مقابلے میں دفاع کو مضبوط بناتا ہے۔ دوحہ میں حماس کے وفد کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی حملے نے اس معاہدے کی فوری ضرورت کو مزید بڑھا دیا، جس پر کچھ عرصے سے بات ہو رہی تھی۔</p>
<p>پاکستان کے پرانے دفاعی اتحاد، جیسے سرد جنگ کے دور میں امریکا کے ساتھ معاہدے یا سیٹو اور سینٹو کے تحت، اب قصۂ پارینہ ہو چکے ہیں۔ چین، ترکیہ اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ اسلام آباد کی شراکت داری اب بھی اہم ہے مگر ان میں باہمی دفاعی شقیں شامل نہیں۔</p>
<p>اس پس منظر میں بدھ کو ہونے والے دستخط پاکستان کی دہائیوں میں سب سے اہم باضابطہ دفاعی وابستگی ہیں، جو خلیج کے ابھرتے ہوئے اسٹریٹجک ڈھانچے میں پاکستان کے سیکیورٹی کردار کو مضبوطی سے جوڑتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1269571</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Sep 2025 17:40:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/18171015a185ebb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/18171015a185ebb.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
