<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 17 May 2026 06:57:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 17 May 2026 06:57:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارتی ریفائنریز نے روسی تیل کی خریداری کے آرڈرز روک دیے، حکومت سے وضاحت کا انتظار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272603/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی ریفائنریز نے روسی تیل کی خریداری کے لیے کوئی نیا آرڈر نہیں دیا ہے، کیونکہ وہ حکومت اور سپلائرز سے وضاحت کی منتظر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے منگل کے روز ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کچھ ریفائنریز اپنی خام تیل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اسپاٹ مارکیٹ سے خریداری کر رہی ہیں، ان ذرائع نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، کیونکہ انہیں میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے مزید بتایا کہ سرکاری کمپنی انڈین آئل کارپوریشن (آئی او سی) نے تیل کی خریداری کے لیے ٹینڈر جاری کیا ہے، جب کہ ریلائنس انڈسٹریز نے اسپاٹ مارکیٹ سے خریداری میں اضافہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین، برطانیہ اور امریکا نے یوکرین میں روس کی جنگ کے باعث ماسکو پر متعدد نئی پابندیاں عائد کی ہیں، ان میں گزشتہ جمعرات کو عائد کی جانے والی امریکی پابندیاں بھی شامل ہیں، جو روس کے 2 بڑے تیل پیدا کنندگان لُک آئل (Lukoil) اور روسنیفٹ (Rosneft) کو نشانہ بناتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271809'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز نے جمعرات کو رپورٹ کیا تھا کہ بھارتی ریفائنریز امریکی پابندیوں پر عمل درآمد کے لیے روسی تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی کرنے کی تیاری کر رہی ہیں، جو ممکنہ طور پر امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ کو دور کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے روسی تیل کی سب سے بڑی بھارتی خریدار کمپنی ریلائنس انڈسٹریز نے کہا کہ وہ نئی پابندیوں پر عمل کرے گی، تاہم اپنے موجودہ سپلائرز کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز نے یہ بھی بتایا کہ کمپنی نے روسنیفٹ سے تیل کی درآمد بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ ہم نے تیل کی نئی کھیپوں کے لیے کوئی نیا آرڈر نہیں دیا، اور کچھ ایسے آرڈرز منسوخ کر دیے ہیں جو ان تاجروں سے بک کیے گئے تھے، جن کا تعلق پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیوں سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک تیسرے ذریعے نے کہا کہ ہمیں یقین دہانی کرنی ہے کہ ہماری خریداری کسی پابند ادارے سے منسلک نہ ہو، کیونکہ بینک ایسی ادائیگیوں میں سہولت فراہم نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور ذریعے نے کہا کہ ان کی کمپنی یہ دیکھنے کی منتظر ہے کہ آیا وہ غیر پابند تاجروں یا اداروں سے تیل حاصل کر سکتی ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے مطابق بھارت نے 2025 کے ابتدائی 9 مہینوں میں روزانہ 19 لاکھ بیرل روسی تیل خریدا تھا، جو روس کی کل برآمدات کا تقریباً 40 فیصد بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی ذرائع اور شپنگ ڈیٹا کے مطابق اپریل سے ستمبر کے درمیان بھارت کی روسی تیل کی درآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.4 فیصد کمی ہوئی ہے، جس کی وجہ کم رعایتیں اور محدود سپلائی ہے، اس کے نتیجے میں بھارتی ریفائنریز نے مشرقِ وسطیٰ اور امریکا سے زیادہ تیل خریدنے کی کوشش کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی ریفائنریز نے روسی تیل کی خریداری کے لیے کوئی نیا آرڈر نہیں دیا ہے، کیونکہ وہ حکومت اور سپلائرز سے وضاحت کی منتظر ہیں۔</p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے منگل کے روز ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کچھ ریفائنریز اپنی خام تیل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اسپاٹ مارکیٹ سے خریداری کر رہی ہیں، ان ذرائع نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، کیونکہ انہیں میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔</p>
<p>ذرائع نے مزید بتایا کہ سرکاری کمپنی انڈین آئل کارپوریشن (آئی او سی) نے تیل کی خریداری کے لیے ٹینڈر جاری کیا ہے، جب کہ ریلائنس انڈسٹریز نے اسپاٹ مارکیٹ سے خریداری میں اضافہ کیا ہے۔</p>
<p>یورپی یونین، برطانیہ اور امریکا نے یوکرین میں روس کی جنگ کے باعث ماسکو پر متعدد نئی پابندیاں عائد کی ہیں، ان میں گزشتہ جمعرات کو عائد کی جانے والی امریکی پابندیاں بھی شامل ہیں، جو روس کے 2 بڑے تیل پیدا کنندگان لُک آئل (Lukoil) اور روسنیفٹ (Rosneft) کو نشانہ بناتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271809'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رائٹرز نے جمعرات کو رپورٹ کیا تھا کہ بھارتی ریفائنریز امریکی پابندیوں پر عمل درآمد کے لیے روسی تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی کرنے کی تیاری کر رہی ہیں، جو ممکنہ طور پر امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ کو دور کر سکتی ہے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے روسی تیل کی سب سے بڑی بھارتی خریدار کمپنی ریلائنس انڈسٹریز نے کہا کہ وہ نئی پابندیوں پر عمل کرے گی، تاہم اپنے موجودہ سپلائرز کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے گی۔</p>
<p>رائٹرز نے یہ بھی بتایا کہ کمپنی نے روسنیفٹ سے تیل کی درآمد بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ ہم نے تیل کی نئی کھیپوں کے لیے کوئی نیا آرڈر نہیں دیا، اور کچھ ایسے آرڈرز منسوخ کر دیے ہیں جو ان تاجروں سے بک کیے گئے تھے، جن کا تعلق پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیوں سے ہے۔</p>
<p>ایک تیسرے ذریعے نے کہا کہ ہمیں یقین دہانی کرنی ہے کہ ہماری خریداری کسی پابند ادارے سے منسلک نہ ہو، کیونکہ بینک ایسی ادائیگیوں میں سہولت فراہم نہیں کریں گے۔</p>
<p>ایک اور ذریعے نے کہا کہ ان کی کمپنی یہ دیکھنے کی منتظر ہے کہ آیا وہ غیر پابند تاجروں یا اداروں سے تیل حاصل کر سکتی ہے یا نہیں۔</p>
<p>بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے مطابق بھارت نے 2025 کے ابتدائی 9 مہینوں میں روزانہ 19 لاکھ بیرل روسی تیل خریدا تھا، جو روس کی کل برآمدات کا تقریباً 40 فیصد بنتا ہے۔</p>
<p>تجارتی ذرائع اور شپنگ ڈیٹا کے مطابق اپریل سے ستمبر کے درمیان بھارت کی روسی تیل کی درآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.4 فیصد کمی ہوئی ہے، جس کی وجہ کم رعایتیں اور محدود سپلائی ہے، اس کے نتیجے میں بھارتی ریفائنریز نے مشرقِ وسطیٰ اور امریکا سے زیادہ تیل خریدنے کی کوشش کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272603</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Oct 2025 14:32:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/28120427ee07f64.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/28120427ee07f64.webp"/>
        <media:title>روسی تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی بھارت کے امریکا کیساتھ تجارتی معاہدے کی راہ ہموار کر سکتی ہے — فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
