<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 20:53:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 20:53:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>26 نومبر احتجاج کیس: علیمہ خان سمیت 10 ملزمان پر فرد جرم عائد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271642/</link>
      <description>&lt;p&gt;انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) راولپنڈی نے 26 نومبر احتجاج پر تھانہ صادق آباد میں درج مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خانم سمیت 10 ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے جج امجد علی شاہ نے 26 نومبر احتجاج کیس کی سماعت کی، کیس میں علیمہ خانم کے وکیل نے عدالتی دائرہ اختیار کو بھی چیلنج کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے علیمہ خانم سمیت 10 ملزمان پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر استغاثہ کے 5 گواہان طلب کرلیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے آئندہ سماعت پر سب انسپکٹر ظہیر، سب انسپکٹر اقبال، اے ایس آئی کاظم رضا، طارق محمود، کانسٹیبل بابر کو بھی شہادت کے لیے طلب کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269859"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں، عدالت نے مقدمہ کی سماعت 17 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1271059"&gt;8 اکتوبر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے علیمہ خان کی حاضری معافی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پس-منظر" href="#پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پس منظر&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے 24 نومبر 2024 کو بانی کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور اُس وقت کے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے حامیوں نے پشاور سے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کیا تھا اور 25 نومبر کی شب وہ اسلام آباد کے قریب پہنچ گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اگلے روز اسلام آباد میں داخلے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ پی ٹی آئی کے حامیوں کی جھڑپ کے نتیجے میں متعدد افراد، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;26 نومبر کی شب بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور اور عمر ایوب مارچ کے شرکا کو چھوڑ کر ہری پور کے راستے مانسہرہ چلے گئے تھے، مارچ کے شرکا بھی واپس اپنے گھروں کو چلے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احتجاج کے بعد وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی کے مختلف تھانوں میں پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان، سابق خاتون اول بشریٰ بی بی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور و دیگر پارٹی رہنماؤں اور سیکڑوں کارکنان کے خلاف دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کے 24 نومبر کے احتجاج اور پُرتشدد مظاہروں پر مختلف تھانوں میں مقدمات انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظاہرین پر سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے، مجمع جمع کرکے شاہراہوں کو بند کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) راولپنڈی نے 26 نومبر احتجاج پر تھانہ صادق آباد میں درج مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خانم سمیت 10 ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے جج امجد علی شاہ نے 26 نومبر احتجاج کیس کی سماعت کی، کیس میں علیمہ خانم کے وکیل نے عدالتی دائرہ اختیار کو بھی چیلنج کر رکھا ہے۔</p>
<p>عدالت نے علیمہ خانم سمیت 10 ملزمان پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر استغاثہ کے 5 گواہان طلب کرلیے۔</p>
<p>عدالت نے آئندہ سماعت پر سب انسپکٹر ظہیر، سب انسپکٹر اقبال، اے ایس آئی کاظم رضا، طارق محمود، کانسٹیبل بابر کو بھی شہادت کے لیے طلب کیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269859"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بعد ازاں، عدالت نے مقدمہ کی سماعت 17 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔</p>
<p><strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1271059">8 اکتوبر</a></strong> کو ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے علیمہ خان کی حاضری معافی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے تھے۔</p>
<h1><a id="پس-منظر" href="#پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پس منظر</h1>
<p>یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے 24 نومبر 2024 کو بانی کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور اُس وقت کے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے حامیوں نے پشاور سے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کیا تھا اور 25 نومبر کی شب وہ اسلام آباد کے قریب پہنچ گئے تھے۔</p>
<p>تاہم اگلے روز اسلام آباد میں داخلے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ پی ٹی آئی کے حامیوں کی جھڑپ کے نتیجے میں متعدد افراد، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے تھے۔</p>
<p>26 نومبر کی شب بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور اور عمر ایوب مارچ کے شرکا کو چھوڑ کر ہری پور کے راستے مانسہرہ چلے گئے تھے، مارچ کے شرکا بھی واپس اپنے گھروں کو چلے گئے تھے۔</p>
<p>احتجاج کے بعد وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی کے مختلف تھانوں میں پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان، سابق خاتون اول بشریٰ بی بی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور و دیگر پارٹی رہنماؤں اور سیکڑوں کارکنان کے خلاف دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے۔</p>
<p>پی ٹی آئی کے 24 نومبر کے احتجاج اور پُرتشدد مظاہروں پر مختلف تھانوں میں مقدمات انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیے گئے تھے۔</p>
<p>مظاہرین پر سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے، مجمع جمع کرکے شاہراہوں کو بند کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271642</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Oct 2025 18:37:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر شیرانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/151824166e0300e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/151824166e0300e.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
