<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 17:13:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 17:13:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چمن بارڈر پر افغانستان سائیڈ سے بلااشتعال فائرنگ، سیکیورٹی فورسز کا مؤثر اور ذمہ دارانہ جواب</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273369/</link>
      <description>&lt;p&gt;افغانستان نے سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چمن بارڈر سے بلااشتعال فائرنگ کی، جس کا سیکیورٹی فورسز نے مؤثر اور ذمہ دارانہ جواب دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب اسلام آباد اور کابل کے درمیان استنبول میں مذاکرات جاری ہیں تاکہ گزشتہ ماہ پانچ روزہ سرحدی جھڑپوں کے بعد نافذ کی گئی جنگ بندی میں توسیع کی جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وزارتِ اطلاعات و نشریات نے کابل کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت اطلاعات کا کہنا تھا کہ آج چمن میں پاک۔افغان سرحد پر پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے افغان جانب کی جانب سے پھیلائے گئے دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید بتایا کہ  فائرنگ افغان سائیڈ سے شروع کی گئی، جس کا ہماری سیکیورٹی فورسز نے فوری، ذمہ دارانہ اور مؤثر انداز میں جواب دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MoIB_Official/status/1986469909438796083'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MoIB_Official/status/1986469909438796083"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستانی فورسز کی ذمہ دارانہ کارروائی کے باعث صورتِ حال پر قابو پا لیا گیا اور جنگ بندی برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید بتایا کہ  پاکستان جاری مذاکرات کے لیے پرعزم ہے اور افغان حکام سے اسی جذبے کے تحت جواب کی توقع رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان تیسرے دور کے حتمی مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفارتی ذرائع نے بتایا تھا کہ مذاکرات کا آغاز استنبول کے مقامی ہوٹل میں ہوا، دونوں ملکوں کے وفود مذاکرات کے لیے مقامی ہوٹل پہنچے، پاکستانی وفد مشیر قومی سلامتی اور ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کی سربراہی میں ہوٹل پہنچا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273349/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273349"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا تھا کہ افغان وفد ملا عبدالحق واثق کی سربراہی میں مقامی ہوٹل پہنچا، مذاکرات ثالثوں کی موجودگی میں ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی وفد سینئر فوجی، انٹیلی جنس، اور بیوروکریسی کے نمائندوں پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک ثالث ملک کے سفارت کار نے ’ڈان‘ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ دونوں فریق گزشتہ دور میں طے پانے والے وعدوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیں گے اور گزشتہ ہفتے اصولی طور پر طے پانے والے نگرانی اور تصدیق کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کی کوشش کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ دور کے اختتام پر ترکیہ کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ’تمام فریقین نے جنگ بندی کے تسلسل‘ اور ’امن کے قیام کو یقینی بنانے اور خلاف ورزی کرنے والے فریق پر جرمانہ عائد کرنے کے لیے ایک نگرانی اور تصدیقی نظام کے قیام‘ پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں مزید کہا گیا تھا کہ ’دونوں جانب کے اعلیٰ نمائندے‘ 6 نومبر کو استنبول میں دوبارہ ملاقات کریں گے تاکہ عملدرآمد پر بات چیت کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ گزشتہ دور میں ایک عبوری معاہدہ طے پایا تھا، تاہم دونوں ممالک کے حکام نے آئندہ مذاکرات کے حوالے سے توقعات کو کم رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی فوجی اور انٹیلی جنس حکام کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کا مؤقف بدستور واضح ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اس ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس سروس کا ایجنڈا ایک نکاتی ہے، دہشت گردی کا خاتمہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور سیکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا تھا کہ اسلام آباد ’ٹھوس اور قابلِ تصدیق ضمانتیں‘ چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ شب وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ وفد آج روانہ ہو گیا ہے اور مذاکرات کل صبح شروع ہوں گے، امید ہے کہ افغانستان دانشمندی سے کام لے گا اور خطے میں امن بحال ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>افغانستان نے سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چمن بارڈر سے بلااشتعال فائرنگ کی، جس کا سیکیورٹی فورسز نے مؤثر اور ذمہ دارانہ جواب دیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب اسلام آباد اور کابل کے درمیان استنبول میں مذاکرات جاری ہیں تاکہ گزشتہ ماہ پانچ روزہ سرحدی جھڑپوں کے بعد نافذ کی گئی جنگ بندی میں توسیع کی جاسکے۔</p>
<p>سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وزارتِ اطلاعات و نشریات نے کابل کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا۔</p>
<p>وزارت اطلاعات کا کہنا تھا کہ آج چمن میں پاک۔افغان سرحد پر پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے افغان جانب کی جانب سے پھیلائے گئے دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔</p>
<p>مزید بتایا کہ  فائرنگ افغان سائیڈ سے شروع کی گئی، جس کا ہماری سیکیورٹی فورسز نے فوری، ذمہ دارانہ اور مؤثر انداز میں جواب دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MoIB_Official/status/1986469909438796083'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MoIB_Official/status/1986469909438796083"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستانی فورسز کی ذمہ دارانہ کارروائی کے باعث صورتِ حال پر قابو پا لیا گیا اور جنگ بندی برقرار ہے۔</p>
<p>مزید بتایا کہ  پاکستان جاری مذاکرات کے لیے پرعزم ہے اور افغان حکام سے اسی جذبے کے تحت جواب کی توقع رکھتا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان تیسرے دور کے حتمی مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔</p>
<p>سفارتی ذرائع نے بتایا تھا کہ مذاکرات کا آغاز استنبول کے مقامی ہوٹل میں ہوا، دونوں ملکوں کے وفود مذاکرات کے لیے مقامی ہوٹل پہنچے، پاکستانی وفد مشیر قومی سلامتی اور ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کی سربراہی میں ہوٹل پہنچا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273349/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273349"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ذرائع کا کہنا تھا کہ افغان وفد ملا عبدالحق واثق کی سربراہی میں مقامی ہوٹل پہنچا، مذاکرات ثالثوں کی موجودگی میں ہو رہے ہیں۔</p>
<p>پاکستانی وفد سینئر فوجی، انٹیلی جنس، اور بیوروکریسی کے نمائندوں پر مشتمل ہے۔</p>
<p>قبل ازیں ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک ثالث ملک کے سفارت کار نے ’ڈان‘ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ دونوں فریق گزشتہ دور میں طے پانے والے وعدوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیں گے اور گزشتہ ہفتے اصولی طور پر طے پانے والے نگرانی اور تصدیق کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کی کوشش کریں گے۔</p>
<p>گزشتہ دور کے اختتام پر ترکیہ کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ’تمام فریقین نے جنگ بندی کے تسلسل‘ اور ’امن کے قیام کو یقینی بنانے اور خلاف ورزی کرنے والے فریق پر جرمانہ عائد کرنے کے لیے ایک نگرانی اور تصدیقی نظام کے قیام‘ پر اتفاق کیا ہے۔</p>
<p>اعلامیے میں مزید کہا گیا تھا کہ ’دونوں جانب کے اعلیٰ نمائندے‘ 6 نومبر کو استنبول میں دوبارہ ملاقات کریں گے تاکہ عملدرآمد پر بات چیت کی جا سکے۔</p>
<p>اگرچہ گزشتہ دور میں ایک عبوری معاہدہ طے پایا تھا، تاہم دونوں ممالک کے حکام نے آئندہ مذاکرات کے حوالے سے توقعات کو کم رکھا ہے۔</p>
<p>پاکستانی فوجی اور انٹیلی جنس حکام کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کا مؤقف بدستور واضح ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔</p>
<p>فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اس ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس سروس کا ایجنڈا ایک نکاتی ہے، دہشت گردی کا خاتمہ۔</p>
<p>ایک اور سیکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا تھا کہ اسلام آباد ’ٹھوس اور قابلِ تصدیق ضمانتیں‘ چاہتا ہے۔</p>
<p>گزشتہ شب وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ وفد آج روانہ ہو گیا ہے اور مذاکرات کل صبح شروع ہوں گے، امید ہے کہ افغانستان دانشمندی سے کام لے گا اور خطے میں امن بحال ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273369</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Nov 2025 22:35:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/06222412bc4f307.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/06222412bc4f307.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو:
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
