<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Karachi</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 19:23:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 19:23:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی عرب سے کراچی پہنچنے والا 14 سالہ لڑکا منکی پاکس کی علامات پر ہسپتال منتقل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273283/</link>
      <description>&lt;p&gt;سودی عرب سے کراچی پہنچنے والے 14 سالہ لڑکے میں منکی پاکس کی علامات پائی گئیں ہیں نوجوان کو سندھ انفکیشس ڈیزیزز ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میر پورخاص سے تعلق رکھنے والا نوجوان سعودی عرب سے کراچی پہنچا تھا، جسے تیز بخار اور منکی پاکس کی مشتبہ علامات کے باعث سندھ انفیکشس ڈیزیزز ہسپتال نیپا منتقل کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ رواں سال منکی پاکس کا پہلا کیس جنوری میں پشاور میں سامنے آیا تھا، دبئی سے پشاور پہنچنے والے 35 سالہ شخص میں منکی پاکس کی تصدیق ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں 15 اگست کو دبئی سے اسلام آباد پہنچنے والے اٹک کے رہائشی 42 سالہ شخص میں بھی منکی پاکس کی علامات کی تصدیق ہوئی تھی، جس پر اسے پمز ہسپتال منتقل کردیا گیاتھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1251512'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1251512"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق قومی ادارہ صحت نے 18 اگست کو مریض میں منکی پاکس کی تصدیق کی تھی، بعدازاں متاثرہ شخص کو  گھر پر آئسولیشن میں رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے گزشتہ سال نومبر میں منکی پاکس یا ایم پاکس سے بچاؤ کے لیے دوسری ویکسین کے ہنگامی استعمال کی منظوری دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ایچ او کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صحت کے عالمی ادارے نے جاپان میں تیار کی جانے والی اور وہیں استعمال کی جانے والی ویکسین (LC16m8) کے استعمال کی منظوری دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ ویکسین ایک سال سے زائد العمر افراد کو لگائی جا سکتی ہے اور اس کا ایک ہی ڈوز تجویز کیا گیا ہے، تاہم ڈاکٹرز کی تجویز پر کچھ عرصے بعد دوسرا ڈوز بھی لگوایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کا دعویٰ تھا کہ مذکورہ ویکسین نہ صرف عام افراد بلکہ ایچ آئی وی سمیت دیگر مدافعتی کمزوری کی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے بھی فائدہ مند اور محفوظ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="منکی-پاکس-کیا-ہے" href="#منکی-پاکس-کیا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;منکی پاکس کیا ہے؟&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;منکی پاکس ابتدائی طور پر بندروں میں پائی جانی والی بیماری تھی جو 1970 کے بعد افریقہ کے مغربی حصے میں پھیلی اور کئی دہائیوں تک وہیں پھیلتی رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ماضی میں منکی پاکس کے کچھ کیسز یورپ اور امریکا جیسے خطوں میں سامنے آئے، تاہم اس کے زیادہ تر کیسز افریقہ میں ہی پائے جاتے تھے لیکن اب پہلی بار اس بیماری کے کیسز افریقہ کے بجائے دیگر خطوں میں رپورٹ ہونے پر لوگوں میں تشویش پھیل گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منکی پاکس کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیماری قریبی تعلقات سے پھیلتی ہے، یہ کورونا کی طرح تیزی سے پھیلنے والی وبا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منکی پاکس انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہیں، جس وجہ سے ماہرین سماجی دوری کو یقینی بنانے کی ہدایات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا ماننا ہے کہ عام طور پر منکی پاکس غیر محفوظ جنسی تعلقات سے پھیلتا ہے اور عام طور پر اس بیماری کا شکار وہ لوگ بنتے ہیں، جو ہم جنس پرستی کی جانب راغب ہوں، تاہم تمام کیسز میں ایسا نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منکی پاکس ایک نایاب وائرل زونوٹک بیماری ہے جو منکی پاکس وائرس کے انفیکشن کی وجہ سے ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1267080'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1267080"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ منکی پاکس کے قدرتی ماخذ کا معلوم نہیں لیکن افریقی چوہے اور بندر جیسے غیر انسانی پریمیٹ وائرس کو رکھ سکتے اور لوگوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وائرس پھٹی ہوئی جلد، سانس کی نالی یا آنکھوں، ناک یا منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بخار کے ظاہر ہونے کے بعد ایک سے تین روز کے اندر مریض کے جسم پر خارش پیدا ہو جاتی ہے، جو اکثر چہرے سے شروع ہوتی ہے اور پھر جسم کے دوسرے حصوں میں پھیل جاتی ہے۔ بیماری کی دیگر علامات میں سر درد، پٹھوں میں درد، تھکن اور لیمفاڈینوپیتھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائرس کے ظاہر ہونے کی مدت عام طور پر 7 سے 14 روز ہوتی ہے لیکن یہ 5 سے 21 روز تک بھی ہو سکتی ہے اور بیماری عام طور پر دو سے چار ہفتوں تک رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سودی عرب سے کراچی پہنچنے والے 14 سالہ لڑکے میں منکی پاکس کی علامات پائی گئیں ہیں نوجوان کو سندھ انفکیشس ڈیزیزز ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔</p>
<p>میر پورخاص سے تعلق رکھنے والا نوجوان سعودی عرب سے کراچی پہنچا تھا، جسے تیز بخار اور منکی پاکس کی مشتبہ علامات کے باعث سندھ انفیکشس ڈیزیزز ہسپتال نیپا منتقل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ رواں سال منکی پاکس کا پہلا کیس جنوری میں پشاور میں سامنے آیا تھا، دبئی سے پشاور پہنچنے والے 35 سالہ شخص میں منکی پاکس کی تصدیق ہوئی تھی۔</p>
<p>بعدازاں 15 اگست کو دبئی سے اسلام آباد پہنچنے والے اٹک کے رہائشی 42 سالہ شخص میں بھی منکی پاکس کی علامات کی تصدیق ہوئی تھی، جس پر اسے پمز ہسپتال منتقل کردیا گیاتھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1251512'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1251512"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ذرائع کے مطابق قومی ادارہ صحت نے 18 اگست کو مریض میں منکی پاکس کی تصدیق کی تھی، بعدازاں متاثرہ شخص کو  گھر پر آئسولیشن میں رکھا گیا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے گزشتہ سال نومبر میں منکی پاکس یا ایم پاکس سے بچاؤ کے لیے دوسری ویکسین کے ہنگامی استعمال کی منظوری دی تھی۔</p>
<p>ڈبلیو ایچ او کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صحت کے عالمی ادارے نے جاپان میں تیار کی جانے والی اور وہیں استعمال کی جانے والی ویکسین (LC16m8) کے استعمال کی منظوری دی تھی۔</p>
<p>مذکورہ ویکسین ایک سال سے زائد العمر افراد کو لگائی جا سکتی ہے اور اس کا ایک ہی ڈوز تجویز کیا گیا ہے، تاہم ڈاکٹرز کی تجویز پر کچھ عرصے بعد دوسرا ڈوز بھی لگوایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>کمپنی کا دعویٰ تھا کہ مذکورہ ویکسین نہ صرف عام افراد بلکہ ایچ آئی وی سمیت دیگر مدافعتی کمزوری کی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے بھی فائدہ مند اور محفوظ ہے۔</p>
<h1><a id="منکی-پاکس-کیا-ہے" href="#منکی-پاکس-کیا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>منکی پاکس کیا ہے؟</h1>
<p>منکی پاکس ابتدائی طور پر بندروں میں پائی جانی والی بیماری تھی جو 1970 کے بعد افریقہ کے مغربی حصے میں پھیلی اور کئی دہائیوں تک وہیں پھیلتی رہی۔</p>
<p>اگرچہ ماضی میں منکی پاکس کے کچھ کیسز یورپ اور امریکا جیسے خطوں میں سامنے آئے، تاہم اس کے زیادہ تر کیسز افریقہ میں ہی پائے جاتے تھے لیکن اب پہلی بار اس بیماری کے کیسز افریقہ کے بجائے دیگر خطوں میں رپورٹ ہونے پر لوگوں میں تشویش پھیل گئی ہے۔</p>
<p>منکی پاکس کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیماری قریبی تعلقات سے پھیلتی ہے، یہ کورونا کی طرح تیزی سے پھیلنے والی وبا نہیں۔</p>
<p>منکی پاکس انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہیں، جس وجہ سے ماہرین سماجی دوری کو یقینی بنانے کی ہدایات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کا ماننا ہے کہ عام طور پر منکی پاکس غیر محفوظ جنسی تعلقات سے پھیلتا ہے اور عام طور پر اس بیماری کا شکار وہ لوگ بنتے ہیں، جو ہم جنس پرستی کی جانب راغب ہوں، تاہم تمام کیسز میں ایسا نہیں ہوتا۔</p>
<p>منکی پاکس ایک نایاب وائرل زونوٹک بیماری ہے جو منکی پاکس وائرس کے انفیکشن کی وجہ سے ہوتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1267080'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1267080"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اگرچہ منکی پاکس کے قدرتی ماخذ کا معلوم نہیں لیکن افریقی چوہے اور بندر جیسے غیر انسانی پریمیٹ وائرس کو رکھ سکتے اور لوگوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔</p>
<p>یہ وائرس پھٹی ہوئی جلد، سانس کی نالی یا آنکھوں، ناک یا منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے۔</p>
<p>بخار کے ظاہر ہونے کے بعد ایک سے تین روز کے اندر مریض کے جسم پر خارش پیدا ہو جاتی ہے، جو اکثر چہرے سے شروع ہوتی ہے اور پھر جسم کے دوسرے حصوں میں پھیل جاتی ہے۔ بیماری کی دیگر علامات میں سر درد، پٹھوں میں درد، تھکن اور لیمفاڈینوپیتھی شامل ہیں۔</p>
<p>وائرس کے ظاہر ہونے کی مدت عام طور پر 7 سے 14 روز ہوتی ہے لیکن یہ 5 سے 21 روز تک بھی ہو سکتی ہے اور بیماری عام طور پر دو سے چار ہفتوں تک رہتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273283</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Nov 2025 15:30:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انعم مشکورویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/0515302315ffb1d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/0515302315ffb1d.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
