<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 00:52:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 00:52:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فضائی آلودگی ’سیریل کلر‘، دہشتگردی سے زیادہ اموات آلودگی کی وجہ سے ہوتی ہیں، سینیٹر شیری رحمٰن</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271017/</link>
      <description>&lt;p&gt;سابق وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ فضائی آلودگی ’سیریل کلر‘ ہے، پاکستان میں دہشتگردی سے زیادہ اموات اس آلودگی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے پروگرام ’دوسرا رُخ‘ میں میزبان نادر گرامانی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر توجہ کی ضرورت اور پالیسیوں میں تسلسل لانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں آلودگی پیدا کرنے والی گاڑیوں اور اینٹوں کے بھٹوں کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھانا ہوں گے ، سینیٹر شیری رحمٰن کے مطابق پاکستان میں فضائی آلودگی کی ایک بڑی وجہ فصلوں کو آگ لگانا بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271013"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت کو فصلوں کو آگ لگانے کے مسئلے پر آگے بڑھ کر کام کرنا ہوگا، کسانوں کو ورکشاپس میں بلا کر انہیں فضائی آلودگی کے حوالے سے آگاہ  فراہم کرنا ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسان برادری صدیوں پرانی عادت پر قائم ہیں، اُن کی اِس عادت کو چھڑوانا ہوگا اور انہیں بتانا ہوگا کہ آگ لگانے کے متبادل اقدامات کیا ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیری رحمٰن کے مطابق کسانوں کو صرف یہ کہہ دینا کہ فصلیں نہ جلائیں، اس سے فرق نہیں پڑے گا، ایک جگہ پر انہیں منع کریں گے تو وہ دوسری جگہ پر آگ لگا دیتے ہیں، جس کہ وجہ سے آلودگی میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ لاہور اور دہلی دونوں دنیا کے آلودہ ترین شہر قرار پاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ بطور وفاقی وزیر ماحولیاتی آلودگی پر اپنی پالیسی دی تھی، تاکہ اس پر ایکشن لیا جا سکے، تاہم مجھے معلوم نہیں کہ اس پر کتنا عمل درآمد کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میری معلومات کے مطابق صوبائی حکومت نے بھارتی پنجاب سے رابطہ کیا تھا لیکن وہاں سے کوئی مثبت جواب نہیں ملا، سینیٹر شیری رحمٰن کے مطابق ہماری کئی منصوبہ بندیاں پٹری سے اتر گئی ہیں، ہر دفعہ ایک نیا پہیہ ایجاد کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جس کا براہ راست نقصان عام آدمی کو اٹھانا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سابق وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ فضائی آلودگی ’سیریل کلر‘ ہے، پاکستان میں دہشتگردی سے زیادہ اموات اس آلودگی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔</p>
<p>ڈان نیوز کے پروگرام ’دوسرا رُخ‘ میں میزبان نادر گرامانی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر توجہ کی ضرورت اور پالیسیوں میں تسلسل لانا ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں آلودگی پیدا کرنے والی گاڑیوں اور اینٹوں کے بھٹوں کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھانا ہوں گے ، سینیٹر شیری رحمٰن کے مطابق پاکستان میں فضائی آلودگی کی ایک بڑی وجہ فصلوں کو آگ لگانا بھی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271013"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سابق وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت کو فصلوں کو آگ لگانے کے مسئلے پر آگے بڑھ کر کام کرنا ہوگا، کسانوں کو ورکشاپس میں بلا کر انہیں فضائی آلودگی کے حوالے سے آگاہ  فراہم کرنا ہو گا۔</p>
<p>کسان برادری صدیوں پرانی عادت پر قائم ہیں، اُن کی اِس عادت کو چھڑوانا ہوگا اور انہیں بتانا ہوگا کہ آگ لگانے کے متبادل اقدامات کیا ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>شیری رحمٰن کے مطابق کسانوں کو صرف یہ کہہ دینا کہ فصلیں نہ جلائیں، اس سے فرق نہیں پڑے گا، ایک جگہ پر انہیں منع کریں گے تو وہ دوسری جگہ پر آگ لگا دیتے ہیں، جس کہ وجہ سے آلودگی میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ لاہور اور دہلی دونوں دنیا کے آلودہ ترین شہر قرار پاتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ بطور وفاقی وزیر ماحولیاتی آلودگی پر اپنی پالیسی دی تھی، تاکہ اس پر ایکشن لیا جا سکے، تاہم مجھے معلوم نہیں کہ اس پر کتنا عمل درآمد کیا گیا۔</p>
<p>میری معلومات کے مطابق صوبائی حکومت نے بھارتی پنجاب سے رابطہ کیا تھا لیکن وہاں سے کوئی مثبت جواب نہیں ملا، سینیٹر شیری رحمٰن کے مطابق ہماری کئی منصوبہ بندیاں پٹری سے اتر گئی ہیں، ہر دفعہ ایک نیا پہیہ ایجاد کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جس کا براہ راست نقصان عام آدمی کو اٹھانا پڑتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271017</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Oct 2025 21:58:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/07203238b60d46a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/07203238b60d46a.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
