<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 19 May 2026 00:49:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 19 May 2026 00:49:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>توانائی سے متعلق ترجیح اپنے شہریوں کے مفادات کا تحفظ ہے، بھارت کا ٹرمپ کے بیان پر ردعمل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271707/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت نے کہا ہے کہ اس کی توانائی سے متعلق ترجیح اپنے شہریوں کے مفادات کا تحفظ ہے، یہ بیان اُس وقت سامنے آیا ہے، جب اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ نئی دہلی نے وعدہ کیا ہے کہ وہ روس سے تیل خریدنا بند کر دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق نئی دہلی نے اس بات کی تصدیق کی نہ تردید، کہ وہ روس کے حوالے سے اپنی پالیسی میں تبدیلی لا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک بیان میں کہا کہ ایک غیر مستحکم توانائی کے ماحول میں بھارتی صارفین کے مفادات کا تحفظ ہماری مستقل ترجیح رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہماری درآمدی پالیسیاں مکمل طور پر اسی مقصد سے رہنمائی حاصل کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MEAIndia/status/1978690629522653592"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی اس سے قبل روس سے تیل خریدنے کے فیصلے کا دفاع کر چکے ہیں، حالانکہ ماسکو نے یوکرین پر حملہ کیا تھا، اور روس بھارت کا ایک تاریخی شراکت دار رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271685"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر امریکی درآمدی محصولات کو 50 فیصد تک بڑھا دیا تھا، جب کہ ان کے مشیروں نے بھارت پر الزام لگایا تھا کہ وہ روس کی یوکرین میں جنگ کو مالی مدد فراہم کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رندھیر جیسوال نے مزید کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں استحکام اور محفوظ سپلائی کو یقینی بنانا ہماری توانائی پالیسی کے دو بنیادی اہداف ہیں، اس میں توانائی کے ذرائع کی وسعت اور مارکیٹ کے حالات کے مطابق تنوع پیدا کرنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت دنیا کے سب سے بڑے خام تیل درآمد کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے اور اپنی تیل کی ضروریات کا 85 فیصد سے زیادہ حصہ بیرونی سپلائرز سے حاصل کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روایتی طور پر نئی دہلی مشرقِ وسطیٰ کے ممالک پر انحصار کرتا رہا ہے، لیکن 2022 سے مغربی ممالک کی جانب سے ماسکو پر عائد پابندیوں کے بعد بننے والی خریداروں کی منڈی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے روسی رعایتی تیل کی خریداری کی طرف نمایاں رخ موڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسوال نے کہا کہ ’جہاں تک امریکا کا تعلق ہے، ہم نے کئی سالوں سے اپنی توانائی کی خریداری کو وسعت دینے کی کوشش کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یہ عمل گزشتہ دہائی کے دوران بتدریج آگے بڑھا ہے، موجودہ امریکی انتظامیہ نے بھارت کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید گہرا کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، اور اس سلسلے میں بات چیت جاری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت نے کہا ہے کہ اس کی توانائی سے متعلق ترجیح اپنے شہریوں کے مفادات کا تحفظ ہے، یہ بیان اُس وقت سامنے آیا ہے، جب اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ نئی دہلی نے وعدہ کیا ہے کہ وہ روس سے تیل خریدنا بند کر دے گا۔</p>
<p>فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق نئی دہلی نے اس بات کی تصدیق کی نہ تردید، کہ وہ روس کے حوالے سے اپنی پالیسی میں تبدیلی لا رہا ہے۔</p>
<p>بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک بیان میں کہا کہ ایک غیر مستحکم توانائی کے ماحول میں بھارتی صارفین کے مفادات کا تحفظ ہماری مستقل ترجیح رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہماری درآمدی پالیسیاں مکمل طور پر اسی مقصد سے رہنمائی حاصل کرتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MEAIndia/status/1978690629522653592"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی اس سے قبل روس سے تیل خریدنے کے فیصلے کا دفاع کر چکے ہیں، حالانکہ ماسکو نے یوکرین پر حملہ کیا تھا، اور روس بھارت کا ایک تاریخی شراکت دار رہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271685"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اگست میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر امریکی درآمدی محصولات کو 50 فیصد تک بڑھا دیا تھا، جب کہ ان کے مشیروں نے بھارت پر الزام لگایا تھا کہ وہ روس کی یوکرین میں جنگ کو مالی مدد فراہم کر رہا ہے۔</p>
<p>رندھیر جیسوال نے مزید کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں استحکام اور محفوظ سپلائی کو یقینی بنانا ہماری توانائی پالیسی کے دو بنیادی اہداف ہیں، اس میں توانائی کے ذرائع کی وسعت اور مارکیٹ کے حالات کے مطابق تنوع پیدا کرنا شامل ہے۔</p>
<p>بھارت دنیا کے سب سے بڑے خام تیل درآمد کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے اور اپنی تیل کی ضروریات کا 85 فیصد سے زیادہ حصہ بیرونی سپلائرز سے حاصل کرتا ہے۔</p>
<p>روایتی طور پر نئی دہلی مشرقِ وسطیٰ کے ممالک پر انحصار کرتا رہا ہے، لیکن 2022 سے مغربی ممالک کی جانب سے ماسکو پر عائد پابندیوں کے بعد بننے والی خریداروں کی منڈی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے روسی رعایتی تیل کی خریداری کی طرف نمایاں رخ موڑا۔</p>
<p>جیسوال نے کہا کہ ’جہاں تک امریکا کا تعلق ہے، ہم نے کئی سالوں سے اپنی توانائی کی خریداری کو وسعت دینے کی کوشش کی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یہ عمل گزشتہ دہائی کے دوران بتدریج آگے بڑھا ہے، موجودہ امریکی انتظامیہ نے بھارت کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید گہرا کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، اور اس سلسلے میں بات چیت جاری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271707</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Oct 2025 15:12:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/1612100045a74a6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/1612100045a74a6.webp"/>
        <media:title>ترجمان بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکی انتظامیہ سے تیل کی خریداری کے سلسلے میں بات چیت جاری ہے — فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
