<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 23:40:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 23:40:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران پر پابندیوں میں نرمی کی قرارداد مسترد کر دی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1269649/</link>
      <description>&lt;p&gt;اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کے جوہری پروگرام کے  معاملے پر اقتصادی پابندیاں مستقل طور پر اٹھانے کے خلاف ووٹ دے دیا، جو تہران کے لیے ایک بڑا اقتصادی دھچکا ہے، جسے ایران نے ’سیاسی جانبداری‘ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/news/2025/9/19/un-security-council-rejects-resolution-to-extend-iran-sanctions-relief"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق سلامتی کونسل میں پابندیوں کو روکنے کی قرارداد 4 کے مقابلے میں 9 ووٹ سے ناکام ہو گئی، جس کا مطلب ہے کہ اگر اس سے پہلے کوئی بڑا معاہدہ نہ ہوا تو یورپی پابندیاں 28 ستمبر تک دوبارہ نافذ ہو جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس، چین، پاکستان اور الجیریا نے پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کو روکنے کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ سلامتی کونسل کے 9 اراکین نے پابندیوں میں نرمی کے خلاف ووٹ دیا، 2 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ اگست کے آخر میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی  نے کہا تھا کہ اگر تہران مطالبات پورے نہ کرے تو پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی جائیں، جس کے بعد 30 روز کے بعد یہ عمل شروع ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="یورپ-مشترکہ-جامع-ایکشن-پلان-میکانزم-کا-غلط-استعمال-کر-رہا-ہے-ایران-کا-الزام" href="#یورپ-مشترکہ-جامع-ایکشن-پلان-میکانزم-کا-غلط-استعمال-کر-رہا-ہے-ایران-کا-الزام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;یورپ مشترکہ جامع ایکشن پلان میکانزم کا غلط استعمال کر رہا ہے، ایران کا الزام&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ادھر، ایرانی حکام نے الزام لگایا ہے کہ تین یورپی ممالک پر 2015 کے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے معاہدے کو غلط استعمال کر رہے ہیں، جو ’اسنیپ بیک میکانزم‘ کے تحت پابندیاں لگانے کی اجازت دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269416"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہا کہ  ’جو کچھ یورپی کر رہے ہیں وہ سیاسی جانبداری اور سیاسی مقاصد پر مبنی ہے، اور وہ کئی حوالے سے غلط ہیں کیونکہ وہ مشترکہ جامع ایکشن پلان (جے سی او پی اے) میں شامل میکانزم کو غلط استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی ممالک نے یہ پیشکش کی تھی کہ اگر ایران اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو دوبارہ رسائی دے اور امریکا کے ساتھ بات چیت کرے تو وہ اسنیپ بیک عمل کو چھ ماہ تک مؤخر کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ تہران نے ایک ’مناسب اور قابلِ عمل منصوبہ‘ پیش کیا ہے اور زور دیا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے معاہدے پر عمل کرنے کے لیے پرُعزم ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کے جوہری پروگرام کے  معاملے پر اقتصادی پابندیاں مستقل طور پر اٹھانے کے خلاف ووٹ دے دیا، جو تہران کے لیے ایک بڑا اقتصادی دھچکا ہے، جسے ایران نے ’سیاسی جانبداری‘ قرار دیا۔</p>
<p>قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/news/2025/9/19/un-security-council-rejects-resolution-to-extend-iran-sanctions-relief"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق سلامتی کونسل میں پابندیوں کو روکنے کی قرارداد 4 کے مقابلے میں 9 ووٹ سے ناکام ہو گئی، جس کا مطلب ہے کہ اگر اس سے پہلے کوئی بڑا معاہدہ نہ ہوا تو یورپی پابندیاں 28 ستمبر تک دوبارہ نافذ ہو جائیں گی۔</p>
<p>روس، چین، پاکستان اور الجیریا نے پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کو روکنے کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ سلامتی کونسل کے 9 اراکین نے پابندیوں میں نرمی کے خلاف ووٹ دیا، 2 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ اگست کے آخر میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی  نے کہا تھا کہ اگر تہران مطالبات پورے نہ کرے تو پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی جائیں، جس کے بعد 30 روز کے بعد یہ عمل شروع ہوا۔</p>
<h1><a id="یورپ-مشترکہ-جامع-ایکشن-پلان-میکانزم-کا-غلط-استعمال-کر-رہا-ہے-ایران-کا-الزام" href="#یورپ-مشترکہ-جامع-ایکشن-پلان-میکانزم-کا-غلط-استعمال-کر-رہا-ہے-ایران-کا-الزام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>یورپ مشترکہ جامع ایکشن پلان میکانزم کا غلط استعمال کر رہا ہے، ایران کا الزام</h1>
<p>ادھر، ایرانی حکام نے الزام لگایا ہے کہ تین یورپی ممالک پر 2015 کے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے معاہدے کو غلط استعمال کر رہے ہیں، جو ’اسنیپ بیک میکانزم‘ کے تحت پابندیاں لگانے کی اجازت دیتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269416"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہا کہ  ’جو کچھ یورپی کر رہے ہیں وہ سیاسی جانبداری اور سیاسی مقاصد پر مبنی ہے، اور وہ کئی حوالے سے غلط ہیں کیونکہ وہ مشترکہ جامع ایکشن پلان (جے سی او پی اے) میں شامل میکانزم کو غلط استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>یورپی ممالک نے یہ پیشکش کی تھی کہ اگر ایران اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو دوبارہ رسائی دے اور امریکا کے ساتھ بات چیت کرے تو وہ اسنیپ بیک عمل کو چھ ماہ تک مؤخر کر سکتے ہیں۔</p>
<p>ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ تہران نے ایک ’مناسب اور قابلِ عمل منصوبہ‘ پیش کیا ہے اور زور دیا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے معاہدے پر عمل کرنے کے لیے پرُعزم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1269649</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Sep 2025 09:22:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/19202238860ed68.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/19202238860ed68.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: الجزیرہ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
