<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 18:52:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 18:52:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجاب حکومت نے پنشن ختم کرنے کیلئے مستقل ملازمت کا قانون منسوخ کردیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273155/</link>
      <description>&lt;p&gt;نئے آرڈیننس کے تحت پنجاب حکومت اب ملازمین کو بنیادی تنخواہ کے اسکیل کے بجائے یکمشت تنخواہ کے پیکیج پر بھرتی کرے گی، جس کا مطلب ہے کہ ایسے ملازمین پنشن کے حقدار نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1953029/punjab-abolishes-regularisation-law-to-do-away-with-pension"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق پنجاب ریگولرائزیشن آف سروس (ری پیل) آرڈیننس 2025، 31 اکتوبر سے نافذ کیا گیا ہے تاکہ پنجاب ریگولرائزیشن آف سروس ایکٹ 2018 کو منسوخ کیا جا سکے اور یہ آرڈیننس پیر کے روز پنجاب اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس آرڈیننس کے پیچھے وجہ یہ بتائی گئی کہ صوبائی حکومت بنیادی تنخواہ کے اسکیل سے یکمشت تنخواہ کے نظام کی طرف جانا چاہتی ہے تاکہ پنشن کی صورت میں سرکاری خزانے پر پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1249876'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249876"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2018 کے قانون کے خاتمے کے ساتھ ہی، نیا آرڈیننس فوری طور پر کنٹریکٹ ملازمین کی چار سالہ ملازمت کے بعد مستقل ہونے کے عمل کو روک دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم آرڈیننس نے منسوخ شدہ قانون کے تحت کیے گئے تمام فیصلوں اور اقدامات کو تحفظ فراہم کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ منسوخ شدہ قانون کے تحت کیا گیا کوئی بھی عمل یا اقدام ایسے ہی مؤثر رہے گا جیسے کہ وہ قانون منسوخ نہ ہوا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="نیا-آرڈیننس" href="#نیا-آرڈیننس" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;نیا آرڈیننس&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;پنجاب ریگولرائزیشن آف سروس ایکٹ 2018 کے تحت وہ تمام افراد جو اس قانون کے نفاذ سے قبل کنٹریکٹ پر کام کر رہے تھے، ان کی تعیناتی کو قانونی تصور کیا گیا تھا اور اس پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منسوخ شدہ قانون کے مطابق کوئی بھی کنٹریکٹ ملازم جو 4 سال تک مسلسل خدمات انجام دے رہا ہو، اسے مستقل تقرری کے لیے اہل سمجھا جاتا تھا، بشرطیکہ اس کے لیے باقاعدہ اسامی موجود ہو، ملازم متعلقہ قابلیت رکھتا ہو اور اس کی کارکردگی تسلی بخش ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منسوخ شدہ قانون میں کنٹریکٹ ملازمین کی مستقل تعیناتی کے طریقہ کار کی بھی وضاحت کی گئی تھی، اس کے مطابق کنٹریکٹ ملازم کو ایک مخصوص کمیشن کی سفارش پر تعینات کرنے والی اتھارٹی کے سامنے پیش کیا جانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون میں بھرتی، معاہدے کی منسوخی، سنیارٹی کا تعین، تنخواہ کا تعین، ریگولرائزیشن کے اختیارات، قانونی فریم ورک، اپیل یا نظرثانی، قواعد، مشکلات کے ازالے اور تحفظات کے حوالے سے مکمل ضوابط درج تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے مجوزہ قانون کے تحت، جسے پنجاب اسمبلی سے منظور کیا جانا ہے، محکمانہ بھرتیاں اب بنیادی تنخواہ کے اسکیل کے بجائے یکمشت تنخواہ پیکیج پر ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے کے مطابق کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے ملازمین پوری سروس کنٹریکٹ پر ہی رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1261292'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1261292"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری حکام کے مطابق کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے ملازمین پنشن کے اہل نہیں ہوں گے، کیونکہ یہ اقدام صوبائی خزانے پر پنشن کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرڈیننس کے نفاذ کے بعد، پہلے سے کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین کے مستقبل کے حوالے سے کچھ ابہام بھی پیدا ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ حکام کا کہنا ہے کہ نیا آرڈیننس ان پر اثر انداز نہیں ہوتا، جب کہ دیگر کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام موجودہ ملازمین کی مستقل ہونے کی اہلیت پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکریٹری قانون آصف بلال لودھی سے متعدد بار رابطے کی کوشش کے باوجود کوئی جواب نہیں ملا، جب کہ سیکریٹری ریگولیشنز میاں ابرار احمد نے تصدیق کی کہ قانون منسوخ کر دیا گیا ہے، تاہم انہوں نے نئے آرڈیننس کے اثرات کے بارے میں تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سینئر سول سرونٹ نے کہا کہ حکومت کو یا تو مستقل ملازمت کے مواقع فراہم کرنے چاہئیں یا مارکیٹ کے مطابق مسابقتی تنخواہیں دینی چاہئیں، کیونکہ اس طرح کے اقدامات سے انسانی وسائل کے معیار میں بہتری آئے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نئے آرڈیننس کے تحت پنجاب حکومت اب ملازمین کو بنیادی تنخواہ کے اسکیل کے بجائے یکمشت تنخواہ کے پیکیج پر بھرتی کرے گی، جس کا مطلب ہے کہ ایسے ملازمین پنشن کے حقدار نہیں ہوں گے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1953029/punjab-abolishes-regularisation-law-to-do-away-with-pension"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق پنجاب ریگولرائزیشن آف سروس (ری پیل) آرڈیننس 2025، 31 اکتوبر سے نافذ کیا گیا ہے تاکہ پنجاب ریگولرائزیشن آف سروس ایکٹ 2018 کو منسوخ کیا جا سکے اور یہ آرڈیننس پیر کے روز پنجاب اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>اس آرڈیننس کے پیچھے وجہ یہ بتائی گئی کہ صوبائی حکومت بنیادی تنخواہ کے اسکیل سے یکمشت تنخواہ کے نظام کی طرف جانا چاہتی ہے تاکہ پنشن کی صورت میں سرکاری خزانے پر پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1249876'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249876"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>2018 کے قانون کے خاتمے کے ساتھ ہی، نیا آرڈیننس فوری طور پر کنٹریکٹ ملازمین کی چار سالہ ملازمت کے بعد مستقل ہونے کے عمل کو روک دیتا ہے۔</p>
<p>تاہم آرڈیننس نے منسوخ شدہ قانون کے تحت کیے گئے تمام فیصلوں اور اقدامات کو تحفظ فراہم کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ منسوخ شدہ قانون کے تحت کیا گیا کوئی بھی عمل یا اقدام ایسے ہی مؤثر رہے گا جیسے کہ وہ قانون منسوخ نہ ہوا ہو۔</p>
<h1><a id="نیا-آرڈیننس" href="#نیا-آرڈیننس" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>نیا آرڈیننس</h1>
<p>پنجاب ریگولرائزیشن آف سروس ایکٹ 2018 کے تحت وہ تمام افراد جو اس قانون کے نفاذ سے قبل کنٹریکٹ پر کام کر رہے تھے، ان کی تعیناتی کو قانونی تصور کیا گیا تھا اور اس پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا تھا۔</p>
<p>منسوخ شدہ قانون کے مطابق کوئی بھی کنٹریکٹ ملازم جو 4 سال تک مسلسل خدمات انجام دے رہا ہو، اسے مستقل تقرری کے لیے اہل سمجھا جاتا تھا، بشرطیکہ اس کے لیے باقاعدہ اسامی موجود ہو، ملازم متعلقہ قابلیت رکھتا ہو اور اس کی کارکردگی تسلی بخش ہو۔</p>
<p>اس منسوخ شدہ قانون میں کنٹریکٹ ملازمین کی مستقل تعیناتی کے طریقہ کار کی بھی وضاحت کی گئی تھی، اس کے مطابق کنٹریکٹ ملازم کو ایک مخصوص کمیشن کی سفارش پر تعینات کرنے والی اتھارٹی کے سامنے پیش کیا جانا تھا۔</p>
<p>قانون میں بھرتی، معاہدے کی منسوخی، سنیارٹی کا تعین، تنخواہ کا تعین، ریگولرائزیشن کے اختیارات، قانونی فریم ورک، اپیل یا نظرثانی، قواعد، مشکلات کے ازالے اور تحفظات کے حوالے سے مکمل ضوابط درج تھے۔</p>
<p>نئے مجوزہ قانون کے تحت، جسے پنجاب اسمبلی سے منظور کیا جانا ہے، محکمانہ بھرتیاں اب بنیادی تنخواہ کے اسکیل کے بجائے یکمشت تنخواہ پیکیج پر ہوں گی۔</p>
<p>فیصلے کے مطابق کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے ملازمین پوری سروس کنٹریکٹ پر ہی رہیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1261292'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1261292"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سرکاری حکام کے مطابق کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے ملازمین پنشن کے اہل نہیں ہوں گے، کیونکہ یہ اقدام صوبائی خزانے پر پنشن کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔</p>
<p>آرڈیننس کے نفاذ کے بعد، پہلے سے کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین کے مستقبل کے حوالے سے کچھ ابہام بھی پیدا ہو گیا ہے۔</p>
<p>کچھ حکام کا کہنا ہے کہ نیا آرڈیننس ان پر اثر انداز نہیں ہوتا، جب کہ دیگر کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام موجودہ ملازمین کی مستقل ہونے کی اہلیت پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔</p>
<p>سیکریٹری قانون آصف بلال لودھی سے متعدد بار رابطے کی کوشش کے باوجود کوئی جواب نہیں ملا، جب کہ سیکریٹری ریگولیشنز میاں ابرار احمد نے تصدیق کی کہ قانون منسوخ کر دیا گیا ہے، تاہم انہوں نے نئے آرڈیننس کے اثرات کے بارے میں تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔</p>
<p>ایک سینئر سول سرونٹ نے کہا کہ حکومت کو یا تو مستقل ملازمت کے مواقع فراہم کرنے چاہئیں یا مارکیٹ کے مطابق مسابقتی تنخواہیں دینی چاہئیں، کیونکہ اس طرح کے اقدامات سے انسانی وسائل کے معیار میں بہتری آئے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273155</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Nov 2025 10:14:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (منصور ملک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/0409155623be637.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/0409155623be637.webp"/>
        <media:title>نیا آرڈیننس پیر کو پنجاب اسمبلی میں پیش کیا گیا، سرکاری خزانے پر مالی بوجھ کم کرنے میں مدد ملے گی — فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
