<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 22:25:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 22:25:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1269903/</link>
      <description>&lt;p&gt;سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں زیر سماعت 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستیں 7 اکتوبر کو سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ میں دائر 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 8 رکنی آئینی بینچ 7 اکتوبر صبح ساڑھے گیارہ بجے کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئینی بینچ میں جسٹس جمال خان مندو خیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;11 ستمبر 2025 کو چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے بھی سپریم کورٹ سے &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1268997"&gt;&lt;strong&gt;مطالبہ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; تھا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے 27  جنوری 2025 کو ان درخواستوں پر پہلی سماعت کی گئی تھی، جس میں فریقین کو نوٹسز جاری کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سماعت پر وکلاء حامد خان اور فیصل صدیقی کی جانب سے درخواستوں پر سماعت کیلئے فل کورٹ بینچ تشکیل دینے اور عدالتی کارروائی کو لائیو اسٹریم کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1251634"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے فل کورٹ کی تشکیل اور لائیو اسٹریم کرنے کی درخواستوں پر بھی نوٹسز جاری کیے تھے، درخواست کو تین ہفتوں کے بعد سماعت کیلئے مقرر کرنے کے احکامات دیئے گئے تھے تاہم نامعلوم وجوہات کے باعث درخواستوں کو تین ہفتوں کے بعد سماعت کیلئے مقرر نہیں کیا جاسکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 21 اکتوبر 2024 کو ایوان بالا کے بعد 26 ویں آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی سے بھی دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظور ہو گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس کے بعد پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا انتخاب کیا گیا، اس سے قبل الجہاد ٹرسٹ کیس کے فیصلے کی روشنی میں سپریم کورٹ کا سب سے سینیئر جج ہی ملک کا چیف جسٹس ہوتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;26ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے قبل جسٹس منصور علی شاہ کو سنیارٹی اصول کے تحت اگلا چیف جسٹس پاکستان بننا تھے تاہم 22 اکتوبر 2024 کو چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئینی ترمیم میں سب سے زیادہ ترامیم آرٹیکل 175-اے میں کی گئی تھیں، جو سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور فیڈرل شریعت کورٹ میں ججوں کی تقرری کے عمل سے متعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان اور سندھ ہائی کورٹ میں اس سے قبل بھی درخواست دائر کی گئی تھیں، جس میں اس ترمیم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں زیر سماعت 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستیں 7 اکتوبر کو سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی ہیں۔</p>
<p>سپریم کورٹ میں دائر 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 8 رکنی آئینی بینچ 7 اکتوبر صبح ساڑھے گیارہ بجے کرے گا۔</p>
<p>آئینی بینچ میں جسٹس جمال خان مندو خیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل ہیں۔</p>
<p>11 ستمبر 2025 کو چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے بھی سپریم کورٹ سے <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1268997"><strong>مطالبہ</strong></a> تھا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کی جائیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے 27  جنوری 2025 کو ان درخواستوں پر پہلی سماعت کی گئی تھی، جس میں فریقین کو نوٹسز جاری کیے گئے تھے۔</p>
<p>گزشتہ سماعت پر وکلاء حامد خان اور فیصل صدیقی کی جانب سے درخواستوں پر سماعت کیلئے فل کورٹ بینچ تشکیل دینے اور عدالتی کارروائی کو لائیو اسٹریم کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1251634"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>عدالت نے فل کورٹ کی تشکیل اور لائیو اسٹریم کرنے کی درخواستوں پر بھی نوٹسز جاری کیے تھے، درخواست کو تین ہفتوں کے بعد سماعت کیلئے مقرر کرنے کے احکامات دیئے گئے تھے تاہم نامعلوم وجوہات کے باعث درخواستوں کو تین ہفتوں کے بعد سماعت کیلئے مقرر نہیں کیا جاسکا تھا۔</p>
<p>یاد رہے کہ 21 اکتوبر 2024 کو ایوان بالا کے بعد 26 ویں آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی سے بھی دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظور ہو گیا تھا۔</p>
<p>جس کے بعد پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا انتخاب کیا گیا، اس سے قبل الجہاد ٹرسٹ کیس کے فیصلے کی روشنی میں سپریم کورٹ کا سب سے سینیئر جج ہی ملک کا چیف جسٹس ہوتا تھا۔</p>
<p>26ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے قبل جسٹس منصور علی شاہ کو سنیارٹی اصول کے تحت اگلا چیف جسٹس پاکستان بننا تھے تاہم 22 اکتوبر 2024 کو چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا تھا۔</p>
<p>آئینی ترمیم میں سب سے زیادہ ترامیم آرٹیکل 175-اے میں کی گئی تھیں، جو سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور فیڈرل شریعت کورٹ میں ججوں کی تقرری کے عمل سے متعلق ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان اور سندھ ہائی کورٹ میں اس سے قبل بھی درخواست دائر کی گئی تھیں، جس میں اس ترمیم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1269903</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Sep 2025 20:50:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمرمہتاب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/232042051710281.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/232042051710281.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
