<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 13:04:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 13:04:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزارت خارجہ نے شمع جونیجو کی یو این ایس سی اجلاس میں شمولیت سے خود کو الگ کر لیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1270155/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزارتِ خارجہ نے کالم نگار شمع جونیجو کی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کے اجلاس میں پاکستان کے وفد میں مبینہ شمولیت کے تنازع سے خود کو الگ کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;25 ستمبر کو وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے مصنوعی ذہانت کے موضوع پر سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کیا تھا، تاہم ان کی تقریر کی تصاویر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر تیزی سے پھیل گئی تھیں، کیونکہ صارفین نے پس منظر میں شمع جونیجو کو بیٹھے ہوئے دیکھا اور ان کے پرانے ٹوئٹس کے اسکرین شاٹس شیئر کیے، جن میں انہوں نے اسرائیل کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270044"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر ہنگامہ آرائی کے بعد خواجہ آصف نے وضاحت کی کہ انہوں نے یہ خطاب وزیراعظم شہباز شریف کی مصروفیات کی وجہ سے ان کی جگہ کیا تھا، وزیراعظم اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) کے 80ویں اجلاس میں شریک تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے کہا کہ یہ خاتون یا جو بھی میرے پیچھے بیٹھی تھیں، یہ سب وزارتِ خارجہ کے اختیار میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/KhawajaMAsif/status/1971560938588295211"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ دفاع نے کہا کہ گزشتہ 60 برسوں سے ان کی فلسطین کے مسئلے سے جذباتی وابستگی اور ذاتی کمٹمنٹ ہے، انہوں نے بتایا کہ وہ ابوظبی میں کام کے دوران فلسطینی دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ رہے ہیں اور آج بھی ان سے رابطے میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ غزہ پر میرا مؤقف بالکل واضح ہے اور میں اسے کھل کر بیان کرتا ہوں، اسرائیل اور صہیونیت سے صرف نفرت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے کہا کہ یہ خاتون کون ہیں، وہ وفد کے ساتھ کیوں ہیں اور میرے پیچھے کیوں بیٹھی تھیں؟ ان سوالات کا جواب صرف وزارتِ خارجہ دے سکتی ہے، میرے لیے ان کی جگہ جواب دینا مناسب نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ’ایکس‘ اکاؤنٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ فلسطین کے ساتھ ان کا تعلق ان کے ایمان کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں جمعہ کی رات دیر گئے ’ایکس‘ پر جاری بیان میں وزارتِ خارجہ نے شمع جونیجو کا نام لیے بغیر کہا کہ اس نے حال ہی میں یو این ایس سی اجلاس میں وزیرِ دفاع کے پیچھے ایک مخصوص فرد کے بیٹھنے کے حوالے سے سوالات نوٹ کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/1971668247595590143"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ فرد ڈپٹی وزیراعظم و وزیرِ خارجہ کے دستخط شدہ سرکاری لیٹر آف کریڈنس میں شامل نہیں تھا، جو پاکستان کے 80ویں یو این جی اے اجلاس کے وفد کے لیے جاری کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ وزیرِ دفاع کے پیچھے ان کی نشست ڈپٹی وزیراعظم/وزیرِ خارجہ کی منظوری سے نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر، شمع جونیجو نے بھی ’ایکس‘ پر اپنے پرانے ٹوئٹس کے اسکرین شاٹس شیئر کیے، جن میں انہوں نے غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کی مذمت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ShamaJunejo/status/1971392300975558894"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’یوتھیے مجھے صہیونی کہہ رہے ہیں جبکہ گزشتہ 2 سال سے میں تقریباً روزانہ غزہ کے بارے میں ٹوئٹ کر رہی ہوں، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو جنگی مجرم کہہ رہی ہوں اور اسرائیلی مظالم دکھا رہی ہوں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوتھیا ایک تحقیر آمیز اصطلاح ہے، جو عموماً پی ٹی آئی کے حامیوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمع جونیجو نے کہا کہ ’ایک بار پھر یہ پوری مہم میرے خلاف اس لیے چلائی گئی ہے، کیونکہ وہ صرف مجھ سے ڈرتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ہنگامہ" href="#ہنگامہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ہنگامہ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ کوئی بھی سلامتی کونسل یا جنرل اسمبلی کے اجلاس میں وزیر کے پیچھے نہیں بیٹھ سکتا جب تک کہ اسے حکومت کے سرکاری نمائندے کے طور پر تسلیم نہ کیا گیا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سوال اٹھایا کہ تو یہ کس نے ہونے دیا اور کیوں؟ کیا کوئی خفیہ پالیسی ایجنڈا اسرائیل، بگرام بیس یا ابراہم معاہدوں کے حوالے سے چل رہا ہے؟ حکومتِ پاکستان کو وضاحت دینی چاہیے — اس کی ذمہ داری کس پر ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ShireenMazari1/status/1971255351598252241"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیونٹی الائنس فار پیس اینڈ جسٹس کی ڈائریکٹر مِلحَقہ صمدانی نے کہا کہ ’شمع جونیجو اسرائیل اور تعلقات کی بحالی کے ایجنڈے کی حامی ہیں، انہیں پاکستان کے یو این جی اے وفد میں شامل کرنا ملک کے لیے اچھا تاثر نہیں ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، صحافی احمد نورانی نے کہا کہ شمع جونیجو کی حب الوطنی پر سوال اٹھانا یا ان کے سفارت کاری سے متعلق خیالات کی بنیاد پر انہیں ‘اسرائیل نواز’ قرار دینا شرمناک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Ahmad_Noorani/status/1971433024421343559"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ گھٹیا کردار کشی کی مہم گندے ذہنوں والے ٹرولز چلا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزارتِ خارجہ نے کالم نگار شمع جونیجو کی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کے اجلاس میں پاکستان کے وفد میں مبینہ شمولیت کے تنازع سے خود کو الگ کر لیا ہے۔</p>
<p>25 ستمبر کو وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے مصنوعی ذہانت کے موضوع پر سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کیا تھا، تاہم ان کی تقریر کی تصاویر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر تیزی سے پھیل گئی تھیں، کیونکہ صارفین نے پس منظر میں شمع جونیجو کو بیٹھے ہوئے دیکھا اور ان کے پرانے ٹوئٹس کے اسکرین شاٹس شیئر کیے، جن میں انہوں نے اسرائیل کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270044"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سوشل میڈیا پر ہنگامہ آرائی کے بعد خواجہ آصف نے وضاحت کی کہ انہوں نے یہ خطاب وزیراعظم شہباز شریف کی مصروفیات کی وجہ سے ان کی جگہ کیا تھا، وزیراعظم اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) کے 80ویں اجلاس میں شریک تھے۔</p>
<p>خواجہ آصف نے کہا کہ یہ خاتون یا جو بھی میرے پیچھے بیٹھی تھیں، یہ سب وزارتِ خارجہ کے اختیار میں ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/KhawajaMAsif/status/1971560938588295211"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>وزیرِ دفاع نے کہا کہ گزشتہ 60 برسوں سے ان کی فلسطین کے مسئلے سے جذباتی وابستگی اور ذاتی کمٹمنٹ ہے، انہوں نے بتایا کہ وہ ابوظبی میں کام کے دوران فلسطینی دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ رہے ہیں اور آج بھی ان سے رابطے میں ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ غزہ پر میرا مؤقف بالکل واضح ہے اور میں اسے کھل کر بیان کرتا ہوں، اسرائیل اور صہیونیت سے صرف نفرت ہے۔</p>
<p>خواجہ آصف نے کہا کہ یہ خاتون کون ہیں، وہ وفد کے ساتھ کیوں ہیں اور میرے پیچھے کیوں بیٹھی تھیں؟ ان سوالات کا جواب صرف وزارتِ خارجہ دے سکتی ہے، میرے لیے ان کی جگہ جواب دینا مناسب نہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ’ایکس‘ اکاؤنٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ فلسطین کے ساتھ ان کا تعلق ان کے ایمان کا حصہ ہے۔</p>
<p>بعد ازاں جمعہ کی رات دیر گئے ’ایکس‘ پر جاری بیان میں وزارتِ خارجہ نے شمع جونیجو کا نام لیے بغیر کہا کہ اس نے حال ہی میں یو این ایس سی اجلاس میں وزیرِ دفاع کے پیچھے ایک مخصوص فرد کے بیٹھنے کے حوالے سے سوالات نوٹ کیے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/1971668247595590143"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ فرد ڈپٹی وزیراعظم و وزیرِ خارجہ کے دستخط شدہ سرکاری لیٹر آف کریڈنس میں شامل نہیں تھا، جو پاکستان کے 80ویں یو این جی اے اجلاس کے وفد کے لیے جاری کیا گیا تھا۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ وزیرِ دفاع کے پیچھے ان کی نشست ڈپٹی وزیراعظم/وزیرِ خارجہ کی منظوری سے نہیں تھی۔</p>
<p>ادھر، شمع جونیجو نے بھی ’ایکس‘ پر اپنے پرانے ٹوئٹس کے اسکرین شاٹس شیئر کیے، جن میں انہوں نے غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کی مذمت کی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ShamaJunejo/status/1971392300975558894"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’یوتھیے مجھے صہیونی کہہ رہے ہیں جبکہ گزشتہ 2 سال سے میں تقریباً روزانہ غزہ کے بارے میں ٹوئٹ کر رہی ہوں، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو جنگی مجرم کہہ رہی ہوں اور اسرائیلی مظالم دکھا رہی ہوں‘۔</p>
<p>یوتھیا ایک تحقیر آمیز اصطلاح ہے، جو عموماً پی ٹی آئی کے حامیوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔</p>
<p>شمع جونیجو نے کہا کہ ’ایک بار پھر یہ پوری مہم میرے خلاف اس لیے چلائی گئی ہے، کیونکہ وہ صرف مجھ سے ڈرتے ہیں‘۔</p>
<h1><a id="ہنگامہ" href="#ہنگامہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ہنگامہ</h1>
<p>سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ کوئی بھی سلامتی کونسل یا جنرل اسمبلی کے اجلاس میں وزیر کے پیچھے نہیں بیٹھ سکتا جب تک کہ اسے حکومت کے سرکاری نمائندے کے طور پر تسلیم نہ کیا گیا ہو۔</p>
<p>انہوں نے سوال اٹھایا کہ تو یہ کس نے ہونے دیا اور کیوں؟ کیا کوئی خفیہ پالیسی ایجنڈا اسرائیل، بگرام بیس یا ابراہم معاہدوں کے حوالے سے چل رہا ہے؟ حکومتِ پاکستان کو وضاحت دینی چاہیے — اس کی ذمہ داری کس پر ہے؟</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ShireenMazari1/status/1971255351598252241"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>کمیونٹی الائنس فار پیس اینڈ جسٹس کی ڈائریکٹر مِلحَقہ صمدانی نے کہا کہ ’شمع جونیجو اسرائیل اور تعلقات کی بحالی کے ایجنڈے کی حامی ہیں، انہیں پاکستان کے یو این جی اے وفد میں شامل کرنا ملک کے لیے اچھا تاثر نہیں ہے‘۔</p>
<p>دوسری جانب، صحافی احمد نورانی نے کہا کہ شمع جونیجو کی حب الوطنی پر سوال اٹھانا یا ان کے سفارت کاری سے متعلق خیالات کی بنیاد پر انہیں ‘اسرائیل نواز’ قرار دینا شرمناک ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Ahmad_Noorani/status/1971433024421343559"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ گھٹیا کردار کشی کی مہم گندے ذہنوں والے ٹرولز چلا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1270155</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Sep 2025 15:36:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/2713000148f3190.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/2713000148f3190.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: ایکس/خواجہ آصف
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
