<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 10:28:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 10:28:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>11 کشتیوں پر مشتمل ایک اور فلوٹیلا غزہ کا محاصرہ توڑنے کیلئے روانہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1270716/</link>
      <description>&lt;p&gt;بین الاقوامی تنظیم فریڈم فلوٹیلا کولیشن (ایف ایف سی) نے بتایا کہ مزید 11 کشتیاں غزہ کی پٹی کی جانب روانہ ہو چکی ہیں تاکہ برسوں سے جاری اسرائیلی محاصرے کو توڑا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترک خبر رساں ادارے ’انادلو‘ کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aa.com.tr/en/middle-east/11-more-ships-sail-to-gaza-in-bid-to-break-israeli-blockade/3706222"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ایف ایف سی نے ایک بیان میں بتایا کہ اٹلی اور فرانس کے جھنڈوں کی حامل 2 کشتیاں 25 ستمبر کو اوترانتو (اٹلی) سے روانہ ہوئیں اور 30 ستمبر کو ایک اور ’کنشینس‘ نامی کشتی کے ساتھ جا ملی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق، یہ کشتیاں جلد ہی 8 کشتیوں پر مشتمل ایک اور قافلے ’تھاؤزنڈ میڈلینز ٹو غزہ‘ سے ملنے والی ہیں، دونوں گروپ مل کر غزہ کے لیے 11 کشتیوں کا قافلہ تشکیل دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270593"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فریڈم فلوٹیلا کولیشن کے مطابق، اس وقت تقریبا 100 افراد کشتیوں پر سوار ہیں جو کریٹ (یونان) کے ساحل کے قریب موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2008 میں قائم ہونے والی ایف ایف سی اب تک درجنوں مشنز شروع کر چکی ہے جن کا مقصد امداد پہنچانا اور اسرائیلی محاصرے میں جکڑی غزہ کی پٹی میں انسانی بحران کی جانب عالمی توجہ مبذول کرانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نیا قافلہ اس واقعے کے اگلے ہی دن روانہ ہوا ہے جب اسرائیلی بحری افواج نے غزہ جانے والی 42 کشتیوں پر حملہ کر کے انہیں قبضے میں لے لیا تھا اور ان پر سوار 450 سے زائد کارکنوں کو &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1270593/"&gt;&lt;strong&gt;گرفتار&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کر لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قابض طاقت کے طور پر اسرائیل اس سے پہلے بھی غزہ جانے والی کشتیوں پر حملے کر چکا ہے، ان کا سامان ضبط اور کارکنوں کو ملک بدر کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل نے تقریبا 18 برس سے تقریبا 24 لاکھ کی آبادی والے غزہ کا محاصرہ کر رکھا ہے اور مارچ میں اس محاصرے کو مزید سخت کرتے ہوئے سرحدی راستے بھی بند کر دیے، جس سے کھانے پینے اور دوائیوں کی ترسیل روک گئی اور غزہ مزید قحط پھیل گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 66 ہزار 200 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر عورتیں اور بچے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے متعدد بار خبردار کیا ہے کہ غزہ رہنے کے قابل نہیں رہا اور علاقے میں بھوک و بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بین الاقوامی تنظیم فریڈم فلوٹیلا کولیشن (ایف ایف سی) نے بتایا کہ مزید 11 کشتیاں غزہ کی پٹی کی جانب روانہ ہو چکی ہیں تاکہ برسوں سے جاری اسرائیلی محاصرے کو توڑا جا سکے۔</p>
<p>ترک خبر رساں ادارے ’انادلو‘ کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aa.com.tr/en/middle-east/11-more-ships-sail-to-gaza-in-bid-to-break-israeli-blockade/3706222"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ایف ایف سی نے ایک بیان میں بتایا کہ اٹلی اور فرانس کے جھنڈوں کی حامل 2 کشتیاں 25 ستمبر کو اوترانتو (اٹلی) سے روانہ ہوئیں اور 30 ستمبر کو ایک اور ’کنشینس‘ نامی کشتی کے ساتھ جا ملی ہیں۔</p>
<p>بیان کے مطابق، یہ کشتیاں جلد ہی 8 کشتیوں پر مشتمل ایک اور قافلے ’تھاؤزنڈ میڈلینز ٹو غزہ‘ سے ملنے والی ہیں، دونوں گروپ مل کر غزہ کے لیے 11 کشتیوں کا قافلہ تشکیل دیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270593"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>فریڈم فلوٹیلا کولیشن کے مطابق، اس وقت تقریبا 100 افراد کشتیوں پر سوار ہیں جو کریٹ (یونان) کے ساحل کے قریب موجود ہیں۔</p>
<p>2008 میں قائم ہونے والی ایف ایف سی اب تک درجنوں مشنز شروع کر چکی ہے جن کا مقصد امداد پہنچانا اور اسرائیلی محاصرے میں جکڑی غزہ کی پٹی میں انسانی بحران کی جانب عالمی توجہ مبذول کرانا ہے۔</p>
<p>یہ نیا قافلہ اس واقعے کے اگلے ہی دن روانہ ہوا ہے جب اسرائیلی بحری افواج نے غزہ جانے والی 42 کشتیوں پر حملہ کر کے انہیں قبضے میں لے لیا تھا اور ان پر سوار 450 سے زائد کارکنوں کو <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1270593/"><strong>گرفتار</strong></a> کر لیا تھا۔</p>
<p>قابض طاقت کے طور پر اسرائیل اس سے پہلے بھی غزہ جانے والی کشتیوں پر حملے کر چکا ہے، ان کا سامان ضبط اور کارکنوں کو ملک بدر کیا گیا تھا۔</p>
<p>اسرائیل نے تقریبا 18 برس سے تقریبا 24 لاکھ کی آبادی والے غزہ کا محاصرہ کر رکھا ہے اور مارچ میں اس محاصرے کو مزید سخت کرتے ہوئے سرحدی راستے بھی بند کر دیے، جس سے کھانے پینے اور دوائیوں کی ترسیل روک گئی اور غزہ مزید قحط پھیل گیا۔</p>
<p>اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 66 ہزار 200 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر عورتیں اور بچے شامل ہیں۔</p>
<p>اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے متعدد بار خبردار کیا ہے کہ غزہ رہنے کے قابل نہیں رہا اور علاقے میں بھوک و بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1270716</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Oct 2025 21:53:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/03215158b7701a9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/03215158b7701a9.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو:
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/032150455e55c65.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/032150455e55c65.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
