<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 02:12:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 02:12:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹک ٹاک کی فروخت کے معاملے پر امریکی اور چینی صدر کے درمیان بات چیت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1269656/</link>
      <description>&lt;p&gt;شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز کی فروخت کے معاملے پر 19 ستمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ٹیلی فون پر مذاکرات ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں صدور کے درمیان بات چیت کا مقصد ٹک ٹاک کو امریکا میں جاری رکھنے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تناؤ کو کم کرنے کے لیے معاہدہ طے کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/china/trump-xi-seek-tiktok-win-break-us-china-gridlock-2025-09-19/"&gt;&lt;strong&gt;’رائٹرز’&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق امریکی حکام نے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ میں دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلا ٹیلی فونک رابطہ تھا، تاہم دوسری جانب چینی حکام نے تاحال اس گفتگو کی تصدیق نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ذرائع نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو 19 ستمبر کی صبح کے وقت شروع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269318"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں رہنما ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (اے پی ای سی) سمٹ کے دوران 30 اکتوبر سے یکم نومبر تک جنوبی کوریا میں ملاقات کے امکان پر بھی غور کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند دن قبل 15 ستمبر کو ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا تھا کہ چین اور امریکا ٹک ٹاک کی فروخت کے معاملے پر متفق ہوگئے اور وہ مزید معاملات کے لیے چینی صدر سے بات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ نے 17 ستمبر کو امریکا میں ٹک ٹاک پر پابندی کی مدت کو چوتھی بار بڑھاتے ہوئے اس کی پابندی کی نئی تاریخ 16 ستمبر مقرر کردی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاک پر امریکا میں پابندی کا قانون گزشتہ سال منظور کیا گیا تھا، جس کے تحت ٹک ٹاک کو 20 جنوری 2025 تک اپنی ملکیت امریکی ہاتھوں میں منتقل کرنا تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون کے مطابق ٹک ٹاک اپنی چینی ملکیت سے الگ ہو کیونکہ قانون سازوں اور انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ چینی حکومت اس ایپ کے ذریعے امریکی صارفین کا حساس ڈیٹا حاصل کر سکتی ہے یا پروپیگنڈا پھیلا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاک نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس نے ڈیٹا کی حفاظت کے اقدامات کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز کی فروخت کے معاملے پر 19 ستمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ٹیلی فون پر مذاکرات ہوئے۔</p>
<p>دونوں صدور کے درمیان بات چیت کا مقصد ٹک ٹاک کو امریکا میں جاری رکھنے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تناؤ کو کم کرنے کے لیے معاہدہ طے کرنا تھا۔</p>
<p>خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/china/trump-xi-seek-tiktok-win-break-us-china-gridlock-2025-09-19/"><strong>’رائٹرز’</strong></a> کے مطابق امریکی حکام نے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ میں دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلا ٹیلی فونک رابطہ تھا، تاہم دوسری جانب چینی حکام نے تاحال اس گفتگو کی تصدیق نہیں کی۔</p>
<p>امریکی ذرائع نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو 19 ستمبر کی صبح کے وقت شروع ہوئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269318"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دونوں رہنما ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (اے پی ای سی) سمٹ کے دوران 30 اکتوبر سے یکم نومبر تک جنوبی کوریا میں ملاقات کے امکان پر بھی غور کر رہے ہیں۔</p>
<p>چند دن قبل 15 ستمبر کو ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا تھا کہ چین اور امریکا ٹک ٹاک کی فروخت کے معاملے پر متفق ہوگئے اور وہ مزید معاملات کے لیے چینی صدر سے بات کریں گے۔</p>
<p>ڈونلڈ ٹرمپ نے 17 ستمبر کو امریکا میں ٹک ٹاک پر پابندی کی مدت کو چوتھی بار بڑھاتے ہوئے اس کی پابندی کی نئی تاریخ 16 ستمبر مقرر کردی تھی۔</p>
<p>ٹک ٹاک پر امریکا میں پابندی کا قانون گزشتہ سال منظور کیا گیا تھا، جس کے تحت ٹک ٹاک کو 20 جنوری 2025 تک اپنی ملکیت امریکی ہاتھوں میں منتقل کرنا تھی۔</p>
<p>قانون کے مطابق ٹک ٹاک اپنی چینی ملکیت سے الگ ہو کیونکہ قانون سازوں اور انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ چینی حکومت اس ایپ کے ذریعے امریکی صارفین کا حساس ڈیٹا حاصل کر سکتی ہے یا پروپیگنڈا پھیلا سکتی ہے۔</p>
<p>ٹک ٹاک نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس نے ڈیٹا کی حفاظت کے اقدامات کیے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1269656</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Sep 2025 22:46:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/19214747a296ecb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/19214747a296ecb.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
