<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 31 May 2026 03:26:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 31 May 2026 03:26:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فضائی آلودگی سے پاکستان میں سالانہ 2 لاکھ 35 ہزار افراد جاں بحق ہوجاتے ہیں، پروفیسر ظفر فاطمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271040/</link>
      <description>&lt;p&gt;آغاخان یونیورسٹی ہاسپٹل کے پروفیسر ظفر فاطمی نے کہا ہے  کہ فضائی آلودگی کی وجہ سے پاکستان میں سالانہ 2 لاکھ 35 ہزار افراد جاں بحق ہوجاتے ہیں، فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے  صنعتوں اور گاڑیوں سے ضرر رساں گیسوں  کے اخراج پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے پروگرام میں میزبان ماہین اعظم خان  سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ دنیا بھر میں 70 لاکھ افراد فضائی آلودگی کی وجہ سے جاں بحق ہوجاتے ہیں  اور فضائی آلودگی عالمی سطح پر  سب سے بڑا ہیلتھ رسک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ  بدقسمتی سے پاکستان کا شمار فضائی آلودگی سے سب  سے زیادہ متاثرہ ممالک میں ہوتا ہے اور یہ پاکستان میں اموات اور امراض کے حوالے سے سرفہرست رسک فیکٹر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروفیسر ظفر فاطمی نے  بتایا کہ فضائی آلودگی کی وجہ سے پاکستان میں سالانہ دو لاکھ 35 ہزار افراد جاں بحق ہوجاتے  ہیں، فضائی آلودگی بڑھتے ہی ہسپتالوں میں داخل ہونے والے مریضوں کی تعداد بھی بڑھ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ فضائی آلودگی میں  کمی کے لیے صنعتوں اور گاڑیوں سے ضرر رساں گیسوں  کے اخراج پر قابو پانے کی ضرورت ہے، اس کے علاوہ ایندھن کے معیار اور گاڑیوں کے انجن کو بھی بہتر بنانا ہوگا اور اس کے قواعد و ضوابط لاگو کرنے کی ضرورت ہوگی اور یہ انتظامی فیصلہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آغاخان یونیورسٹی ہاسپٹل کے پروفیسر ظفر فاطمی نے کہا ہے  کہ فضائی آلودگی کی وجہ سے پاکستان میں سالانہ 2 لاکھ 35 ہزار افراد جاں بحق ہوجاتے ہیں، فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے  صنعتوں اور گاڑیوں سے ضرر رساں گیسوں  کے اخراج پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے پروگرام میں میزبان ماہین اعظم خان  سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ دنیا بھر میں 70 لاکھ افراد فضائی آلودگی کی وجہ سے جاں بحق ہوجاتے ہیں  اور فضائی آلودگی عالمی سطح پر  سب سے بڑا ہیلتھ رسک ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ  بدقسمتی سے پاکستان کا شمار فضائی آلودگی سے سب  سے زیادہ متاثرہ ممالک میں ہوتا ہے اور یہ پاکستان میں اموات اور امراض کے حوالے سے سرفہرست رسک فیکٹر ہے۔</p>
<p>پروفیسر ظفر فاطمی نے  بتایا کہ فضائی آلودگی کی وجہ سے پاکستان میں سالانہ دو لاکھ 35 ہزار افراد جاں بحق ہوجاتے  ہیں، فضائی آلودگی بڑھتے ہی ہسپتالوں میں داخل ہونے والے مریضوں کی تعداد بھی بڑھ جاتی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ فضائی آلودگی میں  کمی کے لیے صنعتوں اور گاڑیوں سے ضرر رساں گیسوں  کے اخراج پر قابو پانے کی ضرورت ہے، اس کے علاوہ ایندھن کے معیار اور گاڑیوں کے انجن کو بھی بہتر بنانا ہوگا اور اس کے قواعد و ضوابط لاگو کرنے کی ضرورت ہوگی اور یہ انتظامی فیصلہ ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271040</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Oct 2025 00:02:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/07235907165cf13.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/07235907165cf13.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
