<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 17 May 2026 19:01:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 17 May 2026 19:01:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش: استغاثہ کا حسینہ واجد کو انسانیت کیخلاف جرائم پر سزائے موت دینے کا مطالبہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271723/</link>
      <description>&lt;p&gt;بنگلہ دیش میں استغاثہ کے وکلا نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ مفرور سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی آر ٹی ورلڈ کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.trtworld.com/article/4e1aeb2d0703?fbclid=IwY2xjawNdn6lleHRuA2FlbQIxMQABHq4INf6bk53MiBovu_C64hHOmGsPZJ6ymIp0_hYTnSMDDCykXhRSALp8VSWD_aem_WqdQPJCAGH8l_Bwn9KFbWQ"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق جمعرات کو عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیف پراسیکیوٹر تاج الاسلام نے کہا کہ ’ہم ان کے لیے سب سے بڑی سزا کا مطالبہ کرتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ایک قتل کے بدلے ایک سزائے موت قانون ہے، ایک ہزار 400 افراد کے قتل کے لیے ملزمہ کو اتنی ہی بار سزائے موت دی جانی چاہیے، لیکن چوں کہ یہ انسانی طور پر ممکن نہیں، اس لیے ہم کم از کم ایک سزائے موت کا مطالبہ کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1261819"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
شیخ حسینہ نے عدالت کے ان احکامات کو نظر انداز کر دیا ہے، جن میں انہیں بھارت سے واپس آ کر مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ گزشتہ سال بھارت فرار ہو گئی تھیں تاکہ ان الزامات کا سامنا نہ کرسکیں، جن کے مطابق انہوں نے طلبہ کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کو کچلنے کے لیے خونریز کارروائی کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کے مطابق جولائی اور اگست 2024 کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں تقریباً ایک ہزار 400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استغاثہ کا الزام ہے کہ 78 سالہ حسینہ ان تمام جرائم کا مرکز تھیں جو جولائی تا اگست کی بغاوت کے دوران کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہیں 2 سابق اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے ساتھ غیر حاضری میں مقدمے کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے سابق وزیرِ داخلہ اسد الزمان خان کمال بھی مفرور ہیں، جب کہ سابق پولیس سربراہ چوہدری عبداللہ المامون حراست میں ہیں اور وہ اپنے جرم کا اعتراف کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استغاثہ نے جمعرات کو کہا کہ اسد الزمان خان کمال کو بھی سزائے موت دی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مقدمہ یکم جون کو شروع ہوا تھا، اب تک کئی ماہ کی گواہی سن چکا ہے، جس میں حسینہ واجد پر اجتماعی قتل کے احکام دینے یا انہیں روکنے میں ناکامی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاج الاسلام نے کہا کہ ’حسینہ کا مقصد اپنے لیے اور اپنے خاندان کے لیے اقتدار سے چمٹے رہنا تھا‘۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بنگلہ دیش میں استغاثہ کے وکلا نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ مفرور سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت دی جائے۔</p>
<p>ٹی آر ٹی ورلڈ کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.trtworld.com/article/4e1aeb2d0703?fbclid=IwY2xjawNdn6lleHRuA2FlbQIxMQABHq4INf6bk53MiBovu_C64hHOmGsPZJ6ymIp0_hYTnSMDDCykXhRSALp8VSWD_aem_WqdQPJCAGH8l_Bwn9KFbWQ"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق جمعرات کو عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیف پراسیکیوٹر تاج الاسلام نے کہا کہ ’ہم ان کے لیے سب سے بڑی سزا کا مطالبہ کرتے ہیں‘۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ایک قتل کے بدلے ایک سزائے موت قانون ہے، ایک ہزار 400 افراد کے قتل کے لیے ملزمہ کو اتنی ہی بار سزائے موت دی جانی چاہیے، لیکن چوں کہ یہ انسانی طور پر ممکن نہیں، اس لیے ہم کم از کم ایک سزائے موت کا مطالبہ کرتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1261819"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
شیخ حسینہ نے عدالت کے ان احکامات کو نظر انداز کر دیا ہے، جن میں انہیں بھارت سے واپس آ کر مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔</p>
<p>وہ گزشتہ سال بھارت فرار ہو گئی تھیں تاکہ ان الزامات کا سامنا نہ کرسکیں، جن کے مطابق انہوں نے طلبہ کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کو کچلنے کے لیے خونریز کارروائی کا حکم دیا تھا۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ کے مطابق جولائی اور اگست 2024 کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں تقریباً ایک ہزار 400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔</p>
<p>استغاثہ کا الزام ہے کہ 78 سالہ حسینہ ان تمام جرائم کا مرکز تھیں جو جولائی تا اگست کی بغاوت کے دوران کیے گئے تھے۔</p>
<p>انہیں 2 سابق اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے ساتھ غیر حاضری میں مقدمے کا سامنا ہے۔</p>
<p>ان کے سابق وزیرِ داخلہ اسد الزمان خان کمال بھی مفرور ہیں، جب کہ سابق پولیس سربراہ چوہدری عبداللہ المامون حراست میں ہیں اور وہ اپنے جرم کا اعتراف کر چکے ہیں۔</p>
<p>استغاثہ نے جمعرات کو کہا کہ اسد الزمان خان کمال کو بھی سزائے موت دی جانی چاہیے۔</p>
<p>یہ مقدمہ یکم جون کو شروع ہوا تھا، اب تک کئی ماہ کی گواہی سن چکا ہے، جس میں حسینہ واجد پر اجتماعی قتل کے احکام دینے یا انہیں روکنے میں ناکامی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔</p>
<p>تاج الاسلام نے کہا کہ ’حسینہ کا مقصد اپنے لیے اور اپنے خاندان کے لیے اقتدار سے چمٹے رہنا تھا‘۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271723</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Oct 2025 15:05:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/16145450ab7c0b4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/16145450ab7c0b4.webp"/>
        <media:title>حسینہ واجد کو 2 سابق اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے ساتھ غیر حاضری میں مقدمے کا سامنا ہے۔
—فائل فوٹو: انادولو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
