<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 07:56:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 10 Jun 2026 07:56:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا غذائی برآمدات کے معیار کو عالمی سطح پر بہتر بنانے کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272481/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان نے اپنی غذائی مصنوعات کے معیار کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ برطانیہ اور یورپی یونین کی منڈیوں تک رسائی میں آسانی پیدا ہو سکے اور ملکی برآمدات میں اضافہ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1951279/pakistan-plans-to-standardise-food-exports"&gt;شائع&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; رپورٹ کے مطابق پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنی غذائی مصنوعات کے معیار کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق بنایا جائے تاکہ یورپی منڈیوں تک رسائی میں آسانی پیدا ہو سکے، تاہم وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کے مسائل بدستور موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ برطانیہ کے محکمہ ماحولیات، خوراک اور دیہی امور (ڈی ای ایف آر اے) کے ساتھ ایک معاہدہ کرے گی تاکہ خوراک کے معیار، حفاظت اور سرٹیفکیشن کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے، اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانا اور پاکستانی مصنوعات کو عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ حال ہی میں پی ایس کیو سی اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں کیا گیا، حکام کا کہنا ہے کہ اس قدم کا مقصد پاکستان کے کھانے کے معیار اور حفاظت کے نظام کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق بنانا ہے تاکہ برطانیہ اور یورپی یونین (ای یو) کو خوراکی مصنوعات کی برآمدات میں آسانی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تجویز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کی ہدایت پر سامنے آئی، جس نے پی ایس کیو سی اے کو ہدایت دی تھی کہ وہ یورپی منڈیوں، خصوصاً شہد کی برآمدات بڑھانے کے طریقے تلاش کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269732'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269732"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس کیو سی اے نے اپنے بورڈ کو آگاہ کیا کہ ڈی ای ایف آر اے برطانیہ میں خوراک کی صفائی، حیوانی نژاد مصنوعات اور ماحولیاتی قواعد و ضوابط کی نگرانی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی بتایا گیا کہ برطانیہ میں حلال خوراک کی منڈی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ڈی ای ایف آر اے کے ساتھ تعاون سے پاکستانی برآمد کنندگان کو غیر ٹیرف رکاوٹوں پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجویز کردہ معاہدے کے تحت پی ایس کیو سی اے کے ٹیسٹنگ اور سرٹیفکیشن کے عمل کو برطانیہ اور یورپی یونین کے معیارات کے تحت باہمی طور پر تسلیم کیا جا سکتا ہے، اس طرح پی ایس کیو سی اے برطانیہ کے ریگولیٹرز کے لیے تسلیم شدہ برآمدی سرٹیفکیٹ جاری کر سکے گی، جس سے یورپ میں تیسرے فریق سے تصدیق کے عمل کے اخراجات اور تاخیر کم ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ یادداشتِ تفاہم یورپی غذائی ضوابط، جیسے کہ ای سی 852/2004، 853/2004، 178/2002 اور ریگولیشن (ای یو) 2017/625 کے مطابق تعمیل کو شامل کرے گی اور پاکستان میں ہیزرڈ انالسس اینڈ کریٹیکل کنٹرول پوائنٹ (ایچ اے سی سی پی) کے اصولوں کو فروغ دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس کیو سی اے کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق ڈی ای ایف آر اے کی جانب سے منظوری حاصل ہونا شہد، پروسیس شدہ غذاؤں اور دیگر زرعی مصنوعات کی برآمدات میں سہولت پیدا کرنے اور بین الاقوامی منڈیوں میں ان کی ساکھ بہتر بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، 18ویں ترمیم کے بعد خوراک کی حفاظت بنیادی طور پر صوبائی معاملہ ہے، جس سے ہم آہنگی کا چیلنج پیدا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعت کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ برآمد کنندگان کو ممکنہ طور پر برآمدی مصنوعات کے لیے علیحدہ پیداواری یونٹس قائم کرنا پڑیں گے یا پھر صوبائی محکمہ خوراک کو اپنے معیارات پی ایس کیو سی اے کے مطابق ہم آہنگ کرنے ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمد کنندگان طویل عرصے سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ مقامی سطح پر خوراکی کنسائنمنٹس کی سرٹیفکیشن کی جائے، کیونکہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ٹیسٹنگ نہ ہونے کے باعث یورپی یونین اور برطانیہ میں تاخیر اور ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان نے اپنی غذائی مصنوعات کے معیار کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ برطانیہ اور یورپی یونین کی منڈیوں تک رسائی میں آسانی پیدا ہو سکے اور ملکی برآمدات میں اضافہ کیا جا سکے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1951279/pakistan-plans-to-standardise-food-exports">شائع</a></strong> رپورٹ کے مطابق پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنی غذائی مصنوعات کے معیار کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق بنایا جائے تاکہ یورپی منڈیوں تک رسائی میں آسانی پیدا ہو سکے، تاہم وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کے مسائل بدستور موجود ہیں۔</p>
<p>پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ برطانیہ کے محکمہ ماحولیات، خوراک اور دیہی امور (ڈی ای ایف آر اے) کے ساتھ ایک معاہدہ کرے گی تاکہ خوراک کے معیار، حفاظت اور سرٹیفکیشن کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے، اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانا اور پاکستانی مصنوعات کو عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے۔</p>
<p>یہ فیصلہ حال ہی میں پی ایس کیو سی اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں کیا گیا، حکام کا کہنا ہے کہ اس قدم کا مقصد پاکستان کے کھانے کے معیار اور حفاظت کے نظام کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق بنانا ہے تاکہ برطانیہ اور یورپی یونین (ای یو) کو خوراکی مصنوعات کی برآمدات میں آسانی ہو۔</p>
<p>یہ تجویز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کی ہدایت پر سامنے آئی، جس نے پی ایس کیو سی اے کو ہدایت دی تھی کہ وہ یورپی منڈیوں، خصوصاً شہد کی برآمدات بڑھانے کے طریقے تلاش کرے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269732'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269732"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پی ایس کیو سی اے نے اپنے بورڈ کو آگاہ کیا کہ ڈی ای ایف آر اے برطانیہ میں خوراک کی صفائی، حیوانی نژاد مصنوعات اور ماحولیاتی قواعد و ضوابط کی نگرانی کرتا ہے۔</p>
<p>یہ بھی بتایا گیا کہ برطانیہ میں حلال خوراک کی منڈی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ڈی ای ایف آر اے کے ساتھ تعاون سے پاکستانی برآمد کنندگان کو غیر ٹیرف رکاوٹوں پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p>تجویز کردہ معاہدے کے تحت پی ایس کیو سی اے کے ٹیسٹنگ اور سرٹیفکیشن کے عمل کو برطانیہ اور یورپی یونین کے معیارات کے تحت باہمی طور پر تسلیم کیا جا سکتا ہے، اس طرح پی ایس کیو سی اے برطانیہ کے ریگولیٹرز کے لیے تسلیم شدہ برآمدی سرٹیفکیٹ جاری کر سکے گی، جس سے یورپ میں تیسرے فریق سے تصدیق کے عمل کے اخراجات اور تاخیر کم ہوں گی۔</p>
<p>سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ یادداشتِ تفاہم یورپی غذائی ضوابط، جیسے کہ ای سی 852/2004، 853/2004، 178/2002 اور ریگولیشن (ای یو) 2017/625 کے مطابق تعمیل کو شامل کرے گی اور پاکستان میں ہیزرڈ انالسس اینڈ کریٹیکل کنٹرول پوائنٹ (ایچ اے سی سی پی) کے اصولوں کو فروغ دے گی۔</p>
<p>پی ایس کیو سی اے کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق ڈی ای ایف آر اے کی جانب سے منظوری حاصل ہونا شہد، پروسیس شدہ غذاؤں اور دیگر زرعی مصنوعات کی برآمدات میں سہولت پیدا کرنے اور بین الاقوامی منڈیوں میں ان کی ساکھ بہتر بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہوگا۔</p>
<p>تاہم، 18ویں ترمیم کے بعد خوراک کی حفاظت بنیادی طور پر صوبائی معاملہ ہے، جس سے ہم آہنگی کا چیلنج پیدا ہوتا ہے۔</p>
<p>صنعت کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ برآمد کنندگان کو ممکنہ طور پر برآمدی مصنوعات کے لیے علیحدہ پیداواری یونٹس قائم کرنا پڑیں گے یا پھر صوبائی محکمہ خوراک کو اپنے معیارات پی ایس کیو سی اے کے مطابق ہم آہنگ کرنے ہوں گے۔</p>
<p>برآمد کنندگان طویل عرصے سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ مقامی سطح پر خوراکی کنسائنمنٹس کی سرٹیفکیشن کی جائے، کیونکہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ٹیسٹنگ نہ ہونے کے باعث یورپی یونین اور برطانیہ میں تاخیر اور ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272481</guid>
      <pubDate>Sun, 26 Oct 2025 11:58:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (کلبِ علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/261152425df090c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/261152425df090c.webp"/>
        <media:title>—فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
