<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 24 May 2026 13:34:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 24 May 2026 13:34:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>طب کا نوبیل انعام آٹو امیون سسٹم پر تحقیق کرنے والے تین سائنس دانوں کے نام</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1270926/</link>
      <description>&lt;p&gt;طب کا نوبیل انعام دو امریکی سائنسدانوں میری برنکاو اور فریڈ رامسڈیل کے ساتھ جاپان کے شیمون ساکاگوچی کو دینے کا اعلان کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/healthcare-pharmaceuticals/brunkow-ramsdell-sakaguchi-win-2025-nobel-medicine-prize-2025-10-06/#:~:text=STOCKHOLM%2C%20Oct%206%20(Reuters),autoimmune%20disease%20and%20cancer%20treatments."&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; تینوں سائنس دانوں کو مدافعتی نظام (امیون سسٹم) سے متعلق اہم دریافت اور تحقیق کرنے پر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تینوں سائنس دانوں کی تحقیق سے یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ انسان کا جسم اپنے ہی خلیوں پر حملہ کیوں نہیں کرتا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ تحقیق سے کینسر اور آٹو امیون بیماریوں (خود کار مدافعتی بیماریوں) کے نئے علاج کے امکانات کھلے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270879"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تینوں سائنسدانوں نے ’ریگولیٹری ٹی سیلز‘ نامی سفید خون کے خلیوں پر تحقیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ خلیے انسانی مدافعتی نظام کو کنٹرول کرتے ہیں تاکہ یہ اپنے جسم پر حملہ نہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوبیل انعام جیتنے والی سائنس دان میری برنکاو نے ’FOXP3‘ نامی جین دریافت کیا جو انتہائی نایاب خلیے ہیں، مذکورہ خلیوں کی نشاندہی سے کینسر کے علاج میں پیش رفت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی مذکورہ دریافت سے کینسر اور آٹو امیون ڈیزیز جیسے جوڑوں کا درد یا آنتوں کی سوزش کے علاج کے لیے نئی دوائیں بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی ادویات اور علاج کی تیاری کے لیے فی الحال 200 سے زائد انسانی ٹرائلز جاری ہیں جو ان خلیوں پر مبنی علاج کی جانچ کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انعام حاصل کرنے والے جاپانی سائنس شیمون ساکاگوچی نے خود کو ایوارڈ ملنے پر حیرانگی کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں لگتا تھا کہ انہیں مزید محنت کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے جاپانی وزیراعظم سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں کینسر ایک قابل علاج مرض بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایوارڈ سائنس کی دنیا میں ایک بڑی کامیابی ہے اور اس سے انسانوں کے علاج کے نئے طریقے سامنے آئیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انعام حاصل کرنے والی میری برنکاو سیٹل کے انسٹی ٹیوٹ فار سسٹمز بائیولوجی میں سینئر پروگرام مینیجر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے امریکی سائنس دان فریڈ رامسڈیل سان فرانسسکو کی کمپنی سونوما بائیو تھراپیوٹکس میں سائنسی مشیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوبیل انعام کا نصف حصہ جیتنے والے سائنس دان شیمون ساکاگوچی اوساکا یونیورسٹی، جاپان میں پروفیسر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوبل انعام کی رقم ایک کروڑ 10 لاکھ سوئیڈش کرون تقریبا 12 لاکھ امریکی ڈالر تینوں سائنس دانوں میں تقسیم کی جائے گی، نصف حصہ جاپانی سائنس دان کو ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طب کا ایوارڈ ہر سال نوبیل ایوارڈز کا پہلا انعام ہوتا ہے، جس کا اعلان کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد فزکس، کیمسٹری، ادب اور امن کے ایوارڈز کے اعلانات کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>طب کا نوبیل انعام دو امریکی سائنسدانوں میری برنکاو اور فریڈ رامسڈیل کے ساتھ جاپان کے شیمون ساکاگوچی کو دینے کا اعلان کردیا گیا۔</p>
<p>خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/healthcare-pharmaceuticals/brunkow-ramsdell-sakaguchi-win-2025-nobel-medicine-prize-2025-10-06/#:~:text=STOCKHOLM%2C%20Oct%206%20(Reuters),autoimmune%20disease%20and%20cancer%20treatments."><strong>مطابق</strong></a> تینوں سائنس دانوں کو مدافعتی نظام (امیون سسٹم) سے متعلق اہم دریافت اور تحقیق کرنے پر دیا گیا۔</p>
<p>تینوں سائنس دانوں کی تحقیق سے یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ انسان کا جسم اپنے ہی خلیوں پر حملہ کیوں نہیں کرتا؟</p>
<p>مذکورہ تحقیق سے کینسر اور آٹو امیون بیماریوں (خود کار مدافعتی بیماریوں) کے نئے علاج کے امکانات کھلے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270879"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تینوں سائنسدانوں نے ’ریگولیٹری ٹی سیلز‘ نامی سفید خون کے خلیوں پر تحقیق کی۔</p>
<p>مذکورہ خلیے انسانی مدافعتی نظام کو کنٹرول کرتے ہیں تاکہ یہ اپنے جسم پر حملہ نہ کریں۔</p>
<p>نوبیل انعام جیتنے والی سائنس دان میری برنکاو نے ’FOXP3‘ نامی جین دریافت کیا جو انتہائی نایاب خلیے ہیں، مذکورہ خلیوں کی نشاندہی سے کینسر کے علاج میں پیش رفت ہوئی۔</p>
<p>ان کی مذکورہ دریافت سے کینسر اور آٹو امیون ڈیزیز جیسے جوڑوں کا درد یا آنتوں کی سوزش کے علاج کے لیے نئی دوائیں بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p>ایسی ادویات اور علاج کی تیاری کے لیے فی الحال 200 سے زائد انسانی ٹرائلز جاری ہیں جو ان خلیوں پر مبنی علاج کی جانچ کر رہے ہیں۔</p>
<p>انعام حاصل کرنے والے جاپانی سائنس شیمون ساکاگوچی نے خود کو ایوارڈ ملنے پر حیرانگی کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں لگتا تھا کہ انہیں مزید محنت کی ضرورت ہے۔</p>
<p>انہوں نے جاپانی وزیراعظم سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں کینسر ایک قابل علاج مرض بن سکتا ہے۔</p>
<p>یہ ایوارڈ سائنس کی دنیا میں ایک بڑی کامیابی ہے اور اس سے انسانوں کے علاج کے نئے طریقے سامنے آئیں گے۔</p>
<p>انعام حاصل کرنے والی میری برنکاو سیٹل کے انسٹی ٹیوٹ فار سسٹمز بائیولوجی میں سینئر پروگرام مینیجر ہیں۔</p>
<p>دوسرے امریکی سائنس دان فریڈ رامسڈیل سان فرانسسکو کی کمپنی سونوما بائیو تھراپیوٹکس میں سائنسی مشیر ہیں۔</p>
<p>نوبیل انعام کا نصف حصہ جیتنے والے سائنس دان شیمون ساکاگوچی اوساکا یونیورسٹی، جاپان میں پروفیسر ہیں۔</p>
<p>نوبل انعام کی رقم ایک کروڑ 10 لاکھ سوئیڈش کرون تقریبا 12 لاکھ امریکی ڈالر تینوں سائنس دانوں میں تقسیم کی جائے گی، نصف حصہ جاپانی سائنس دان کو ملے گا۔</p>
<p>طب کا ایوارڈ ہر سال نوبیل ایوارڈز کا پہلا انعام ہوتا ہے، جس کا اعلان کیا جاتا ہے۔</p>
<p>اس کے بعد فزکس، کیمسٹری، ادب اور امن کے ایوارڈز کے اعلانات کیے جاتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1270926</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Oct 2025 23:12:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/062142235be9282.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/062142235be9282.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
