<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Business - Economy</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 09 Jul 2026 02:07:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 09 Jul 2026 02:07:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا کنٹینر بردار جہاز ہچیسن پورٹ پر لنگر انداز</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271507/</link>
      <description>&lt;p&gt;ملک کی واحد گہرے پانی کی کنٹینر ٹرمینل ہچیسن پورٹس پاکستان پر ’ایم ایس سی مائیکول‘ لنگر انداز ہوگیا ہے، جو ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا جہاز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1948792/largest-ever-container-ship-berthed"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق 400 میٹر لمبا یہ کنٹینر جہاز 24 ہزار 70 ٹی ای یوز کی گنجائش رکھتا ہے، جس کی بدولت یہ دنیا کے جدید ترین جہازوں میں سے ایک اور پاکستان کی بندرگاہ پر آنے والا سب سے بڑا جہاز بن گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247006"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ایم ایس سی مائیکول کی آمد ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹرمینل انتہائی بڑے جہازوں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑے جہازوں کی ہینڈلنگ تجارتی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے اور فریٹ (مال برداری) کے اخراجات کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے، جس سے ملک کی برآمدی مسابقت میں اضافہ اور درآمدی اخراجات میں کمی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیرِ بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے اس موقع کو ایک تاریخی واقعہ قرار دیا، جو پاکستان کی حیثیت کو خطے کے شپنگ حب کے طور پر مضبوط کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کی 2 ذیلی کمپنیاں، کراچی شپنگ اور لاہور شپنگ نے 2 افری میکس ٹینکرز، لوریکس اور نافسیکا خریدنے کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جن کا ڈیڈ ویٹ ٹنیج بالترتیب ایک لاکھ 9 ہزار 990 اور ایک لاکھ 12 ہزار 51 ٹن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی این ایس سی نے اس سے قبل 2026 تک اپنے بیڑے کو 30 جہازوں تک بڑھانے کے لیے 19 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ملک کی واحد گہرے پانی کی کنٹینر ٹرمینل ہچیسن پورٹس پاکستان پر ’ایم ایس سی مائیکول‘ لنگر انداز ہوگیا ہے، جو ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا جہاز ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1948792/largest-ever-container-ship-berthed"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق 400 میٹر لمبا یہ کنٹینر جہاز 24 ہزار 70 ٹی ای یوز کی گنجائش رکھتا ہے، جس کی بدولت یہ دنیا کے جدید ترین جہازوں میں سے ایک اور پاکستان کی بندرگاہ پر آنے والا سب سے بڑا جہاز بن گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247006"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ایم ایس سی مائیکول کی آمد ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹرمینل انتہائی بڑے جہازوں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p>بڑے جہازوں کی ہینڈلنگ تجارتی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے اور فریٹ (مال برداری) کے اخراجات کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے، جس سے ملک کی برآمدی مسابقت میں اضافہ اور درآمدی اخراجات میں کمی ہوتی ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیرِ بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے اس موقع کو ایک تاریخی واقعہ قرار دیا، جو پاکستان کی حیثیت کو خطے کے شپنگ حب کے طور پر مضبوط کرتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کی 2 ذیلی کمپنیاں، کراچی شپنگ اور لاہور شپنگ نے 2 افری میکس ٹینکرز، لوریکس اور نافسیکا خریدنے کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جن کا ڈیڈ ویٹ ٹنیج بالترتیب ایک لاکھ 9 ہزار 990 اور ایک لاکھ 12 ہزار 51 ٹن ہے۔</p>
<p>پی این ایس سی نے اس سے قبل 2026 تک اپنے بیڑے کو 30 جہازوں تک بڑھانے کے لیے 19 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271507</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Oct 2025 13:36:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/141001485a816ee.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="725">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/141001485a816ee.webp"/>
        <media:title>وفاقی وزیرِ بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے اس موقع کو ایک تاریخی واقعہ قرار دیا ہے
— فوٹو: ہچیسن پورٹس پاکستان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
