<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 17 Jun 2026 20:43:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 17 Jun 2026 20:43:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اے آئی چیٹ بوٹس درست خبر اور معلومات فراہم نہیں کرتے، تحقیق</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272757/</link>
      <description>&lt;p&gt;دنیا بھر کے 22 عالمی نشریاتی اداروں کی مشترکہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آٓئی) چیٹ بوٹس درست معلومات اور خبر فراہم نہیں کرتے جب کہ وہ سوالات کے فراہم کردہ جوابات میں بھی بہت زیادہ غلطیاں کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمن نشریاتی ادارے ’ڈوئچے ویلے‘ (ڈی ڈبلیو) میں شائع &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.dw.com/en/chatbot-ai-artificial-intelligence-chatgpt-google-gemini-news-misinformation-fact-check-copilot-v2/a-74392921"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق تحقیق سے پتا چلا کہ چیٹ جی پی ٹی، جیمنائی اور کوپائلٹ جیسے اے آئی چیٹ بوٹس خبروں کو اکثر توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں اور حقائق کو رائے سے الگ نہیں کر پاتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ تحقیق 22 عوامی نشریاتی اداروں نے کی، جن میں خود ڈی ڈبلیو بھی شامل تھا، تحقیق کے دوران چار مشہور اے آئی اسسٹنٹس چیٹ جی پی ٹی، مائیکروسافٹ کے کوپائلٹ، گوگل کا جیمنائی اور پرپلیکسٹی اے آئی کا جائزہ لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ تمام مذکورہ اے آئی بوٹس مجموعی طور پر خبروں کو 45 فیصد وقت غلط یا ناقص طور پر بیان کرتے ہیں، چاہے خبروں کی زبان کوئی بھی ہو اور ان خبروں کا تعلق کسی بھی علاقے یا ملک سے کیوں نہ ہو لیکن ان میں غلطیاں ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272232/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272232"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی، این پی آر اور دیگر اداروں کے صحافیوں نے مذخورہ چاروں اے آئی اسسٹنٹس سے عام خبری سوالات پوچھے، جیسے ’یوکرین کا معدنیات کا معاہدہ کیا ہے؟ یا ’کیا ٹرمپ تیسری بار الیکشن لڑ سکتے ہیں؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ اداروں کے صحافیوں نے اے آئی چیٹ بوٹس کی جانب سے دیے گئے 3,000 جوابات کا جائزہ لیا، ان کا معیار  دیکھا، درستگی، ذرائع کا حوالہ، سیاق و سباق، حقائق اور رائے میں فرق سمیت مناسب ایڈیٹوریل انداز کو بھی دیکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتائج سے معلوم ہوا کہ اے آئی چیٹ بوٹس کے 45 فیصد جوابات میں کم از کم ایک بڑی خرابی تھی، 31 فیصد میں ذرائع کی سنگین غلطی اور 20 فیصد میں حقائق کی بڑی غلطی تھی، یعنی ان میں درست حقائق نہیں دیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ گوگل کا جیمنائی سب سے برا تھا، جس کے 72 فیصد جوابات میں ذرائع کی خرابی پائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی کی تحقیق میں کوپائلٹ اور جیمنائی برے تھے لیکن یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تمام چاروں اے آٗی چیٹ بوٹس میں مسائل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ چند سال میں اے آئی چیٹ بوٹس کے عام ہونے کے بعد دیکھا جا رہا ہے کہ لوگ خبروں کے لیے اے آئی اسسٹنٹس کا استعمال بڑھا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز انسٹی ٹیوٹ کی ڈیجیٹل نیوز رپورٹ 2025 کے مطابق 7 فیصد آن لائن نیوز صارفین اے آئی سے خبریں لیتے ہیں جب کہ 25 سال سے کم عمر افراد میں یہ شرح 15 فیصد تک ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دنیا بھر کے 22 عالمی نشریاتی اداروں کی مشترکہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آٓئی) چیٹ بوٹس درست معلومات اور خبر فراہم نہیں کرتے جب کہ وہ سوالات کے فراہم کردہ جوابات میں بھی بہت زیادہ غلطیاں کرتے ہیں۔</p>
<p>جرمن نشریاتی ادارے ’ڈوئچے ویلے‘ (ڈی ڈبلیو) میں شائع <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.dw.com/en/chatbot-ai-artificial-intelligence-chatgpt-google-gemini-news-misinformation-fact-check-copilot-v2/a-74392921"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق تحقیق سے پتا چلا کہ چیٹ جی پی ٹی، جیمنائی اور کوپائلٹ جیسے اے آئی چیٹ بوٹس خبروں کو اکثر توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں اور حقائق کو رائے سے الگ نہیں کر پاتے۔</p>
<p>مذکورہ تحقیق 22 عوامی نشریاتی اداروں نے کی، جن میں خود ڈی ڈبلیو بھی شامل تھا، تحقیق کے دوران چار مشہور اے آئی اسسٹنٹس چیٹ جی پی ٹی، مائیکروسافٹ کے کوپائلٹ، گوگل کا جیمنائی اور پرپلیکسٹی اے آئی کا جائزہ لیا گیا۔</p>
<p>تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ تمام مذکورہ اے آئی بوٹس مجموعی طور پر خبروں کو 45 فیصد وقت غلط یا ناقص طور پر بیان کرتے ہیں، چاہے خبروں کی زبان کوئی بھی ہو اور ان خبروں کا تعلق کسی بھی علاقے یا ملک سے کیوں نہ ہو لیکن ان میں غلطیاں ہوتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272232/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272232"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی، این پی آر اور دیگر اداروں کے صحافیوں نے مذخورہ چاروں اے آئی اسسٹنٹس سے عام خبری سوالات پوچھے، جیسے ’یوکرین کا معدنیات کا معاہدہ کیا ہے؟ یا ’کیا ٹرمپ تیسری بار الیکشن لڑ سکتے ہیں؟‘</p>
<p>مذکورہ اداروں کے صحافیوں نے اے آئی چیٹ بوٹس کی جانب سے دیے گئے 3,000 جوابات کا جائزہ لیا، ان کا معیار  دیکھا، درستگی، ذرائع کا حوالہ، سیاق و سباق، حقائق اور رائے میں فرق سمیت مناسب ایڈیٹوریل انداز کو بھی دیکھا۔</p>
<p>نتائج سے معلوم ہوا کہ اے آئی چیٹ بوٹس کے 45 فیصد جوابات میں کم از کم ایک بڑی خرابی تھی، 31 فیصد میں ذرائع کی سنگین غلطی اور 20 فیصد میں حقائق کی بڑی غلطی تھی، یعنی ان میں درست حقائق نہیں دیے گئے تھے۔</p>
<p>تحقیق یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ گوگل کا جیمنائی سب سے برا تھا، جس کے 72 فیصد جوابات میں ذرائع کی خرابی پائی گئی۔</p>
<p>بی بی سی کی تحقیق میں کوپائلٹ اور جیمنائی برے تھے لیکن یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تمام چاروں اے آٗی چیٹ بوٹس میں مسائل تھے۔</p>
<p>گزشتہ چند سال میں اے آئی چیٹ بوٹس کے عام ہونے کے بعد دیکھا جا رہا ہے کہ لوگ خبروں کے لیے اے آئی اسسٹنٹس کا استعمال بڑھا رہے ہیں۔</p>
<p>رائٹرز انسٹی ٹیوٹ کی ڈیجیٹل نیوز رپورٹ 2025 کے مطابق 7 فیصد آن لائن نیوز صارفین اے آئی سے خبریں لیتے ہیں جب کہ 25 سال سے کم عمر افراد میں یہ شرح 15 فیصد تک ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272757</guid>
      <pubDate>Wed, 29 Oct 2025 23:51:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/292220461eaa2c8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/292220461eaa2c8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
