<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 25 Apr 2026 20:32:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 25 Apr 2026 20:32:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا کا بھاری بھرکم ٹیرف اور تجارتی پابندیوں کے بعد بھارت کو ایک اور جھٹکا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1269626/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکا نے بھاری بھرکم ٹیرف اور تجارتی پابندیاں عائد کرنے کے بعد ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کو دی گئی چھوٹ واپس لے کر بھارت کو ایک اور جھٹکا دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ خارجہ نے ایک &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.state.gov/releases/office-of-the-spokesperson/2025/09/targeting-financial-network-generating-millions-for-iranian-military-and-additional-actions-in-support-of-maximum-pressure-on-iran"&gt;&lt;strong&gt;بیان&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں کہا ہے کہ ایرانی حکومت کو تنہا کرنے کے لیے صدر ٹرمپ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کے تحت امریکی وزیر خارجہ نے ایران فریڈم اینڈ کاؤنٹر پرافیلیریشن ایکٹ (آئی ایف سی اے) کے تحت افغانستان کی تعمیرِ نو اور اقتصادی ترقی کے لیے 2018 میں دیا گیا پابندیوں سے استثنیٰ ختم کر دیا ہے، جو 29 ستمبر 2025 سے مؤثر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ خارجہ کے مطابق اس استثنیٰ کے خاتمے کے بعد، جو افراد چاہ بہار بندرگاہ کے آپریشن یا آئی ایف سی اے میں بیان کردہ دیگر سرگرمیوں میں شامل ہوں گے، وہ اس قانون کے تحت پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1266065"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت کے فیصلے کا اثر بھارت پر بھی پڑ سکتا ہے، جو خلیج عمان پر واقع چاہ بہار بندرگاہ میں ایک ٹرمینل تیار کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;13 مئی 2024 کو انڈین پورٹس گلوبل لمیٹڈ اور ایران کی پورٹ اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن نے ایک طویل المدتی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس نے 2016 کے ابتدائی معاہدے کی جگہ لی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدہ چاہ بہار بندرگاہ کے شاہد بہشتی ٹرمینل پر بھارت کے آپریشنز سے متعلق ہے اور اسے ہر سال تجدید کیا جاتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ایران کے مبینہ ایٹمی پروگرام کی وجہ سے اس پر عائد امریکی پابندیوں نے بندرگاہ کی ترقی کی رفتار کو سست کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکا نے بھاری بھرکم ٹیرف اور تجارتی پابندیاں عائد کرنے کے بعد ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کو دی گئی چھوٹ واپس لے کر بھارت کو ایک اور جھٹکا دے دیا۔</p>
<p>امریکی محکمہ خارجہ نے ایک <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.state.gov/releases/office-of-the-spokesperson/2025/09/targeting-financial-network-generating-millions-for-iranian-military-and-additional-actions-in-support-of-maximum-pressure-on-iran"><strong>بیان</strong></a> میں کہا ہے کہ ایرانی حکومت کو تنہا کرنے کے لیے صدر ٹرمپ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کے تحت امریکی وزیر خارجہ نے ایران فریڈم اینڈ کاؤنٹر پرافیلیریشن ایکٹ (آئی ایف سی اے) کے تحت افغانستان کی تعمیرِ نو اور اقتصادی ترقی کے لیے 2018 میں دیا گیا پابندیوں سے استثنیٰ ختم کر دیا ہے، جو 29 ستمبر 2025 سے مؤثر ہوگا۔</p>
<p>محکمہ خارجہ کے مطابق اس استثنیٰ کے خاتمے کے بعد، جو افراد چاہ بہار بندرگاہ کے آپریشن یا آئی ایف سی اے میں بیان کردہ دیگر سرگرمیوں میں شامل ہوں گے، وہ اس قانون کے تحت پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1266065"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت کے فیصلے کا اثر بھارت پر بھی پڑ سکتا ہے، جو خلیج عمان پر واقع چاہ بہار بندرگاہ میں ایک ٹرمینل تیار کر رہا ہے۔</p>
<p>13 مئی 2024 کو انڈین پورٹس گلوبل لمیٹڈ اور ایران کی پورٹ اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن نے ایک طویل المدتی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس نے 2016 کے ابتدائی معاہدے کی جگہ لی تھی۔</p>
<p>یہ معاہدہ چاہ بہار بندرگاہ کے شاہد بہشتی ٹرمینل پر بھارت کے آپریشنز سے متعلق ہے اور اسے ہر سال تجدید کیا جاتا رہا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ایران کے مبینہ ایٹمی پروگرام کی وجہ سے اس پر عائد امریکی پابندیوں نے بندرگاہ کی ترقی کی رفتار کو سست کر دیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1269626</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Sep 2025 15:00:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/19131508502ead1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/19131508502ead1.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
