<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style - Celebrity</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 20 Jun 2026 20:34:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 20 Jun 2026 20:34:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’دھواں‘ ڈرامے میں میری فرمائش پر میرے کردار کی موت کرائی گئی، نبیل ظفر کا انکشاف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1269691/</link>
      <description>&lt;p&gt;سینئر اداکار نبیل ظفر نے تین دہائیوں بعد انکشاف کیا ہے کہ پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) کے مقبول ڈرامے ’دھواں‘ میں ان کے کردار داؤد کی موت ان کی فرمائش پر کرائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’دھواں‘ کو 1994 میں پاکستان ٹیلی وژن پر نشر کیا گیا تھا، اس میں نبیل نے جاسوس پولیس افسر داؤد کا کردار ادا کیا تھا، جن کی دشمنوں سے مقابلے کے دوران موت ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں انہوں نے ’نیو ٹی وی‘ کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://youtube.com/watch?time_continue=967&amp;amp;v=9BoTAFR4mUE&amp;amp;embeds_referring_euri=https%3A%2F%2Freviewit.pk%2F&amp;amp;source_ve_path=MzY4NDIsMzY4NDIsMzY4NDIsMjg2NjY"&gt;&lt;strong&gt;پروگرام&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ’دھواں‘ میں انہیں ابتدائی طور پر محض 6 قسطوں کے لیے کاسٹ کیا گیا تھا لیکن ان کا کردار زیادہ قسطوں تک بڑھایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1266603"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق چونکہ انہوں نے پہلے ہی سوچ رکھا تھا کہ انہیں ایک حد تک کام کرنا ہے، اس لیے وہ ڈرامے میں کام کر کر کے تنگ آگئے اور انہوں نے ٹیم سے کوئٹہ سے واپس جانے کی اجازت مانگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ڈرامے کو کوئٹہ میں جنوری میں فلمایا جا رہا تھا، ہر روز شوٹنگ کرکے رات کو ڈراما ایڈٹ کرنے کے بعد نشر کیا جاتا تھا، اس لیے وہ کوئٹہ کی سردی سے بھی تنگ آگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نبیل ظفر کا کہنا تھا کہ انہوں نے ڈراما ٹیم کو بتایا کہ ان کے کردار کو ختم کرکے ان کی موت کروادی جائے اور انہیں جانے دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق ان کے دباؤ پر ڈراما ہدایت کار اور کیمرامین نے ان کی موت کا منظر بنایا اور کسی کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ ان کے کردار کی موت کا منظر سب سے زیادہ مقبول جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اداکار نے بتایا کہ انہیں خون کی جگہ روح افزا لگایا گیا اور وہ اپنے کردار کی موت کا منظر شوٹ کروانے کے بعد واپس فیصل آباد چلے گئے لیکن چند دن بعد جب ڈراما نشر ہوا تو وہ مقبول ہو چکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نبیل ظفر کا کہنا تھا کہ رشتے داروں، شائقین، اداکاروں اور ہدایت کاروں نے ان کے گھر پر فون کرکے ان سے ڈرامے کی اگلی قسط سے متعلق پوچھنا شروع کیا اور پورے ملک میں وہ مقبول ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اداکار نے بتایا کہ مذکورہ ڈرامے سے قبل وہ متعدد ڈرامے کر چکے تھے لیکن ان کی شہرت ’دھواں‘ سے ہوئی اور بعد ازاں انہوں نے ’عجائب گھر‘ نامی ڈراما کیا، جس سے ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/Y03-8G_zL_A?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سینئر اداکار نبیل ظفر نے تین دہائیوں بعد انکشاف کیا ہے کہ پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) کے مقبول ڈرامے ’دھواں‘ میں ان کے کردار داؤد کی موت ان کی فرمائش پر کرائی گئی۔</p>
<p>’دھواں‘ کو 1994 میں پاکستان ٹیلی وژن پر نشر کیا گیا تھا، اس میں نبیل نے جاسوس پولیس افسر داؤد کا کردار ادا کیا تھا، جن کی دشمنوں سے مقابلے کے دوران موت ہوجاتی ہے۔</p>
<p>حال ہی میں انہوں نے ’نیو ٹی وی‘ کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://youtube.com/watch?time_continue=967&amp;v=9BoTAFR4mUE&amp;embeds_referring_euri=https%3A%2F%2Freviewit.pk%2F&amp;source_ve_path=MzY4NDIsMzY4NDIsMzY4NDIsMjg2NjY"><strong>پروگرام</strong></a> میں بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ’دھواں‘ میں انہیں ابتدائی طور پر محض 6 قسطوں کے لیے کاسٹ کیا گیا تھا لیکن ان کا کردار زیادہ قسطوں تک بڑھایا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1266603"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کے مطابق چونکہ انہوں نے پہلے ہی سوچ رکھا تھا کہ انہیں ایک حد تک کام کرنا ہے، اس لیے وہ ڈرامے میں کام کر کر کے تنگ آگئے اور انہوں نے ٹیم سے کوئٹہ سے واپس جانے کی اجازت مانگی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ڈرامے کو کوئٹہ میں جنوری میں فلمایا جا رہا تھا، ہر روز شوٹنگ کرکے رات کو ڈراما ایڈٹ کرنے کے بعد نشر کیا جاتا تھا، اس لیے وہ کوئٹہ کی سردی سے بھی تنگ آگئے تھے۔</p>
<p>نبیل ظفر کا کہنا تھا کہ انہوں نے ڈراما ٹیم کو بتایا کہ ان کے کردار کو ختم کرکے ان کی موت کروادی جائے اور انہیں جانے دیا جائے۔</p>
<p>ان کے مطابق ان کے دباؤ پر ڈراما ہدایت کار اور کیمرامین نے ان کی موت کا منظر بنایا اور کسی کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ ان کے کردار کی موت کا منظر سب سے زیادہ مقبول جائے گا۔</p>
<p>اداکار نے بتایا کہ انہیں خون کی جگہ روح افزا لگایا گیا اور وہ اپنے کردار کی موت کا منظر شوٹ کروانے کے بعد واپس فیصل آباد چلے گئے لیکن چند دن بعد جب ڈراما نشر ہوا تو وہ مقبول ہو چکے تھے۔</p>
<p>نبیل ظفر کا کہنا تھا کہ رشتے داروں، شائقین، اداکاروں اور ہدایت کاروں نے ان کے گھر پر فون کرکے ان سے ڈرامے کی اگلی قسط سے متعلق پوچھنا شروع کیا اور پورے ملک میں وہ مقبول ہوگئے۔</p>
<p>اداکار نے بتایا کہ مذکورہ ڈرامے سے قبل وہ متعدد ڈرامے کر چکے تھے لیکن ان کی شہرت ’دھواں‘ سے ہوئی اور بعد ازاں انہوں نے ’عجائب گھر‘ نامی ڈراما کیا، جس سے ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/Y03-8G_zL_A?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1269691</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Sep 2025 17:41:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/20125925fd048b0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/20125925fd048b0.webp"/>
        <media:title>— اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
