<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 10:07:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 10:07:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اقوامِ متحدہ اجلاس میں فلسطینی ریاست کے تذکرے کے دوران کئی عالمی رہنماؤں کے مائیک اچانک بند</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1269908/</link>
      <description>&lt;p&gt;اقوام متحدہ میں مائیکروفون کی بار بار خرابیوں نے صدر ترکیہ، کینیڈین وزیراعظم اور انڈونیشین صدر سمیت عالمی رہنماؤں کی اہم تقاریر میں خلل پیدا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترک خبر رساں ادارے ’ٹی آر ٹی ورلڈ‘ کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.trtworld.com/article/e9155e61255b"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق مائیک کی بندش کے واقعات ایسے وقت میں پیش آئے جب اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں غزہ میں جاری نسل کشی اور فلسطین کی ریاست کے مسئلے پر حساس بحث جاری تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈونیشیا کے صدر پرابووو سبینتو کا مائیکروفون اُس وقت بند ہوا جب وہ غزہ میں امن فوج بھیجنے کے منصوبے پر بات کر رہے تھے، ان کے مائیک کے بندش سے مترجم کو شدید مشکل کا سامنا کرنا پڑا، چند سیکنڈ بعد آڈیو بحال ہوئی تاہم یہ رکاوٹ نہایت اہم موقع پر سامنے آئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269900"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند گھنٹے قبل ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان کو بھی اسی طرح کی تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترک صدر جب غزہ میں اسرائیل کی جاری نسل کشی کی مذمت اور فلسطین کو فوری طور پر ریاست تسلیم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے تو اس دوان مترجم کی آواز سنائی دی کہ صدر کی آواز نہیں آرہی، ان کا مائیک بند ہے، خرابی فورا درست کر  لی گئی تاہم اس دوران ہال میں ایک الجھن پیدا ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے ڈرامائی واقعہ 22 ستمبر کو پیش آیا، جب کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے فلسطین کو باضابطہ طور پر ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کینیڈا ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرتا ہے، جس پر مندوبین کی جانب سے تالیاں بجائی گئیں، تاہم چند لمحوں بعد ان کا مائیکروفون اچانک بند ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تالیاں گونجنے کے باوجود آڈیو کے اچانک بند ہونے پر بعض مبصرین نے اس خلل کے وقت پر سوال اٹھائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269891"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کے ٹیکنیکل اسٹاف نے بعد میں کہا کہ خرابی جنرل اسمبلی ہال کے آلات کی وجہ سے تھی، جہاں رواں ہفتے درجنوں رہنماؤں نے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں خطاب کیا، حکام نے زور دے کر کہا کہ  کہ جان بوجھ کر مداخلت کا کوئی اشارہ نہیں ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تکنیکی رکاوٹیں ایسے وقت آئیں جب فلسطین اور غزہ اس سال کے ایجنڈے پر چھائے ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر گزرتے دن کے ساتھ کئی ممالک بشمول فرانس، بیلجیم، مالٹا، لکسمبرگ اور کینیڈا، فلسطین کو تسلیم کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران ترکیہ، انڈونیشیا اور دیگر ممالک کے رہنماؤں نے غزہ میں نسل کشی کو روکنے، انسانی ہمدردی کی رسائی کو یقینی بنانے اور ضرورت پڑنے پر امن فوج تعینات کرنے کے لیے فوری عالمی اقدام کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رجب طیب اردوان نے خبردار کیا کہ اسرائیل کے اقدامات نسل کشی کے مترادف ہیں، جبکہ پرابووو سبینتو نے کہا کہ انڈونیشیا اقوام متحدہ کے مشن کے لیے فوجی بھیجنے کو تیار ہے اگر اس پر اتفاق کر لیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مائیکروفون کی خرابیوں کے باوجود یہ پیغامات واضح طور پر پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوران اجلاس ایک مندوب نے مارک کارنی کی تقریر کے بعد کہا کہ چاہے مائیکروفون نے ساتھ نہ بھی دیا ہو، فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا بیان سب نے سن لیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اقوام متحدہ میں مائیکروفون کی بار بار خرابیوں نے صدر ترکیہ، کینیڈین وزیراعظم اور انڈونیشین صدر سمیت عالمی رہنماؤں کی اہم تقاریر میں خلل پیدا کیا ہے۔</p>
<p>ترک خبر رساں ادارے ’ٹی آر ٹی ورلڈ‘ کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.trtworld.com/article/e9155e61255b"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق مائیک کی بندش کے واقعات ایسے وقت میں پیش آئے جب اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں غزہ میں جاری نسل کشی اور فلسطین کی ریاست کے مسئلے پر حساس بحث جاری تھی۔</p>
<p>انڈونیشیا کے صدر پرابووو سبینتو کا مائیکروفون اُس وقت بند ہوا جب وہ غزہ میں امن فوج بھیجنے کے منصوبے پر بات کر رہے تھے، ان کے مائیک کے بندش سے مترجم کو شدید مشکل کا سامنا کرنا پڑا، چند سیکنڈ بعد آڈیو بحال ہوئی تاہم یہ رکاوٹ نہایت اہم موقع پر سامنے آئی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269900"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>چند گھنٹے قبل ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان کو بھی اسی طرح کی تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>ترک صدر جب غزہ میں اسرائیل کی جاری نسل کشی کی مذمت اور فلسطین کو فوری طور پر ریاست تسلیم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے تو اس دوان مترجم کی آواز سنائی دی کہ صدر کی آواز نہیں آرہی، ان کا مائیک بند ہے، خرابی فورا درست کر  لی گئی تاہم اس دوران ہال میں ایک الجھن پیدا ہو گئی۔</p>
<p>سب سے ڈرامائی واقعہ 22 ستمبر کو پیش آیا، جب کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے فلسطین کو باضابطہ طور پر ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کینیڈا ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرتا ہے، جس پر مندوبین کی جانب سے تالیاں بجائی گئیں، تاہم چند لمحوں بعد ان کا مائیکروفون اچانک بند ہوگیا۔</p>
<p>تالیاں گونجنے کے باوجود آڈیو کے اچانک بند ہونے پر بعض مبصرین نے اس خلل کے وقت پر سوال اٹھائے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269891"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اقوامِ متحدہ کے ٹیکنیکل اسٹاف نے بعد میں کہا کہ خرابی جنرل اسمبلی ہال کے آلات کی وجہ سے تھی، جہاں رواں ہفتے درجنوں رہنماؤں نے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں خطاب کیا، حکام نے زور دے کر کہا کہ  کہ جان بوجھ کر مداخلت کا کوئی اشارہ نہیں ملا۔</p>
<p>یہ تکنیکی رکاوٹیں ایسے وقت آئیں جب فلسطین اور غزہ اس سال کے ایجنڈے پر چھائے ہوئے تھے۔</p>
<p>ہر گزرتے دن کے ساتھ کئی ممالک بشمول فرانس، بیلجیم، مالٹا، لکسمبرگ اور کینیڈا، فلسطین کو تسلیم کر رہے ہیں۔</p>
<p>اسی دوران ترکیہ، انڈونیشیا اور دیگر ممالک کے رہنماؤں نے غزہ میں نسل کشی کو روکنے، انسانی ہمدردی کی رسائی کو یقینی بنانے اور ضرورت پڑنے پر امن فوج تعینات کرنے کے لیے فوری عالمی اقدام کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>رجب طیب اردوان نے خبردار کیا کہ اسرائیل کے اقدامات نسل کشی کے مترادف ہیں، جبکہ پرابووو سبینتو نے کہا کہ انڈونیشیا اقوام متحدہ کے مشن کے لیے فوجی بھیجنے کو تیار ہے اگر اس پر اتفاق کر لیا جائے۔</p>
<p>مائیکروفون کی خرابیوں کے باوجود یہ پیغامات واضح طور پر پہنچ گئے۔</p>
<p>دوران اجلاس ایک مندوب نے مارک کارنی کی تقریر کے بعد کہا کہ چاہے مائیکروفون نے ساتھ نہ بھی دیا ہو، فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا بیان سب نے سن لیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1269908</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Sep 2025 22:08:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/23220712b216b04.webp" type="image/webp" medium="image" height="523" width="821">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/23220712b216b04.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/23211643a12c511.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/23211643a12c511.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: ٹی آر ٹی ورلڈ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
