<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - KP-FATA</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 12:52:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 12:52:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پشاور کی تحصیل حسن خیل میں فورسز کا آپریشن، 2 دہشتگرد ہلاک، 2 زخمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271314/</link>
      <description>&lt;p&gt;خیبر پختونخوا کے ضلع پشاور کی تحصیل حسن خیل میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک اور 2 زخمی ہو گئے، جب کہ کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیپٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے بتایا کہ مزید 3 دہشت گردوں کو گھیر لیا گیا ہے اور اضافی نفری کو آپریشن کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ حسن خیل پولیس نے جرات، بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گرد حملے کو پسپا کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271301"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امکان ہے کہ دہشت گرد فائرنگ کے تبادلے میں مارے جائیں، کیونکہ پولیس نے بروقت کارروائی کے ذریعے ان کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا دیا، علاقے میں بھاری پولیس نفری تعینات کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں، جب سے نومبر 2022 میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے حکومت کے ساتھ جنگ بندی ختم کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے مطابق ایک روز قبل 2 دہشت گرد خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیے گئے ایک آپریشن (آئی بی او) میں ہلاک ہو گئے تھے، جن میں ایک وہ دہشت گرد بھی شامل تھا، جسے اپریل میں 4 اہلکاروں کے قتل کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا جا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے بیان میں کہا گیا تھا کہ بدھ کے روز 11 سیکیورٹی اہلکار، جن میں ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک میجر شامل تھے، خیبر پختونخوا کے ضلع اورکزئی میں فورسز اور ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں شہید ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>خیبر پختونخوا کے ضلع پشاور کی تحصیل حسن خیل میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک اور 2 زخمی ہو گئے، جب کہ کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔</p>
<p>کیپٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے بتایا کہ مزید 3 دہشت گردوں کو گھیر لیا گیا ہے اور اضافی نفری کو آپریشن کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ حسن خیل پولیس نے جرات، بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گرد حملے کو پسپا کر دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271301"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امکان ہے کہ دہشت گرد فائرنگ کے تبادلے میں مارے جائیں، کیونکہ پولیس نے بروقت کارروائی کے ذریعے ان کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا دیا، علاقے میں بھاری پولیس نفری تعینات کر دی گئی ہے۔</p>
<p>پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں، جب سے نومبر 2022 میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے حکومت کے ساتھ جنگ بندی ختم کی تھی۔</p>
<p>محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے مطابق ایک روز قبل 2 دہشت گرد خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیے گئے ایک آپریشن (آئی بی او) میں ہلاک ہو گئے تھے، جن میں ایک وہ دہشت گرد بھی شامل تھا، جسے اپریل میں 4 اہلکاروں کے قتل کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا جا رہا تھا۔</p>
<p>پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے بیان میں کہا گیا تھا کہ بدھ کے روز 11 سیکیورٹی اہلکار، جن میں ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک میجر شامل تھے، خیبر پختونخوا کے ضلع اورکزئی میں فورسز اور ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں شہید ہو گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271314</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Oct 2025 15:53:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (زاہد امداد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/11144259c40dbde.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/11144259c40dbde.webp"/>
        <media:title>پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے امکان ہے کہ دہشتگرد فائرنگ کے تبادلے میں مارے جائیں — فوٹو: اسکرین گریب/زاہد امداد
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
