<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Business - Economy</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 21 Jun 2026 07:56:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 21 Jun 2026 07:56:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد ہائیکورٹ کا تیل کمپنیوں کے حصص کی بلااجازت فروخت روکنے کا حکم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272491/</link>
      <description>&lt;p&gt;پٹرولیم ڈویژن تیل و گیس کی تلاش و پیداوار کے شعبےمیں قومی سلامتی سے متعلق ضابطہ جاتی نظم و ضبط نافذ کرنے میں ناکام ہو رہا ہے کیونکہ  ایک کمپنی کے غیرقانونی شیئرز کی فروخت سامنے آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے فرنٹیئر ہولڈنگز لمیٹڈ (ایف ایچ ایل) اور سپڈ انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ (ایس ای پی ایل) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں تبدیلی اور ان کے شیئرز کسی غیر ملکی خریدار کو فروخت کرنے کے عمل پر پابندی لگا دی ہے، جبکہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پیٹرولیم کنسیشنز (ڈی جی پی سی) فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کی جانچ پڑتال میں ناکام رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے دونوں کمپنیوں کی ملکیت یا انتظامی ڈھانچے کی منتقلی سے متعلق تمام اقدامات روکنے کا حکم بھی جاری کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف ایچ ایل کمپنی ایس ای پی ایل میں بڑی حصے دار ہے، اور مبینہ طور پر اس نے ڈی جی پی سی کی پیشگی منظوری کے بغیر شیئر ہولڈنگ اور انتظامی کنٹرول میں تبدیلیاں کیں، جو کہ پٹرولیم (ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن) رولز کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی ریکارڈ کے مطابق ایس ای پی ایل نے اپنی ملکیت اور انتظامی کنٹرول تبدیل کیا، اور ایک نئے سرمایہ کار گروپ نے ایف ایچ ایل کے شیئرز اور کارپوریٹ کنٹرول سنبھال لیا، جس کے نتیجے میں ایس ای پی ایل کی ملکیت میں بالواسطہ تبدیلیاں آئیں، جو پاکستان میں تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کے منصوبے چلا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271692'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271692"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے پٹرولیم ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن رولز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ایسی کمپنی کے شیئرز، مفاد یا کنٹرول کی منتقلی کے لیے ڈی جی پی سی کی پیشگی تحریری منظوری ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایف ایچ ایل اور ایس ای پی ایل دونوں نے بعد میں ریگولیٹر کے سامنے تسلیم کیا کہ یہ تبدیلیاں بغیر اجازت کی گئیں، جسے انہوں نے شیئر ہولڈرز کی سطح پر اندرونی کارپوریٹ فیصلہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ڈی جی پی سی نے اب تک رول 69(ڈی) کے تحت کوئی کارروائی نہیں کی، حالانکہ یہ قاعدہ ایسی خلاف ورزیوں کی صورت میں لائسنس معطل یا منسوخ کرنے کا اختیار دیتا ہے، پٹرولیم رولز کے مطابق بغیر منظوری ملکیت یا کنٹرول منتقل کرنا قابل سزا خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بار بار رابطوں کے باوجود ڈی جی پی سی اور پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے اب تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پٹرولیم ڈویژن تیل و گیس کی تلاش و پیداوار کے شعبےمیں قومی سلامتی سے متعلق ضابطہ جاتی نظم و ضبط نافذ کرنے میں ناکام ہو رہا ہے کیونکہ  ایک کمپنی کے غیرقانونی شیئرز کی فروخت سامنے آئی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے فرنٹیئر ہولڈنگز لمیٹڈ (ایف ایچ ایل) اور سپڈ انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ (ایس ای پی ایل) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں تبدیلی اور ان کے شیئرز کسی غیر ملکی خریدار کو فروخت کرنے کے عمل پر پابندی لگا دی ہے، جبکہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پیٹرولیم کنسیشنز (ڈی جی پی سی) فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کی جانچ پڑتال میں ناکام رہا ہے۔</p>
<p>عدالت نے دونوں کمپنیوں کی ملکیت یا انتظامی ڈھانچے کی منتقلی سے متعلق تمام اقدامات روکنے کا حکم بھی جاری کیا ہے۔</p>
<p>ایف ایچ ایل کمپنی ایس ای پی ایل میں بڑی حصے دار ہے، اور مبینہ طور پر اس نے ڈی جی پی سی کی پیشگی منظوری کے بغیر شیئر ہولڈنگ اور انتظامی کنٹرول میں تبدیلیاں کیں، جو کہ پٹرولیم (ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن) رولز کی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>عدالتی ریکارڈ کے مطابق ایس ای پی ایل نے اپنی ملکیت اور انتظامی کنٹرول تبدیل کیا، اور ایک نئے سرمایہ کار گروپ نے ایف ایچ ایل کے شیئرز اور کارپوریٹ کنٹرول سنبھال لیا، جس کے نتیجے میں ایس ای پی ایل کی ملکیت میں بالواسطہ تبدیلیاں آئیں، جو پاکستان میں تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کے منصوبے چلا رہی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271692'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271692"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>عدالت نے پٹرولیم ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن رولز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ایسی کمپنی کے شیئرز، مفاد یا کنٹرول کی منتقلی کے لیے ڈی جی پی سی کی پیشگی تحریری منظوری ضروری ہے۔</p>
<p>تاہم ایف ایچ ایل اور ایس ای پی ایل دونوں نے بعد میں ریگولیٹر کے سامنے تسلیم کیا کہ یہ تبدیلیاں بغیر اجازت کی گئیں، جسے انہوں نے شیئر ہولڈرز کی سطح پر اندرونی کارپوریٹ فیصلہ قرار دیا۔</p>
<p>دوسری جانب ڈی جی پی سی نے اب تک رول 69(ڈی) کے تحت کوئی کارروائی نہیں کی، حالانکہ یہ قاعدہ ایسی خلاف ورزیوں کی صورت میں لائسنس معطل یا منسوخ کرنے کا اختیار دیتا ہے، پٹرولیم رولز کے مطابق بغیر منظوری ملکیت یا کنٹرول منتقل کرنا قابل سزا خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>بار بار رابطوں کے باوجود ڈی جی پی سی اور پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے اب تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272491</guid>
      <pubDate>Sun, 26 Oct 2025 15:04:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (کلبِ علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/261500234ced138.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/261500234ced138.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
