<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 25 May 2026 03:59:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 25 May 2026 03:59:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغان وزیر خارجہ سفری پابندی عارضی ختم ہونے کے بعد بھارت کا دورہ کرسکیں گے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1270714/</link>
      <description>&lt;p&gt;اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی کمیٹی کی جانب سے عائد سفری پابندی کے عارضی خاتمے کے بعد  افغان وزیرخارجہ بھارت کا دورہ کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی کمیٹی نے افغان طالبان کے وزیر خارجہ پر عائد سفری پابندی عارضی طور پر اٹھا لی ہے، جس کے  بعد وہ 9 سے 16 اکتوبر کے درمیان بھارت کا دورہ کرسکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ طالبان کی سربراہی والی افغان حکومت کے کسی سینئر رہنما کا 2021 کے بعد بھارت کا پہلا دورہ ہوگا، جب طالبان نے 20 سالہ امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے کے بعد اقتدار سنبھالا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب طالبان اقتدار میں نہیں تھے تو اس وقت دہلی اور کابل کے تعلقات روایتی طور پر قریبی رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1265991"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خارجہ امیر خان متقی اُن افغان طالبان رہنماؤں میں شامل ہیں جو اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں ہیں، جن پر سفری پابندی اور اثاثے منجمد کرنے جیسے اقدامات عائد ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفارتی مقاصد کے لیے بعض اوقات عارضی چھوٹ دی جاتی ہے، افغان حکومت نے امیر متقی کے سفر سے متعلق پوچھے گئے سوالات کا فوری جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ نئی دہلی پہلے ہی افغان انتظامیہ سے بات چیت کر رہا ہے اور 31 اگست کے زلزلے کے بعد مدد بھی فراہم کر چکا ہے، تاہم انہوں نے اس بات کی خاص طور پر تصدیق نہیں کی کہ یہ دورہ ضرور ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی اور افغان میڈیا نے رپورٹ کیا  کہ امیر متقی نئی دہلی آنے سے پہلے روس کا دورہ کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق ماسکو میں وہ افغانستان کی صورتحال پر روس، چین، ایران، پاکستان، بھارت اور وسطی ایشیائی ممالک کے نمائندوں سے بات چیت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان سیاسی تجزیہ کار حکمت اللہ حکمت نے کہا کہ بھارت کا یہ دورہ طالبان حکومت کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’افغانستان کو خطے کے ممالک، خاص طور پر ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی سخت ضرورت ہے، اسے سیاسی، اقتصادی اور تجارتی روابط بنانے اور عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کی ضرورت ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک صرف روس نے طالبان حکومت کو تسلیم کیا ہے، بھارت نے 2021 میں کابل میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا تھا، لیکن ایک سال بعد انسانی ہمدردی کی امداد کو مربوط کرنے کے لیے ایک تکنیکی مشن دوبارہ کھول لیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی کمیٹی کی جانب سے عائد سفری پابندی کے عارضی خاتمے کے بعد  افغان وزیرخارجہ بھارت کا دورہ کریں گے۔</p>
<p>بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی کمیٹی نے افغان طالبان کے وزیر خارجہ پر عائد سفری پابندی عارضی طور پر اٹھا لی ہے، جس کے  بعد وہ 9 سے 16 اکتوبر کے درمیان بھارت کا دورہ کرسکیں گے۔</p>
<p>اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ طالبان کی سربراہی والی افغان حکومت کے کسی سینئر رہنما کا 2021 کے بعد بھارت کا پہلا دورہ ہوگا، جب طالبان نے 20 سالہ امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے کے بعد اقتدار سنبھالا تھا۔</p>
<p>جب طالبان اقتدار میں نہیں تھے تو اس وقت دہلی اور کابل کے تعلقات روایتی طور پر قریبی رہے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1265991"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وزیرِ خارجہ امیر خان متقی اُن افغان طالبان رہنماؤں میں شامل ہیں جو اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں ہیں، جن پر سفری پابندی اور اثاثے منجمد کرنے جیسے اقدامات عائد ہیں۔</p>
<p>سفارتی مقاصد کے لیے بعض اوقات عارضی چھوٹ دی جاتی ہے، افغان حکومت نے امیر متقی کے سفر سے متعلق پوچھے گئے سوالات کا فوری جواب نہیں دیا۔</p>
<p>بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ نئی دہلی پہلے ہی افغان انتظامیہ سے بات چیت کر رہا ہے اور 31 اگست کے زلزلے کے بعد مدد بھی فراہم کر چکا ہے، تاہم انہوں نے اس بات کی خاص طور پر تصدیق نہیں کی کہ یہ دورہ ضرور ہوگا۔</p>
<p>بھارتی اور افغان میڈیا نے رپورٹ کیا  کہ امیر متقی نئی دہلی آنے سے پہلے روس کا دورہ کریں گے۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق ماسکو میں وہ افغانستان کی صورتحال پر روس، چین، ایران، پاکستان، بھارت اور وسطی ایشیائی ممالک کے نمائندوں سے بات چیت کریں گے۔</p>
<p>افغان سیاسی تجزیہ کار حکمت اللہ حکمت نے کہا کہ بھارت کا یہ دورہ طالبان حکومت کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’افغانستان کو خطے کے ممالک، خاص طور پر ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی سخت ضرورت ہے، اسے سیاسی، اقتصادی اور تجارتی روابط بنانے اور عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کی ضرورت ہے۔‘</p>
<p>اب تک صرف روس نے طالبان حکومت کو تسلیم کیا ہے، بھارت نے 2021 میں کابل میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا تھا، لیکن ایک سال بعد انسانی ہمدردی کی امداد کو مربوط کرنے کے لیے ایک تکنیکی مشن دوبارہ کھول لیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1270714</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Oct 2025 22:09:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/031913408604920.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/031913408604920.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو:  رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
