<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 13:11:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 13:11:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دہشتگردی سے بچنے کیلئے پاکستان ریلوے کو ہر ٹرین میں 3 جیمر نصب کرنے کی ہدایت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271869/</link>
      <description>&lt;p&gt;پارلیمانی کمیٹی نے جمعہ کے روز پاکستان ریلوے کو ہدایت کی ہے کہ حساس راستوں پر باقاعدہ گشت کو مضبوط بنایا جائے، اور ہر ٹرین میں 3 جیمر نصب کیے جائیں تاکہ مسافروں کو دہشت گرد حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1949668/pakistan-railways-told-to-install-jammers-to-protect-passengers-from-attacks"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے یہ فیصلہ پاکستان ریلوے کے حکام کی جانب سے 7 اکتوبر کو جعفر ایکسپریس پر ہونے والے حملے کے بارے میں دی گئی بریفنگ کے بعد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے بتایا کہ 7 اکتوبر کو جعفر ایکسپریس کو سندھ میں سلطان کوٹ ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) سے نشانہ بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264556"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دھماکے سے 5 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں اور پٹڑی کو نقصان پہنچا، پاکستان ریلوے کے ملازمین  سمیت 7 مسافر زخمی ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کی عدم موجودگی میں رمیش لال کی صدارت میں ہوا، جس میں جعفر ایکسپریس دھماکے، ریلوے کی زمینوں پر قبضوں اور کراچی۔پپری فریٹ کوریڈور منصوبے سے متعلق امور پر بریفنگ دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فریٹ کوریڈور منصوبے پر بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری پاکستان ریلوے نے بتایا کہ منصوبہ کیماڑی سے شروع ہوگا، جو کراچی پورٹ کو پپری سے ملائے گا، اس راستے پر دو نئی ریلوے لائنیں بچھائی جائیں گی جو موٹروے ایم نائن سے منسلک ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینل کو بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر ٹرمینل محدود پیمانے پر کام کرے گا اور پہلا مرحلہ 6 ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے، مزید بتایا گیا کہ روزانہ 17 فریٹ ٹرینیں چلائی جائیں گی اور منصوبے کی لاگت 40 کروڑ ڈالر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ پاکستان ریلوے سکھر نے کمیٹی کو سکھر میں ریلوے کی زمینوں پر قبضوں کے بارے میں آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ 16 ہزار 458 ایکڑ زمین آپریشنل استعمال میں ہے، 3 ہزار 253 ایکڑ زمین پر تجاوزات قائم ہیں، جب کہ 457 ایکڑ زمین پر بااثر قبضہ مافیا نے قبضہ کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پارلیمانی کمیٹی نے جمعہ کے روز پاکستان ریلوے کو ہدایت کی ہے کہ حساس راستوں پر باقاعدہ گشت کو مضبوط بنایا جائے، اور ہر ٹرین میں 3 جیمر نصب کیے جائیں تاکہ مسافروں کو دہشت گرد حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1949668/pakistan-railways-told-to-install-jammers-to-protect-passengers-from-attacks"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے یہ فیصلہ پاکستان ریلوے کے حکام کی جانب سے 7 اکتوبر کو جعفر ایکسپریس پر ہونے والے حملے کے بارے میں دی گئی بریفنگ کے بعد کیا۔</p>
<p>حکام نے بتایا کہ 7 اکتوبر کو جعفر ایکسپریس کو سندھ میں سلطان کوٹ ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) سے نشانہ بنایا گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264556"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دھماکے سے 5 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں اور پٹڑی کو نقصان پہنچا، پاکستان ریلوے کے ملازمین  سمیت 7 مسافر زخمی ہوئے تھے۔</p>
<p>کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کی عدم موجودگی میں رمیش لال کی صدارت میں ہوا، جس میں جعفر ایکسپریس دھماکے، ریلوے کی زمینوں پر قبضوں اور کراچی۔پپری فریٹ کوریڈور منصوبے سے متعلق امور پر بریفنگ دی گئی۔</p>
<p>فریٹ کوریڈور منصوبے پر بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری پاکستان ریلوے نے بتایا کہ منصوبہ کیماڑی سے شروع ہوگا، جو کراچی پورٹ کو پپری سے ملائے گا، اس راستے پر دو نئی ریلوے لائنیں بچھائی جائیں گی جو موٹروے ایم نائن سے منسلک ہوں گی۔</p>
<p>کمیٹی نے منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>پینل کو بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر ٹرمینل محدود پیمانے پر کام کرے گا اور پہلا مرحلہ 6 ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے، مزید بتایا گیا کہ روزانہ 17 فریٹ ٹرینیں چلائی جائیں گی اور منصوبے کی لاگت 40 کروڑ ڈالر ہوگی۔</p>
<p>ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ پاکستان ریلوے سکھر نے کمیٹی کو سکھر میں ریلوے کی زمینوں پر قبضوں کے بارے میں آگاہ کیا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ 16 ہزار 458 ایکڑ زمین آپریشنل استعمال میں ہے، 3 ہزار 253 ایکڑ زمین پر تجاوزات قائم ہیں، جب کہ 457 ایکڑ زمین پر بااثر قبضہ مافیا نے قبضہ کر رکھا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271869</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Oct 2025 14:34:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امین احمد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/18124355a6524b0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/18124355a6524b0.webp"/>
        <media:title>7 اکتوبر کو جعفر ایکسپریس کو سندھ میں سلطان کوٹ ریلوے اسٹیشن کے قریب دیسی ساختہ بم سے نشانہ بنایا گیا تھا — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
