<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 13:17:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 10 Jun 2026 13:17:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شمالی کوریا کے میزائل تجربات کے بعد سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272257/</link>
      <description>&lt;p&gt;شمالی کوریا کی طرف سے بدھ کی صبح میزائل تجربات کے بعد خطے میں صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان ( اے پی پی ) کے &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://urdu.app.com.pk/urdu/%D8%B4%D9%85%D8%A7%D9%84%DB%8C-%DA%A9%D9%88%D8%B1%DB%8C%D8%A7-%DA%A9%DB%92-%D9%85%DB%8C%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D9%84-%D8%AA%D8%AC%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%AA-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%B9%D8%AF-%D8%AE%D8%B7%DB%92/"&gt;مطابق&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; جرمن نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی کوریا کے نئے صدر لی جے میونگ کی طرف سے جون میں عہدہ سنبھالنے کے بعد شمالی کوریا کی طرف سے کیا جانے والا یہ پہلا میزائل تجربہ ہے اور ایسے وقت کیا گیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوبی کوریا کے دورے کی تیاریاں جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (APEC) کے سربراہی اجلاس کی تیاریاں بھی جاری ہیں، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، چینی صدر شی جن پنگ اور دیگر عالمی رہنما شرکت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر کے مطابق اس میزائل تجربے کے بعد قومی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272218/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272218"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا جاپان کی نئی وزیر اعظم سنائے تکائچی نے کہا ہے کہ کوئی میزائل جاپان کی علاقائی حدود میں داخل نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی نقصان رپورٹ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تازہ ترین صورتحال کے حوالہ سے جاپان ، جنوبی کوریا اور امریکا کی حکومتوں کے درمیان قریبی رابطہ قائم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ شمالی کوریا نے نے بدھ کی صبح دارالحکومت پیونگ یانگ کے جنوبی علاقے سے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے کئی بیلسٹک میزائل فائر کیے، جس کی تصدیق جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے کی ہے۔ یہ میزائل تقریباً 350 کلومیٹر کی دوری تک شمال مشرقی سمت میں فائر کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے میزائلوں کا فائر کیا جانا نہ صرف جنوبی کوریا کی نئی حکومت کے لیے ایک آزمائش ہے بلکہ یہ خطے میں سفارتی کوششوں اور امن کی امیدوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب ایپک اجلاس پر مرکوز ہیں، جہاں ممکنہ طور پر اس معاملے پر بات چیت کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>شمالی کوریا کی طرف سے بدھ کی صبح میزائل تجربات کے بعد خطے میں صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔</p>
<p>سرکاری خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان ( اے پی پی ) کے <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://urdu.app.com.pk/urdu/%D8%B4%D9%85%D8%A7%D9%84%DB%8C-%DA%A9%D9%88%D8%B1%DB%8C%D8%A7-%DA%A9%DB%92-%D9%85%DB%8C%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D9%84-%D8%AA%D8%AC%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%AA-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%B9%D8%AF-%D8%AE%D8%B7%DB%92/">مطابق</a></strong> جرمن نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی کوریا کے نئے صدر لی جے میونگ کی طرف سے جون میں عہدہ سنبھالنے کے بعد شمالی کوریا کی طرف سے کیا جانے والا یہ پہلا میزائل تجربہ ہے اور ایسے وقت کیا گیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوبی کوریا کے دورے کی تیاریاں جاری ہیں۔</p>
<p>اس وقت ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (APEC) کے سربراہی اجلاس کی تیاریاں بھی جاری ہیں، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، چینی صدر شی جن پنگ اور دیگر عالمی رہنما شرکت کریں گے۔</p>
<p>جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر کے مطابق اس میزائل تجربے کے بعد قومی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272218/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272218"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دریں اثنا جاپان کی نئی وزیر اعظم سنائے تکائچی نے کہا ہے کہ کوئی میزائل جاپان کی علاقائی حدود میں داخل نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی نقصان رپورٹ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تازہ ترین صورتحال کے حوالہ سے جاپان ، جنوبی کوریا اور امریکا کی حکومتوں کے درمیان قریبی رابطہ قائم ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ شمالی کوریا نے نے بدھ کی صبح دارالحکومت پیونگ یانگ کے جنوبی علاقے سے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے کئی بیلسٹک میزائل فائر کیے، جس کی تصدیق جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے کی ہے۔ یہ میزائل تقریباً 350 کلومیٹر کی دوری تک شمال مشرقی سمت میں فائر کیے گئے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے میزائلوں کا فائر کیا جانا نہ صرف جنوبی کوریا کی نئی حکومت کے لیے ایک آزمائش ہے بلکہ یہ خطے میں سفارتی کوششوں اور امن کی امیدوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب ایپک اجلاس پر مرکوز ہیں، جہاں ممکنہ طور پر اس معاملے پر بات چیت کی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272257</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Oct 2025 22:23:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/22221903a9a1e70.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/22221903a9a1e70.webp"/>
        <media:title>فوٹو: اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
