<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - News</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 17 Jun 2026 20:36:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 17 Jun 2026 20:36:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یوٹیوب سے اسرائیلی جنگی جرائم کی ویڈیوز ڈیلیٹ کیے جانے کا انکشاف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273362/</link>
      <description>&lt;p&gt;ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم یوٹیوب کی جانب سے فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیموں کی تیار کردہ درجنوں اہم دستاویزی ویڈیوز خفیہ طور پر حذف کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق یوٹیوب کی جانب سے جن دستاویزی فلموں کو ہٹایا گیا ان میں غزہ میں اسرائیلی افواج کے جنگی جرائم کے شواہد موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے ’دی انٹرسیپٹ‘ کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://theintercept.com/2025/11/04/youtube-google-israel-palestine-human-rights-censorship/?utm_content=buffer77a9d&amp;amp;utm_medium=buffer&amp;amp;utm_source=twitter&amp;amp;utm_campaign=theintercept"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; یوٹیوب نے حالیہ ہفتوں میں فلسطینی تنظیموں الحق (Al-Haq)، ال میزان سینٹر فار ہیومن رائٹس (Al Mezan Centre for Human Rights) اور فلسطینی سینٹر فار ہیومن رائٹس (PCHR) کے آفیشل چینلز کو بغیر کسی پیشگی اطلاع کے بند کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ چینلز پر 700 سے زائد ویڈیوز موجود تھیں، جن میں غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں، انسانی حقوق کی پامالیوں اور شہریوں کے قتل عام سے متعلق دستاویزی ثبوت شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1233740'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1233740"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق یوٹیوب کی جانب سے یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب بین الاقوامی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیر دفاع کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات کی ابتدائی تحقیقات کا آغاز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی حقوق کی تنظیموں نے یوٹیوب کے قدم کو ’خطرناک‘ اور ’جانبدارانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی ویڈیوز کو ہٹانا ان متاثرہ فلسطینیوں کی آواز دبانے کے مترادف ہے جن کے خاندان اسرائیلی بمباری میں تباہ ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی حقوق کی تنظیم الحق کے ایک نمائندے نے بتایا کہ ہٹائی گئی ویڈیوز صرف شواہد نہیں تھیں بلکہ انصاف کے حصول کا ایک ذریعہ تھیں، انہیں ہٹانے کا مطلب جنگی جرائم کے ثبوتوں کوعالمی سطح پر مٹانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ان چینلز کو ’قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی تجارتی پابندیوں‘ کے تحت بند کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں سابق امریکی انتظامیہ کی پالیسیوں کا تسلسل ہیں جو بین الاقوامی عدالت کے ان اہلکاروں پر عائد کی گئی تھیں جنہوں نے اسرائیلی کارروائیوں کی تحقیقات کی کوشش کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی حقوق کے کارکنوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ یوٹیوب کے اس اقدام نے ’ڈیجیٹل ریکارڈز‘ کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے، جو آئندہ بین الاقوامی تحقیقات کے لیے ضروری شواہد فراہم کر سکتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب کی جانب سے ویڈیوز ہٹائے جانے کے بعد انسانی حقوق کے کئی گروہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان ویڈیوز کو فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ جنگی جرائم کی آزادانہ تحقیقات ممکن ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم یوٹیوب کی جانب سے فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیموں کی تیار کردہ درجنوں اہم دستاویزی ویڈیوز خفیہ طور پر حذف کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق یوٹیوب کی جانب سے جن دستاویزی فلموں کو ہٹایا گیا ان میں غزہ میں اسرائیلی افواج کے جنگی جرائم کے شواہد موجود تھے۔</p>
<p>امریکی نشریاتی ادارے ’دی انٹرسیپٹ‘ کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://theintercept.com/2025/11/04/youtube-google-israel-palestine-human-rights-censorship/?utm_content=buffer77a9d&amp;utm_medium=buffer&amp;utm_source=twitter&amp;utm_campaign=theintercept"><strong>مطابق</strong></a> یوٹیوب نے حالیہ ہفتوں میں فلسطینی تنظیموں الحق (Al-Haq)، ال میزان سینٹر فار ہیومن رائٹس (Al Mezan Centre for Human Rights) اور فلسطینی سینٹر فار ہیومن رائٹس (PCHR) کے آفیشل چینلز کو بغیر کسی پیشگی اطلاع کے بند کر دیا۔</p>
<p>مذکورہ چینلز پر 700 سے زائد ویڈیوز موجود تھیں، جن میں غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں، انسانی حقوق کی پامالیوں اور شہریوں کے قتل عام سے متعلق دستاویزی ثبوت شامل تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1233740'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1233740"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹ کے مطابق یوٹیوب کی جانب سے یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب بین الاقوامی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیر دفاع کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات کی ابتدائی تحقیقات کا آغاز کیا۔</p>
<p>انسانی حقوق کی تنظیموں نے یوٹیوب کے قدم کو ’خطرناک‘ اور ’جانبدارانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی ویڈیوز کو ہٹانا ان متاثرہ فلسطینیوں کی آواز دبانے کے مترادف ہے جن کے خاندان اسرائیلی بمباری میں تباہ ہوئے۔</p>
<p>انسانی حقوق کی تنظیم الحق کے ایک نمائندے نے بتایا کہ ہٹائی گئی ویڈیوز صرف شواہد نہیں تھیں بلکہ انصاف کے حصول کا ایک ذریعہ تھیں، انہیں ہٹانے کا مطلب جنگی جرائم کے ثبوتوں کوعالمی سطح پر مٹانا ہے۔</p>
<p>یوٹیوب کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ان چینلز کو ’قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی تجارتی پابندیوں‘ کے تحت بند کیا گیا۔</p>
<p>تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں سابق امریکی انتظامیہ کی پالیسیوں کا تسلسل ہیں جو بین الاقوامی عدالت کے ان اہلکاروں پر عائد کی گئی تھیں جنہوں نے اسرائیلی کارروائیوں کی تحقیقات کی کوشش کی تھی۔</p>
<p>انسانی حقوق کے کارکنوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ یوٹیوب کے اس اقدام نے ’ڈیجیٹل ریکارڈز‘ کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے، جو آئندہ بین الاقوامی تحقیقات کے لیے ضروری شواہد فراہم کر سکتے تھے۔</p>
<p>یوٹیوب کی جانب سے ویڈیوز ہٹائے جانے کے بعد انسانی حقوق کے کئی گروہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان ویڈیوز کو فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ جنگی جرائم کی آزادانہ تحقیقات ممکن ہو سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273362</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Nov 2025 23:47:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/06201245af1bed9.webp" type="image/webp" medium="image" height="174" width="290">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/06201245af1bed9.webp"/>
        <media:title>—— اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
