<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 10:25:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 10:25:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قطر پر حملہ امریکا پر حملہ تصور ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ نے ایگزیکٹیو آرڈر جاری کردیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1270570/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں جس میں انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ توانائی سے مالامال ملک قطر کا دفاع کرنے کے لیے تمام اقدامات بشمول امریکی فوجی کارروائی کریں گے، جبکہ قطر پر حملہ امریکا پر حملہ تصور ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/us-qatar-security-trump-israel-hamas-de391ae9bded58bffb1f5b69777f35cf"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر 29 ستمبر کی تاریخ کے ساتھ موجود ایگزیکٹیو آرڈر بظاہر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قطر کو اسرائیلی حملے کے بعد یقین دہانی کا ایک اور قدم ہے، 9 ستمبر کو حماس رہنماؤں کو دوحہ میں اُس وقت &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1268832/"&gt;&lt;strong&gt;نشانہ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; بنایا گیا تھا، جب وہ جنگ بندی کو قبول کرنے پر  مشاورت کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایگزیکٹیو آرڈر میں دونوں ملکوں کے قریبی تعاون اور مشترکہ مفاد کا حوالہ دیا گیا اور وعدہ کیا گیا کہ ریاستِ قطر کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کو بیرونی حملے کے خلاف یقینی بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268832"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر کے حکم نامے میں کہا گیا کہ ریاستِ قطر کی سرزمین، خودمختاری یا اہم تنصیبات پر کسی بھی مسلح حملے کو امریکا اپنی امن و سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا کہ ایسے کسی حملے کی صورت میں امریکا تمام قانونی اور مناسب اقدامات کرے گا جن میں سفارتی، اقتصادی اور اگر ضرورت پڑی تو فوجی کارروائی بھی شامل ہو گی تاکہ امریکا اور ریاستِ قطر کے مفادات کا دفاع اور امن و استحکام کی بحالی ممکن ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/news/2025/10/1/new-trump-executive-order-guarantees-qatar-security-after-israeli-attack"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق 29 ستمبر کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے دوران کانفرنس کال کے ذریعے قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی سے قطری شہری کی شہادت پر &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1270304/"&gt;&lt;strong&gt;معافی مانگ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; لی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوحہ میں 9 ستمبر کو اسرائیلی حملوں کے بعد، واشنگٹن نے قطر کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات میں آنے والی خلیج کی تلافی کرنے کی کوشش کی لیکن ساتھ ہی اسرائیل کے لیے اپنی مضبوط حمایت کا بھی اظہار کیا، خلیجی ملک نے اسرائیلی کارروائی کو ’بزدلانہ اور غداری پر مبنی‘ قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270304"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اسرائیلی حملے اور بعد ازاں دوحہ میں منعقدہ اسلامی رہنماؤں کی کانفرنس کے ایک روز بعد  16 ستمبر کو قطر پہنچے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر خارجہ نےسماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر کہا تھا کہ انہوں نے قطری حکام سے ملاقات کی اور امریکا-قطر سیکیورٹی شراکت داری کے ساتھ ساتھ زیادہ محفوظ اور مستحکم خطے کے لیے مشترکہ عزم کی تجدید کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات کے بعد ترجمان  قطری وزارت خارجہ ماجد الانصاری نے کہا تھا کہ اُن کا ملک ’ اپنی خودمختاری کے دفاع اور کسی بھی حملے کے دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات کرنے کا پختہ عزم رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں جس میں انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ توانائی سے مالامال ملک قطر کا دفاع کرنے کے لیے تمام اقدامات بشمول امریکی فوجی کارروائی کریں گے، جبکہ قطر پر حملہ امریکا پر حملہ تصور ہوگا۔</p>
<p>خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/us-qatar-security-trump-israel-hamas-de391ae9bded58bffb1f5b69777f35cf"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر 29 ستمبر کی تاریخ کے ساتھ موجود ایگزیکٹیو آرڈر بظاہر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قطر کو اسرائیلی حملے کے بعد یقین دہانی کا ایک اور قدم ہے، 9 ستمبر کو حماس رہنماؤں کو دوحہ میں اُس وقت <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1268832/"><strong>نشانہ</strong></a> بنایا گیا تھا، جب وہ جنگ بندی کو قبول کرنے پر  مشاورت کر رہے تھے۔</p>
<p>ایگزیکٹیو آرڈر میں دونوں ملکوں کے قریبی تعاون اور مشترکہ مفاد کا حوالہ دیا گیا اور وعدہ کیا گیا کہ ریاستِ قطر کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کو بیرونی حملے کے خلاف یقینی بنایا جائے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268832"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>امریکی صدر کے حکم نامے میں کہا گیا کہ ریاستِ قطر کی سرزمین، خودمختاری یا اہم تنصیبات پر کسی بھی مسلح حملے کو امریکا اپنی امن و سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے گا۔</p>
<p>مزید کہا گیا کہ ایسے کسی حملے کی صورت میں امریکا تمام قانونی اور مناسب اقدامات کرے گا جن میں سفارتی، اقتصادی اور اگر ضرورت پڑی تو فوجی کارروائی بھی شامل ہو گی تاکہ امریکا اور ریاستِ قطر کے مفادات کا دفاع اور امن و استحکام کی بحالی ممکن ہو سکے۔</p>
<p>قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/news/2025/10/1/new-trump-executive-order-guarantees-qatar-security-after-israeli-attack"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق 29 ستمبر کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے دوران کانفرنس کال کے ذریعے قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی سے قطری شہری کی شہادت پر <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1270304/"><strong>معافی مانگ</strong></a> لی تھی۔</p>
<p>دوحہ میں 9 ستمبر کو اسرائیلی حملوں کے بعد، واشنگٹن نے قطر کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات میں آنے والی خلیج کی تلافی کرنے کی کوشش کی لیکن ساتھ ہی اسرائیل کے لیے اپنی مضبوط حمایت کا بھی اظہار کیا، خلیجی ملک نے اسرائیلی کارروائی کو ’بزدلانہ اور غداری پر مبنی‘ قرار دیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270304"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اسرائیلی حملے اور بعد ازاں دوحہ میں منعقدہ اسلامی رہنماؤں کی کانفرنس کے ایک روز بعد  16 ستمبر کو قطر پہنچے تھے۔</p>
<p>امریکی وزیر خارجہ نےسماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر کہا تھا کہ انہوں نے قطری حکام سے ملاقات کی اور امریکا-قطر سیکیورٹی شراکت داری کے ساتھ ساتھ زیادہ محفوظ اور مستحکم خطے کے لیے مشترکہ عزم کی تجدید کی ہے۔</p>
<p>مذاکرات کے بعد ترجمان  قطری وزارت خارجہ ماجد الانصاری نے کہا تھا کہ اُن کا ملک ’ اپنی خودمختاری کے دفاع اور کسی بھی حملے کے دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات کرنے کا پختہ عزم رکھتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1270570</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Oct 2025 21:40:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/01191741b340481.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/01191741b340481.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
