<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 14:55:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 14:55:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئندہ اسموگ سیزن شدید، ’سائلنٹ ڈیزاسٹر‘ کیلئے تیار رہنا ہوگا، ماہر ماحولیات کا انتباہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1270190/</link>
      <description>&lt;p&gt;ماہر ماحولیات ڈاکٹر زینب نعیم نے رواں برس سموگ سیزن کا پہلے کے مقابلے میں شدید ہونے کا خدشہ ظاہر کر دیا، انہوں نے کہا ہمیں ایک ’سائلنٹ ڈیزاسٹر‘ کے لیے تیار رہنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے پروگرام ’خبر سے خبر ود افتخار شیرازی‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ماہر ماحولیات ڈاکٹر زینب نعیم نے کہا اگر حکومت نے موسمیاتی تبدیلی کو کچھ برس قبل سنجیدہ لیا ہوتا تو آج ہم اتنے مسائل سے دو چار نہ ہوتے، اسموگ کا سیزن شروع ہونے والا ہے جبکہ کئی علاقوں میں ابھی تک سیلاب کا پانی بھی نہیں نکالا جا سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ رواں برس اسموگ سیزن پہلے سے شدید ہوگا، جس میں پاکستان کے صوبہ پنجاب کا سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر زینب نعیم نے بتایا کہ بھارت اور پاکستان کے پنجاب کو  ’ایئر شیڈ‘ کہا جاتا ہے، یہ وہ علاقے ہیں جہاں اسموگ کا خطرہ زیادہ رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270077"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہر ماحولیات کے مطابق اسموگ کسی حد تک قدرتی طور پر ہے لیکن اس کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ ہمارے اپنے اقدامات ہیں، جن میں انڈسٹریز اور پرانی گاڑیوں کا دھواں، کنسٹرکشن کا بے تہاشا کام اور فصلیں جلانا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر زینب نعیم کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس حوالے سے اقدامات تو اُٹھائے ہیں، تاہم اندازہ نہیں تھا سیلاب اتنی زیادہ تباہی پھیلا دے گا، ہماری تیاری ناکافی ہے، سیلاب کا پانی میدانی علاقوں سے آہستہ ٓہستہ کم ہوتا ہے، نمی زیادہ ہونے کی وجہ سے ان علاقوں میں اسموگ کا خطرہ بڑھ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پڑوسی ملک بھارت سے ہوا کی آلودگی، پاکستان کے صوبہ پنجاب میں داخل ہوتی ہے، یہ پاکستان میں فضائی آلودگی کا ایک بڑا فیکٹر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہر ماحولیات کے مطابق حکومت نے فضائی آلودگی کی بڑی وجہ بننے والے اینٹوں کے بھٹے، دھواں پھیلانے والی پرانی گاڑیوں کے خلاف اقدامات تو اٹھائے ہیں، تاہم یہ مسائل بہت پرانے ہیں اور حکومتی اقدامات اب سامنے آئے ہیں،  جس کی وجہ سے ان کے فائدہ فوری طور پر تو نہیں تاہم آئندہ 2 سے 3 برسوں میں کچھ بہتری ممکن ہو سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زینب نعیم نے زور دے کر کہا کہ اعلیٰ حکام کو فصلوں کو جلانے کے اقدامات کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی، ان فصلوں کو حکومت پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت دوبارہ قابل استعمال بنا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آلودگی میں کمی کے حوالے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ریاست کو پورا سال آگاہی مہم چلانا ہو گی، ہمیں شہریوں کو پبلک ٹرانسپورٹ، سائیکلنگ اور الیکٹرک گاڑیوں کی طرف راغب کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ فضائی آلودگی سے لڑنے کے لیے ہمیں گرین بفر زون بنانا ہوں گے، شہروں میں سڑکوں کے اطراف میں درخت لگائیں اور میدانی علاقوں میں جنگلات کو بڑھائیں، تاکہ آب و ہوا کو بہتر بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہر ماحولیات نے آخر میں کہا کہ سردیوں کے موسم میں کنسٹرکشن کے کام میں کسی حد تک کمی لانی چاہیے، ان اقدامات سے فوری طور پر تو نہیں تاہم آئندہ چند سیزن میں فائدہ ملنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ماہر ماحولیات ڈاکٹر زینب نعیم نے رواں برس سموگ سیزن کا پہلے کے مقابلے میں شدید ہونے کا خدشہ ظاہر کر دیا، انہوں نے کہا ہمیں ایک ’سائلنٹ ڈیزاسٹر‘ کے لیے تیار رہنا چاہیے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے پروگرام ’خبر سے خبر ود افتخار شیرازی‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ماہر ماحولیات ڈاکٹر زینب نعیم نے کہا اگر حکومت نے موسمیاتی تبدیلی کو کچھ برس قبل سنجیدہ لیا ہوتا تو آج ہم اتنے مسائل سے دو چار نہ ہوتے، اسموگ کا سیزن شروع ہونے والا ہے جبکہ کئی علاقوں میں ابھی تک سیلاب کا پانی بھی نہیں نکالا جا سکا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ رواں برس اسموگ سیزن پہلے سے شدید ہوگا، جس میں پاکستان کے صوبہ پنجاب کا سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر زینب نعیم نے بتایا کہ بھارت اور پاکستان کے پنجاب کو  ’ایئر شیڈ‘ کہا جاتا ہے، یہ وہ علاقے ہیں جہاں اسموگ کا خطرہ زیادہ رہتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270077"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ماہر ماحولیات کے مطابق اسموگ کسی حد تک قدرتی طور پر ہے لیکن اس کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ ہمارے اپنے اقدامات ہیں، جن میں انڈسٹریز اور پرانی گاڑیوں کا دھواں، کنسٹرکشن کا بے تہاشا کام اور فصلیں جلانا۔</p>
<p>ڈاکٹر زینب نعیم کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس حوالے سے اقدامات تو اُٹھائے ہیں، تاہم اندازہ نہیں تھا سیلاب اتنی زیادہ تباہی پھیلا دے گا، ہماری تیاری ناکافی ہے، سیلاب کا پانی میدانی علاقوں سے آہستہ ٓہستہ کم ہوتا ہے، نمی زیادہ ہونے کی وجہ سے ان علاقوں میں اسموگ کا خطرہ بڑھ جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پڑوسی ملک بھارت سے ہوا کی آلودگی، پاکستان کے صوبہ پنجاب میں داخل ہوتی ہے، یہ پاکستان میں فضائی آلودگی کا ایک بڑا فیکٹر ہے۔</p>
<p>ماہر ماحولیات کے مطابق حکومت نے فضائی آلودگی کی بڑی وجہ بننے والے اینٹوں کے بھٹے، دھواں پھیلانے والی پرانی گاڑیوں کے خلاف اقدامات تو اٹھائے ہیں، تاہم یہ مسائل بہت پرانے ہیں اور حکومتی اقدامات اب سامنے آئے ہیں،  جس کی وجہ سے ان کے فائدہ فوری طور پر تو نہیں تاہم آئندہ 2 سے 3 برسوں میں کچھ بہتری ممکن ہو سکے گی۔</p>
<p>زینب نعیم نے زور دے کر کہا کہ اعلیٰ حکام کو فصلوں کو جلانے کے اقدامات کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی، ان فصلوں کو حکومت پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت دوبارہ قابل استعمال بنا سکتی ہے۔</p>
<p>آلودگی میں کمی کے حوالے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ریاست کو پورا سال آگاہی مہم چلانا ہو گی، ہمیں شہریوں کو پبلک ٹرانسپورٹ، سائیکلنگ اور الیکٹرک گاڑیوں کی طرف راغب کرنا ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ فضائی آلودگی سے لڑنے کے لیے ہمیں گرین بفر زون بنانا ہوں گے، شہروں میں سڑکوں کے اطراف میں درخت لگائیں اور میدانی علاقوں میں جنگلات کو بڑھائیں، تاکہ آب و ہوا کو بہتر بنایا جا سکے۔</p>
<p>ماہر ماحولیات نے آخر میں کہا کہ سردیوں کے موسم میں کنسٹرکشن کے کام میں کسی حد تک کمی لانی چاہیے، ان اقدامات سے فوری طور پر تو نہیں تاہم آئندہ چند سیزن میں فائدہ ملنے کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1270190</guid>
      <pubDate>Sun, 28 Sep 2025 00:05:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/27233210163f6bf.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/27233210163f6bf.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
