<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Lahore</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 19 Jun 2026 10:35:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 19 Jun 2026 10:35:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور: ایک مذہبی جماعت خفیہ ایجنڈے پر ملک میں انتشار پیدا کر رہی ہے، ڈی آئی جی آپریشنز</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271332/</link>
      <description>&lt;p&gt;ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران نےکہا ہے کہ پچھلے کچھ دنوں سے ایک مذہبی و سیاسی جماعت  پُر تشدد قسم کا احتجاج اور بلاوجہ انتشار پھیلا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران نے کہا کہ جب بھی وطن عزیز ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے، کوئی نہ کوئی گروہو کسی خفیہ ایجنڈے کے تحت انتشار پیدا کرنے کی کوشش شروع کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی آپریشن لاہور کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مذہبی و سیاسی جماعت سے احتجاج مؤخر کرنے کے لیے بارہا بات چیت کی، اس معاملے کا پرامن طریقے سے حل نکالنے کی ہرممکن کوشش کی گئی، تاہم یہ لوگ پر تشدد رویے سے باز نہیں آئے اور تشدد پر مبنی احتجاج شروع کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271276"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد فیصل کامران نے احتجاج کے دوران زخمی اہلکاروں کے حوالے سے بتایا کہ پنجاب پولیس کے 112 اہلکار زخمی ہوئے، جن میں سے کچھ کو علاج کے  بعد گھر بھیج دیا گیا جبکہ بیشتر اہلکار اب بھی مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہمارے کچھ پولیس اہلکار لاپتا بھی ہوئے ہیں، خدشہ ہے کہ وہ مذہبی جماعت کے کارکنوں کی تحویل میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں انہوں نےکہا کہ پرتشدد جتھوں نے سرکاری املاک کو بھی شدید نقصان پہنچایا، شہریوں کی گاڑیاں چھینی گئیں اور ان سے قیمتی اشیا لوٹ لی گئیں، شہریوں کو پریشان کرنےکے ساتھ ساتھ مذہبی جماعت کے کارکنوں نے پولیس تھانوں پر بھی حملے کیے، اورینج لائن میں تھوڑ پھوڑ بھی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد فیصل کامران کا کہنا تھا کہ شرانگیزی پھیلانے والے 100 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا، یہ لوگ جس وجہ سے احتجاج کر رہے ہیں وہ لوگ خود معاہدہ ہونے پر خوش ہیں، یہ جماعت بلاوجہ انتشار پھیلا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ان لوگوں نے عام آدمی کو تنگ کیا تو  ریاست ان سے نمٹنے کے لیے بالکل تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس کانفرنس کے آخر میں ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کوشش کی کہ شہریوں کی املاک کا کم سے کم نقصان ہو، سیف سٹی سے فوٹیج نکال رہے ہیں، جن لوگوں نے پرتشدد رویہ اختیار کیا ان لوگوں کو قانون کے دائرے میں لائیں گے، ریاست کسی بھی قسم کی پرتشدد کارروائی کو برداشت نہیں کرے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران نےکہا ہے کہ پچھلے کچھ دنوں سے ایک مذہبی و سیاسی جماعت  پُر تشدد قسم کا احتجاج اور بلاوجہ انتشار پھیلا رہی ہے۔</p>
<p>لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران نے کہا کہ جب بھی وطن عزیز ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے، کوئی نہ کوئی گروہو کسی خفیہ ایجنڈے کے تحت انتشار پیدا کرنے کی کوشش شروع کر دیتا ہے۔</p>
<p>ڈی آئی جی آپریشن لاہور کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مذہبی و سیاسی جماعت سے احتجاج مؤخر کرنے کے لیے بارہا بات چیت کی، اس معاملے کا پرامن طریقے سے حل نکالنے کی ہرممکن کوشش کی گئی، تاہم یہ لوگ پر تشدد رویے سے باز نہیں آئے اور تشدد پر مبنی احتجاج شروع کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271276"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>محمد فیصل کامران نے احتجاج کے دوران زخمی اہلکاروں کے حوالے سے بتایا کہ پنجاب پولیس کے 112 اہلکار زخمی ہوئے، جن میں سے کچھ کو علاج کے  بعد گھر بھیج دیا گیا جبکہ بیشتر اہلکار اب بھی مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔</p>
<p>انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہمارے کچھ پولیس اہلکار لاپتا بھی ہوئے ہیں، خدشہ ہے کہ وہ مذہبی جماعت کے کارکنوں کی تحویل میں ہیں۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں انہوں نےکہا کہ پرتشدد جتھوں نے سرکاری املاک کو بھی شدید نقصان پہنچایا، شہریوں کی گاڑیاں چھینی گئیں اور ان سے قیمتی اشیا لوٹ لی گئیں، شہریوں کو پریشان کرنےکے ساتھ ساتھ مذہبی جماعت کے کارکنوں نے پولیس تھانوں پر بھی حملے کیے، اورینج لائن میں تھوڑ پھوڑ بھی کی گئی۔</p>
<p>محمد فیصل کامران کا کہنا تھا کہ شرانگیزی پھیلانے والے 100 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا، یہ لوگ جس وجہ سے احتجاج کر رہے ہیں وہ لوگ خود معاہدہ ہونے پر خوش ہیں، یہ جماعت بلاوجہ انتشار پھیلا رہی ہے۔</p>
<p>اگر ان لوگوں نے عام آدمی کو تنگ کیا تو  ریاست ان سے نمٹنے کے لیے بالکل تیار ہے۔</p>
<p>پریس کانفرنس کے آخر میں ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کوشش کی کہ شہریوں کی املاک کا کم سے کم نقصان ہو، سیف سٹی سے فوٹیج نکال رہے ہیں، جن لوگوں نے پرتشدد رویہ اختیار کیا ان لوگوں کو قانون کے دائرے میں لائیں گے، ریاست کسی بھی قسم کی پرتشدد کارروائی کو برداشت نہیں کرے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271332</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Oct 2025 19:27:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/1119145256e8cda.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/1119145256e8cda.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: پی ٹی وی/اسکرین گریب
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
