<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 21 May 2026 08:51:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 21 May 2026 08:51:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیونس: کشتی ڈوبنے سے کم از کم 40 افریقی تارکین وطن ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272266/</link>
      <description>&lt;p&gt;تیونس کے ساحل کے قریب ایک کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں سب صحارا افریقہ سے تعلق رکھنے والے کم از کم 40 تارکین وطن ہلاک ہوگئے، جبکہ 30 کو بچا لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ مہدیہ کے پراسیکیوٹر آفس کے ترجمان ولید شتابری نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشتی پر 70 افراد سوار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ولید شتابری نے مزید کہا کہ 40 لاشیں برآمد کی گئی ہیں، جن میں شیر خوار بچے بھی شامل ہیں، اور 30 افراد کو بچا لیا گیا، یہ تمام صحارا افریقہ کے ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیونس ہر سال ہزاروں افریقی تارکین وطن کے لیے یورپ سمندر کے راستے پہنچنے کا ایک اہم گزرگاہ ہے، جس کا ساحل اطالوی جزیرے لیمپیڈوسا سے تقریباً 145 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1255599'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1255599"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے آغاز سے اب تک 55 ہزار سے زائد غیر قانونی تارکین وطن اٹلی پہنچ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے کا کہنا ہے کہ ان میں سے اکثریت نے سفر کا آغاز لیبیا سے کیا، جبکہ تقریباً 4 ہزار افراد تیونس سے روانہ ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی ادارہ برائے ہجرت کے مطابق وسطی بحیرۂ روم کا راستہ خاص طور پر خطرناک سمجھا جاتا ہے، جہاں 2014 سے اب تک 32 ہزار 803 افراد ہلاک یا لاپتا ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین کی جانب سے غیر قانونی ہجرت کو روکنے کی بڑھتی ہوئی کوششوں کے باعث، بہت سے غیر قانونی تارکین وطن خود کو تیونس میں پھنسے ہوئے محسوس کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 2023 میں تیونس نے یورپی یونین کے ساتھ 29 کروڑ ڈالر کا معاہدہ کیا، جس میں سے تقریباً نصف رقم غیر قانونی ہجرت سے نمٹنے کے لیے مختص کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اٹلی کی سخت گیر دائیں بازو کی حکومت کی جانب سے حمایت یافتہ یہ معاہدہ تیونس کی صلاحیت کو مضبوط کرنے کے لیے تھا تاکہ وہ کشتیوں کو اپنے ساحل سے روانہ ہونے سے روک سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیونس کے صدر قیس سعید نے رواں سال کے اوائل میں بین الاقوامی ادارہ برائے ہجرت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کی اپنے ممالک کو رضاکارانہ واپسی کے عمل کو تیز کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>تیونس کے ساحل کے قریب ایک کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں سب صحارا افریقہ سے تعلق رکھنے والے کم از کم 40 تارکین وطن ہلاک ہوگئے، جبکہ 30 کو بچا لیا گیا۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ مہدیہ کے پراسیکیوٹر آفس کے ترجمان ولید شتابری نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشتی پر 70 افراد سوار تھے۔</p>
<p>ولید شتابری نے مزید کہا کہ 40 لاشیں برآمد کی گئی ہیں، جن میں شیر خوار بچے بھی شامل ہیں، اور 30 افراد کو بچا لیا گیا، یہ تمام صحارا افریقہ کے ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔</p>
<p>تیونس ہر سال ہزاروں افریقی تارکین وطن کے لیے یورپ سمندر کے راستے پہنچنے کا ایک اہم گزرگاہ ہے، جس کا ساحل اطالوی جزیرے لیمپیڈوسا سے تقریباً 145 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1255599'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1255599"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے آغاز سے اب تک 55 ہزار سے زائد غیر قانونی تارکین وطن اٹلی پہنچ چکے ہیں۔</p>
<p>ادارے کا کہنا ہے کہ ان میں سے اکثریت نے سفر کا آغاز لیبیا سے کیا، جبکہ تقریباً 4 ہزار افراد تیونس سے روانہ ہوئے۔</p>
<p>بین الاقوامی ادارہ برائے ہجرت کے مطابق وسطی بحیرۂ روم کا راستہ خاص طور پر خطرناک سمجھا جاتا ہے، جہاں 2014 سے اب تک 32 ہزار 803 افراد ہلاک یا لاپتا ہو چکے ہیں۔</p>
<p>یورپی یونین کی جانب سے غیر قانونی ہجرت کو روکنے کی بڑھتی ہوئی کوششوں کے باعث، بہت سے غیر قانونی تارکین وطن خود کو تیونس میں پھنسے ہوئے محسوس کرتے ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ 2023 میں تیونس نے یورپی یونین کے ساتھ 29 کروڑ ڈالر کا معاہدہ کیا، جس میں سے تقریباً نصف رقم غیر قانونی ہجرت سے نمٹنے کے لیے مختص کی گئی۔</p>
<p>اٹلی کی سخت گیر دائیں بازو کی حکومت کی جانب سے حمایت یافتہ یہ معاہدہ تیونس کی صلاحیت کو مضبوط کرنے کے لیے تھا تاکہ وہ کشتیوں کو اپنے ساحل سے روانہ ہونے سے روک سکے۔</p>
<p>تیونس کے صدر قیس سعید نے رواں سال کے اوائل میں بین الاقوامی ادارہ برائے ہجرت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کی اپنے ممالک کو رضاکارانہ واپسی کے عمل کو تیز کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272266</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Oct 2025 23:42:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/22233041b396c18.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/22233041b396c18.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو:
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
