<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 23:33:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 23:33:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کہانی اور اداکاری پر بات کریں، فضول موضوعات سے گریز کریں، وجاہت رؤف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1269949/</link>
      <description>&lt;p&gt;فلم ساز وجاہت رؤف نے ڈراما ریویو شوز کے انداز پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں غیر ضروری موضوعات کے بجائے کہانی اور اداکاری جیسے اہم پہلوؤں پر بات ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وجاہت رؤف نے حال ہی میں ’ایف ایچ ایم‘ پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے ڈراما تنقید کے طرز عمل پر اظہارِ خیال کیا اور کہا کہ پاکستان میں تنقید ایک نسبتاً نیا رجحان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق ڈرامے تقریباً 40 سال سے نشر ہو رہے ہیں مگر اب تنقید صرف چند تبصرہ پروگرامز کی وجہ سے سامنے آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وجاہت رؤف نے بتایا کہ وہ عام طور پر ایسے پروگرامز نہیں دیکھتے، مگر انسٹاگرام ریلز سے بچنا مشکل ہوتا ہے یا گھر میں والدہ یا بیوی کسی کلپ کا حصہ دکھا دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1261254"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ریویو پروگرام کا ایک کلپ دیکھا جس میں ایک ڈرامے میں جلا ہوا انڈا کھانے پر کئی منٹ تک بحث کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وجاہت رؤف نے مؤقف دیا کہ ریویو شوز کو فضول موضوعات کی جگہ پروڈکشن، ہدایتکاری، کہانی اور اداکاری جیسے اہم پہلوؤں پر بات کرنی چاہیے اور تنقید میں معیار اور منطق ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اگر تنقید منطقی ہو تو انڈسٹری کا کوئی بھی فرد برا نہیں مانے گا اور پروگرام میں ایسی فضول باتوں پر بحث نہیں کرنی چاہیے کہ قمیض کے بٹن کتنے کھلے تھے یا غبارے کتنے لگے ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وجاہت رؤف نے یہ بھی کہا کہ بہت سے ریویو نگار حقائق کی بنیاد پر اچھے ریویوز لکھتے ہیں اور وہ وائرل ہونے کے لیے کوئی ایسا بیان نہیں دیتے جو توجہ حاصل کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں انہوں نے کہا کہ ایسے پروگرامز ختم نہیں ہوں گے بلکہ مستقبل میں ان کا سلسلہ مزید آگے بڑھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/3djlSnwVSx4?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>فلم ساز وجاہت رؤف نے ڈراما ریویو شوز کے انداز پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں غیر ضروری موضوعات کے بجائے کہانی اور اداکاری جیسے اہم پہلوؤں پر بات ہونی چاہیے۔</p>
<p>وجاہت رؤف نے حال ہی میں ’ایف ایچ ایم‘ پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے ڈراما تنقید کے طرز عمل پر اظہارِ خیال کیا اور کہا کہ پاکستان میں تنقید ایک نسبتاً نیا رجحان ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق ڈرامے تقریباً 40 سال سے نشر ہو رہے ہیں مگر اب تنقید صرف چند تبصرہ پروگرامز کی وجہ سے سامنے آئی ہے۔</p>
<p>وجاہت رؤف نے بتایا کہ وہ عام طور پر ایسے پروگرامز نہیں دیکھتے، مگر انسٹاگرام ریلز سے بچنا مشکل ہوتا ہے یا گھر میں والدہ یا بیوی کسی کلپ کا حصہ دکھا دیتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1261254"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ ریویو پروگرام کا ایک کلپ دیکھا جس میں ایک ڈرامے میں جلا ہوا انڈا کھانے پر کئی منٹ تک بحث کی گئی۔</p>
<p>وجاہت رؤف نے مؤقف دیا کہ ریویو شوز کو فضول موضوعات کی جگہ پروڈکشن، ہدایتکاری، کہانی اور اداکاری جیسے اہم پہلوؤں پر بات کرنی چاہیے اور تنقید میں معیار اور منطق ہونی چاہیے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اگر تنقید منطقی ہو تو انڈسٹری کا کوئی بھی فرد برا نہیں مانے گا اور پروگرام میں ایسی فضول باتوں پر بحث نہیں کرنی چاہیے کہ قمیض کے بٹن کتنے کھلے تھے یا غبارے کتنے لگے ہوئے تھے۔</p>
<p>وجاہت رؤف نے یہ بھی کہا کہ بہت سے ریویو نگار حقائق کی بنیاد پر اچھے ریویوز لکھتے ہیں اور وہ وائرل ہونے کے لیے کوئی ایسا بیان نہیں دیتے جو توجہ حاصل کرے۔</p>
<p>آخر میں انہوں نے کہا کہ ایسے پروگرامز ختم نہیں ہوں گے بلکہ مستقبل میں ان کا سلسلہ مزید آگے بڑھے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/3djlSnwVSx4?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1269949</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Sep 2025 15:39:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/24130823545b685.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/24130823545b685.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: ریویو پی کے
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
