<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Kashmir</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 12:38:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 12:38:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاق اور حکومت آزاد کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی کو پھر مذاکرات کی دعوت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1270575/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی حکومت اور آزاد و جموں و کشمیر کی حکومت نے  احتجاجی مظاہرین کو مذاکرات کی بحالی کی دعوت دے دی، تاکہ جاری بدامنی کو کم کیا جا سکے، جس کے دوران بدھ کو تین پولیس اہلکار جاں بحق ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تین روزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال  کے دوران مواصلاتی بلیک آؤٹ نے آزاد کشمیر کو مفلوج کر دیا ہے، کیونکہ مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) اپنے مطالبات پر بضد ہے،  پچھلے ہفتے عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی وزرا  کے ساتھ مذاکرات کے دوران اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں سے سے متعلق شرائط پر ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد حریف گروپوں نے مظاہرے کیے اور ایک دوسرے کو اس تشدد کا ذمہ دار ٹھہرایا جس سے بڑے پیمانے پر پُرامن تحریک  متاثر ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وزیراعظم آزاد جموں و  کشمیر چوہدری انوارالحق کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کے 90 فیصد مطالبات ہماری موجودگی میں تسلیم کیے تھے، امیر مقام اور میں نے ضمانت دی تھی کہ ان مطالبات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ  ایکشن کمیٹی سے 12گھنٹے تک مذاکرات ہوئے، آخر میں مہاجرین کی نشستیں ختم  کرنا اور آزاد کشمیر کی وزارتوں کی تعداد میں کمی کے مطالبات کیے گئے، ان دونوں مطالبات کے لیے آزاد  کشمیر کے آئین میں ترمیم درکار تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ دو مطالبات کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت کی وجہ سے مذاکرات میں ڈیڈلاک آگیا،  پھر 29 ستمبر سے ایکشن کمیٹی نے مختلف اضلاع میں پُرامن احتجاج شروع کیا، جس کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ ان کے 90 فیصد مطالبات مانے جا چکے ہیں اور تحریری معاہدے کی شکل میں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم نے مذاکرات ختم نہیں کیے، اب ان کا احتجاج پُرامن نہیں اور پرتشدد احتجاج میں بدل چکا ہے جس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، کیونکہ تشدد کسی بھی معاملے کا حل نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270312"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹرطارق فضل چوہدری نے کہا  کہ ہم آج بھی  عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات اور اس معاملے کو خوش اسلوبی کے ساتھ حل کرنے کے لیے تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا  کہ ہر مسئلےکا حل مذاکرات ہی ہوتے ہیں، اشتعال کو منظم قوت کے طور پر استعمال کرنا یہ صرف ریاست میں آرمڈ فورسز ہی اس طاقت کا استعمال کرسکتی ہیں، جب آپ عام شہریوں کے ذریعے اشتعال دلانے کی کوشش کریں گے تو پھر وہ اشتعال انارکی، افراتفری اور انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ درخواست ہے کہ وہیں سے بات شروع کی جائے جہاں مذاکرات ٹوٹے تھے۔ جب بھی آپ کو مناسب لگے، جہاں بھی عوامی ایکشن کمیٹی بات کرنا چاہے، ریاستی حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ میرے وزراء مظفرآباد، راولا کوٹ اور میرپور میں تیار بیٹھے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا  کہ آپ کے 90 فیصد مطالبات منظور ہوچکے ہیں اور دونوں وفاقی وزرا اس پر عمل درآمد کی ضمانت دیتے ہیں، باقی 10 فیصد کے لیے میں اور وفاقی حکومت آپ کو مذاکرات کی دعوت دے  رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے احتجاج کے دوران تین پولیس اہلکاروں کے جاں بحق اور 100 سے زائد کے زخمی ہونے ں پر افسوس کا اظہار کیا، وزیراعظم آزاد کشمیر نے  کہا کہ انہوں نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ احتجاج پُرامن نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ تشدد کے راستے  سےکسی مقصد کا حصول ممکن نہیں ہے، آپ اس مذاکراتی عمل کو بحال کریں، ہمیں انارکی اور تشدد سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی حکومت اور آزاد و جموں و کشمیر کی حکومت نے  احتجاجی مظاہرین کو مذاکرات کی بحالی کی دعوت دے دی، تاکہ جاری بدامنی کو کم کیا جا سکے، جس کے دوران بدھ کو تین پولیس اہلکار جاں بحق ہو گئے تھے۔</p>
<p>تین روزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال  کے دوران مواصلاتی بلیک آؤٹ نے آزاد کشمیر کو مفلوج کر دیا ہے، کیونکہ مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) اپنے مطالبات پر بضد ہے،  پچھلے ہفتے عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی وزرا  کے ساتھ مذاکرات کے دوران اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں سے سے متعلق شرائط پر ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا تھا۔</p>
<p>اس کے بعد حریف گروپوں نے مظاہرے کیے اور ایک دوسرے کو اس تشدد کا ذمہ دار ٹھہرایا جس سے بڑے پیمانے پر پُرامن تحریک  متاثر ہوئی۔</p>
<p>وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وزیراعظم آزاد جموں و  کشمیر چوہدری انوارالحق کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کے 90 فیصد مطالبات ہماری موجودگی میں تسلیم کیے تھے، امیر مقام اور میں نے ضمانت دی تھی کہ ان مطالبات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ  ایکشن کمیٹی سے 12گھنٹے تک مذاکرات ہوئے، آخر میں مہاجرین کی نشستیں ختم  کرنا اور آزاد کشمیر کی وزارتوں کی تعداد میں کمی کے مطالبات کیے گئے، ان دونوں مطالبات کے لیے آزاد  کشمیر کے آئین میں ترمیم درکار تھی۔</p>
<p>طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ دو مطالبات کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت کی وجہ سے مذاکرات میں ڈیڈلاک آگیا،  پھر 29 ستمبر سے ایکشن کمیٹی نے مختلف اضلاع میں پُرامن احتجاج شروع کیا، جس کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ ان کے 90 فیصد مطالبات مانے جا چکے ہیں اور تحریری معاہدے کی شکل میں موجود ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم نے مذاکرات ختم نہیں کیے، اب ان کا احتجاج پُرامن نہیں اور پرتشدد احتجاج میں بدل چکا ہے جس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، کیونکہ تشدد کسی بھی معاملے کا حل نہیں ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270312"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ڈاکٹرطارق فضل چوہدری نے کہا  کہ ہم آج بھی  عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات اور اس معاملے کو خوش اسلوبی کے ساتھ حل کرنے کے لیے تیار ہیں۔</p>
<p>وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا  کہ ہر مسئلےکا حل مذاکرات ہی ہوتے ہیں، اشتعال کو منظم قوت کے طور پر استعمال کرنا یہ صرف ریاست میں آرمڈ فورسز ہی اس طاقت کا استعمال کرسکتی ہیں، جب آپ عام شہریوں کے ذریعے اشتعال دلانے کی کوشش کریں گے تو پھر وہ اشتعال انارکی، افراتفری اور انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ درخواست ہے کہ وہیں سے بات شروع کی جائے جہاں مذاکرات ٹوٹے تھے۔ جب بھی آپ کو مناسب لگے، جہاں بھی عوامی ایکشن کمیٹی بات کرنا چاہے، ریاستی حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ میرے وزراء مظفرآباد، راولا کوٹ اور میرپور میں تیار بیٹھے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا  کہ آپ کے 90 فیصد مطالبات منظور ہوچکے ہیں اور دونوں وفاقی وزرا اس پر عمل درآمد کی ضمانت دیتے ہیں، باقی 10 فیصد کے لیے میں اور وفاقی حکومت آپ کو مذاکرات کی دعوت دے  رہے ہیں۔</p>
<p>وزیراعظم نے احتجاج کے دوران تین پولیس اہلکاروں کے جاں بحق اور 100 سے زائد کے زخمی ہونے ں پر افسوس کا اظہار کیا، وزیراعظم آزاد کشمیر نے  کہا کہ انہوں نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ احتجاج پُرامن نہیں ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ تشدد کے راستے  سےکسی مقصد کا حصول ممکن نہیں ہے، آپ اس مذاکراتی عمل کو بحال کریں، ہمیں انارکی اور تشدد سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1270575</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Oct 2025 23:43:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/01203555fc9ef72.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/01203555fc9ef72.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
