<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 23:33:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 23:33:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عدالت کا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عمران خان سے ملاقات کروانے کا حکم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272303/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے ملاقات کروانے کا حکم دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=tBX3yAt9PhM'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/tBX3yAt9PhM?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعرات کے روز اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ وہ 24 مارچ کے حکم پر عملدرآمد کرے، جس کے تحت سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے ہفتے میں دو بار ملاقاتوں کا شیڈول بحال کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ہدایات  اسلام آباد ہائی کورٹ کے بڑے بینچ کی جانب سے دی گئی ہیں جس کی سربراہی جسٹس محمد سرفراز ڈوگر کر رہے تھے، جب کہ بینچ میں جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس محمد اعظم خان بھی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/KPChiefMinister/status/1981289731574157778?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/KPChiefMinister/status/1981289731574157778?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینچ نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے عمران خان کی جیل ملاقاتوں سے متعلق دائر کی گئی 11 درخواستوں کو مشترکہ طور پر سنا، سابق وزیرِ اعظم کے اہلِ خانہ اور پارٹی کی جانب سے بارہا الزام لگایا گیا ہے کہ جیل حکام ملاقاتوں میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماعت کے دوران، اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالت میں موجود اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ عبدالغفور انجم کو ہدایت دی کہ وہ عمران خان کی ملاقاتوں کی اجازت پہلے سے جاری حکم کے مطابق دیں، تاہم معیاری ضابطہ کار (ایس او پیز) پر عملدرآمد بھی یقینی بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے جیل حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ ملاقاتوں کو پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا کی فراہم کردہ فہرست کے مطابق ممکن بنایا جائے، اس موقع پر سلمان اکرم راجا نے  بینچ کے سامنے اپنے دلائل بھی پیش کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272162'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272162"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینچ کے سامنے پیش کی گئی درخواستوں میں خیبر پختونخوا کے نئے منتخب وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کی درخواست بھی شامل تھی، جو سماعت میں خود موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماعت کے اختتام کے فوراً بعد ان کے دفتر کی جانب سے ایکس پر بتایا گیا کہ وہ عمران خان سے ملاقات کی کوشش کے لیے اڈیالہ جیل روانہ ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے پنجاب حکومت کی جانب سے دائر کی گئی اس درخواست کی بھی سماعت کی، جس میں پاکستان پریزن رولز 1978 پر عملدرآمد کی استدعا کی گئی تھی، اس موقع پر پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل امجد پرویز نے دلائل پیش کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے ایک ایسی اپیل بھی سنی جس میں جیل ملاقاتوں کے دوران سیاسی گفتگو پر پابندی کو چیلنج کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماعت کے دوران ایک موقع پر راولپنڈی پولیس بھی عدالت میں پیش ہوئی تاکہ عمران خان کی بہن علیمہ خانم سے 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق کیس میں جاری ناقابلِ ضمانت گرفتاری وارنٹ پر دستخط کروائے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 16 اکتوبر کو وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو سربراہ پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں مل سکی تھی، جس پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے عمران خان سے ملاقات کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رجسٹرار آفس نے سہیل آفریدی کی درخواست پر اعتراضات عائد کیے تھے تاہم 20 اکتوبر کو عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو دور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے جیل میں ملاقات کی درخواست پر وفاقی سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری داخلہ پنجاب، انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 23 اکتوبر کے لیے نوٹس جاری کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ سہیل آفریدی کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے لیے عمران خان سے مشاورت ’قانونی اور اخلاقی طور پر ضروری‘ ہے، تاکہ انتظامی اور سیاسی فیصلوں، بشمول کابینہ کی تشکیل، پر پارٹی سربراہ کی رہنمائی حاصل کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد ہائی کورٹ نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے ملاقات کروانے کا حکم دے دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=tBX3yAt9PhM'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/tBX3yAt9PhM?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعرات کے روز اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ وہ 24 مارچ کے حکم پر عملدرآمد کرے، جس کے تحت سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے ہفتے میں دو بار ملاقاتوں کا شیڈول بحال کیا گیا تھا۔</p>
<p>یہ ہدایات  اسلام آباد ہائی کورٹ کے بڑے بینچ کی جانب سے دی گئی ہیں جس کی سربراہی جسٹس محمد سرفراز ڈوگر کر رہے تھے، جب کہ بینچ میں جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس محمد اعظم خان بھی شامل تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/KPChiefMinister/status/1981289731574157778?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/KPChiefMinister/status/1981289731574157778?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>بینچ نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے عمران خان کی جیل ملاقاتوں سے متعلق دائر کی گئی 11 درخواستوں کو مشترکہ طور پر سنا، سابق وزیرِ اعظم کے اہلِ خانہ اور پارٹی کی جانب سے بارہا الزام لگایا گیا ہے کہ جیل حکام ملاقاتوں میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔</p>
<p>سماعت کے دوران، اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالت میں موجود اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ عبدالغفور انجم کو ہدایت دی کہ وہ عمران خان کی ملاقاتوں کی اجازت پہلے سے جاری حکم کے مطابق دیں، تاہم معیاری ضابطہ کار (ایس او پیز) پر عملدرآمد بھی یقینی بنایا جائے۔</p>
<p>عدالت نے جیل حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ ملاقاتوں کو پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا کی فراہم کردہ فہرست کے مطابق ممکن بنایا جائے، اس موقع پر سلمان اکرم راجا نے  بینچ کے سامنے اپنے دلائل بھی پیش کیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272162'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272162"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بینچ کے سامنے پیش کی گئی درخواستوں میں خیبر پختونخوا کے نئے منتخب وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کی درخواست بھی شامل تھی، جو سماعت میں خود موجود تھے۔</p>
<p>سماعت کے اختتام کے فوراً بعد ان کے دفتر کی جانب سے ایکس پر بتایا گیا کہ وہ عمران خان سے ملاقات کی کوشش کے لیے اڈیالہ جیل روانہ ہو گئے ہیں۔</p>
<p>عدالت نے پنجاب حکومت کی جانب سے دائر کی گئی اس درخواست کی بھی سماعت کی، جس میں پاکستان پریزن رولز 1978 پر عملدرآمد کی استدعا کی گئی تھی، اس موقع پر پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل امجد پرویز نے دلائل پیش کیے۔</p>
<p>عدالت نے ایک ایسی اپیل بھی سنی جس میں جیل ملاقاتوں کے دوران سیاسی گفتگو پر پابندی کو چیلنج کیا گیا تھا۔</p>
<p>سماعت کے دوران ایک موقع پر راولپنڈی پولیس بھی عدالت میں پیش ہوئی تاکہ عمران خان کی بہن علیمہ خانم سے 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق کیس میں جاری ناقابلِ ضمانت گرفتاری وارنٹ پر دستخط کروائے جا سکیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ 16 اکتوبر کو وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو سربراہ پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں مل سکی تھی، جس پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے عمران خان سے ملاقات کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا تھا۔</p>
<p>رجسٹرار آفس نے سہیل آفریدی کی درخواست پر اعتراضات عائد کیے تھے تاہم 20 اکتوبر کو عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو دور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کیے۔</p>
<p>اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے جیل میں ملاقات کی درخواست پر وفاقی سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری داخلہ پنجاب، انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 23 اکتوبر کے لیے نوٹس جاری کیے۔</p>
<p>یاد رہے کہ سہیل آفریدی کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے لیے عمران خان سے مشاورت ’قانونی اور اخلاقی طور پر ضروری‘ ہے، تاکہ انتظامی اور سیاسی فیصلوں، بشمول کابینہ کی تشکیل، پر پارٹی سربراہ کی رہنمائی حاصل کی جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272303</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Oct 2025 16:56:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر نصیر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/231644532d8459c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/231644532d8459c.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/2315542333c8d81.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/2315542333c8d81.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
