<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 19 May 2026 18:19:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 19 May 2026 18:19:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میٹا کا بچوں کے اے آئی چیٹ بوٹس پر والدین کو رسائی دینے کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271896/</link>
      <description>&lt;p&gt;انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ بچوں کے زیر استعمال رہنے والے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) چیٹ بوٹس تک والدین کو رسائی دینے کا اعلان کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/meta-instagram-ai-chatbot-teens-parents-306b9c49ef69f6894044b2d82c6172fe"&gt;&lt;strong&gt;اے پی&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;) کے مطابق فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے سال کے شروع سے بچوں کے اے آئی چیٹ بوٹس کے ساتھ رابطوں کے لیے والدین کے کنٹرول کے نئے فیچرز متعارف کرائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ نئے فیچرز میں والدین کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کے اے آئی کرداروں کے ساتھ انفرادی چیٹس کو مکمل طور پر بند کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270051"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطاق کرداروں کی انفرادی چیٹس کو والدین کی جانب سے بند کیے جانے کے باوجود اے آئی اسسٹنٹ بند نہیں کیا جا سکے گا، یہ اسسٹنٹ بچوں کو مفید معلومات اور تعلیمی مواقع فراہم کرتا رہے گا، اور اس میں بچوں کی عمر کے مطابق حفاظتی اقدامات خود بخود شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے بتایا کہ والدین کے پاس یہ اختیار بھی ہوگا کہ وہ مخصوص اے آئی چیٹ بوٹس کو بلاک کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، میٹا نے بتایا کہ والدین کو یہ معلومات مل سکے گی کہ ان کے بچے اے آئی کرداروں کے ساتھ کس قسم کی باتیں کر رہے ہیں لیکن وہ مکمل چیٹس نہیں دیکھ سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تبدیلیاں اس وقت سامنے آئی ہیں جب میٹا کو اپنے پلیٹ فارمز سے بچوں کو ہونے والے نقصانات پر تنقید کا سامنا ہے اور اس کے اے آئی چیٹ بوٹس پر بھی تنقید ہو رہی ہے کیونکہ کچھ مقدمات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے باعث بچوں میں خودکشی کے رجحانات بڑھے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک حالیہ تحقیق کے مطابق امریکا اور یورپ سمیت دیگر امیر ممالک میں 70 فیصد سے زیادہ نوعمر بچے اے آئی چیٹ بوٹس استعمال کرتے ہیں اور آدھے سے زیادہ انہیں باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹا نے اعلان کیا کہ انسٹاگرام پر نوعمر اکاؤنٹس خود بخود PG-13 مواد تک محدود ہوں گے، یعنی وہ صرف وہی تصاویر اور ویڈیوز دیکھ سکیں گے جو PG-13 فلموں جیسے ہوں، جن میں جنسی مواد، منشیات یا خطرناک حرکتیں شامل نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچے والدین کی اجازت کے بغیر اپنی سیٹنگز تبدیل نہیں کر سکیں گے۔ یہ PG-13 پابندیاں اے آئی چیٹس پر بھی لاگو ہوں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ بچوں کے زیر استعمال رہنے والے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) چیٹ بوٹس تک والدین کو رسائی دینے کا اعلان کردیا۔</p>
<p>خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/meta-instagram-ai-chatbot-teens-parents-306b9c49ef69f6894044b2d82c6172fe"><strong>اے پی</strong></a>) کے مطابق فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے سال کے شروع سے بچوں کے اے آئی چیٹ بوٹس کے ساتھ رابطوں کے لیے والدین کے کنٹرول کے نئے فیچرز متعارف کرائے گی۔</p>
<p>مذکورہ نئے فیچرز میں والدین کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کے اے آئی کرداروں کے ساتھ انفرادی چیٹس کو مکمل طور پر بند کر سکیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270051"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>کمپنی کے مطاق کرداروں کی انفرادی چیٹس کو والدین کی جانب سے بند کیے جانے کے باوجود اے آئی اسسٹنٹ بند نہیں کیا جا سکے گا، یہ اسسٹنٹ بچوں کو مفید معلومات اور تعلیمی مواقع فراہم کرتا رہے گا، اور اس میں بچوں کی عمر کے مطابق حفاظتی اقدامات خود بخود شامل ہوں گے۔</p>
<p>کمپنی نے بتایا کہ والدین کے پاس یہ اختیار بھی ہوگا کہ وہ مخصوص اے آئی چیٹ بوٹس کو بلاک کر سکیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ، میٹا نے بتایا کہ والدین کو یہ معلومات مل سکے گی کہ ان کے بچے اے آئی کرداروں کے ساتھ کس قسم کی باتیں کر رہے ہیں لیکن وہ مکمل چیٹس نہیں دیکھ سکیں گے۔</p>
<p>یہ تبدیلیاں اس وقت سامنے آئی ہیں جب میٹا کو اپنے پلیٹ فارمز سے بچوں کو ہونے والے نقصانات پر تنقید کا سامنا ہے اور اس کے اے آئی چیٹ بوٹس پر بھی تنقید ہو رہی ہے کیونکہ کچھ مقدمات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے باعث بچوں میں خودکشی کے رجحانات بڑھے ہیں۔</p>
<p>ایک حالیہ تحقیق کے مطابق امریکا اور یورپ سمیت دیگر امیر ممالک میں 70 فیصد سے زیادہ نوعمر بچے اے آئی چیٹ بوٹس استعمال کرتے ہیں اور آدھے سے زیادہ انہیں باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں۔</p>
<p>میٹا نے اعلان کیا کہ انسٹاگرام پر نوعمر اکاؤنٹس خود بخود PG-13 مواد تک محدود ہوں گے، یعنی وہ صرف وہی تصاویر اور ویڈیوز دیکھ سکیں گے جو PG-13 فلموں جیسے ہوں، جن میں جنسی مواد، منشیات یا خطرناک حرکتیں شامل نہ ہوں۔</p>
<p>بچے والدین کی اجازت کے بغیر اپنی سیٹنگز تبدیل نہیں کر سکیں گے۔ یہ PG-13 پابندیاں اے آئی چیٹس پر بھی لاگو ہوں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271896</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Oct 2025 19:53:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/181818050b55f51.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/181818050b55f51.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
