<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 10:08:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 10:08:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترکیہ کا غزہ جنگ بندی کی ’نگران ٹاسک فورس‘ میں شمولیت کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271202/</link>
      <description>&lt;p&gt;ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے غزہ جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کی نگرانی کے لیے قائم کی جانے والی ’ٹاسک فورس‘ میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/news/liveblog/2025/10/9/live-israel-hamas-agree-on-first-phase-of-gaza-ceasefire-deal"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ ’انشا اللہ ہم اس ٹاسک فورس میں شامل ہوں گے جو معاہدے کے نفاذ کی نگرانی کرے گی۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ نے قطر، مصر اور امریکا کے نمائندوں کے ساتھ مصر کے شہر شرم الشیخ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، رجب طیب اردوان نے اس بات پر زور دیا کہ ’غزہ کو جامع انسانی امداد فوری طور پر فراہم کرنا، قیدیوں اور یرغمالیوں کا تبادلہ اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کا فوری خاتمہ نہایت اہم ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271146"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ترکیہ نے یہ وعدہ بھی کیا کہ ان کا ملک غزہ کی تعمیرِ نو کے عمل میں بھرپور تعاون کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ’دنیا میں کوئی بھی غزہ کے عوام سے زیادہ امن، سلامتی اور استحکام کا حقدار نہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ آج اسرائیل اور حماس نے غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر اتفاق کر لیا، جس کا مقصد اس تباہ کن تنازع کو ختم کرنا ہے جس میں دسیوں ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، فلسطینی علاقے کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے اور ایک بڑے انسانی بحران نے جنم لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق اس معاہدے پر جمعرات کو دستخط کیے جائیں گے، جس کے تحت قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کے ساتھ ساتھ غزہ میں انسانی امداد کے بڑے پیمانے پر داخلے کی اجازت دی جائے گی، یہ اقدام دو سال سے جاری نسل کشی کے بعد کیا جا رہا ہے، جو اس وقت شروع ہوئی تھی جب تل ابیب نے اکتوبر 2023 میں حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد فلسطینی علاقے پر بمباری شروع کی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے غزہ جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کی نگرانی کے لیے قائم کی جانے والی ’ٹاسک فورس‘ میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا۔</p>
<p>قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/news/liveblog/2025/10/9/live-israel-hamas-agree-on-first-phase-of-gaza-ceasefire-deal"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ ’انشا اللہ ہم اس ٹاسک فورس میں شامل ہوں گے جو معاہدے کے نفاذ کی نگرانی کرے گی۔‘</p>
<p>ترکیہ نے قطر، مصر اور امریکا کے نمائندوں کے ساتھ مصر کے شہر شرم الشیخ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے شرکت کی۔</p>
<p>تاہم، رجب طیب اردوان نے اس بات پر زور دیا کہ ’غزہ کو جامع انسانی امداد فوری طور پر فراہم کرنا، قیدیوں اور یرغمالیوں کا تبادلہ اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کا فوری خاتمہ نہایت اہم ہے۔‘</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271146"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>صدر ترکیہ نے یہ وعدہ بھی کیا کہ ان کا ملک غزہ کی تعمیرِ نو کے عمل میں بھرپور تعاون کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ’دنیا میں کوئی بھی غزہ کے عوام سے زیادہ امن، سلامتی اور استحکام کا حقدار نہیں۔‘</p>
<p>واضح رہے کہ آج اسرائیل اور حماس نے غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر اتفاق کر لیا، جس کا مقصد اس تباہ کن تنازع کو ختم کرنا ہے جس میں دسیوں ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، فلسطینی علاقے کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے اور ایک بڑے انسانی بحران نے جنم لیا ہے۔</p>
<p>غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق اس معاہدے پر جمعرات کو دستخط کیے جائیں گے، جس کے تحت قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کے ساتھ ساتھ غزہ میں انسانی امداد کے بڑے پیمانے پر داخلے کی اجازت دی جائے گی، یہ اقدام دو سال سے جاری نسل کشی کے بعد کیا جا رہا ہے، جو اس وقت شروع ہوئی تھی جب تل ابیب نے اکتوبر 2023 میں حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد فلسطینی علاقے پر بمباری شروع کی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271202</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Oct 2025 21:12:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/0921094162ffd1f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/0921094162ffd1f.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: ٹی آر ٹی ورلڈ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
